اسیرانِ مذہب

پاکستان کا نام زبان پر آتے ہی ایک ایسے ملک کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے جہاں اسلام کا شیدائی اور مذہبی طبقہ اسلام کے نام پر ہر وقت جان نچھاور کرنے کو تیار رہتا ہے۔کچھ تو ایسے بھی یارانِ مذہب ہیں جو اس مملکتِ خداد کو اسلام کا قلعہ سمجھتے ہیں۔ دنیا میں جہاں کہیں مسلمانوں کے مسائل ہوں۔ یہاں کاجذبہء ایمانی سے لبریز مذہبی طبقہ بن بلائے مہمان کی طرح اس میں کودنے کو بیقرار رہتاہے۔مذہب کے معنی سے بے خبر جذباتی نوجوانوں کی ایک کھیپ کسی بھی موقع پر خدا کے نام پر جنت کی آس میں خدا کے بندوں کوحکمِ قائد پرسفرِ آخرت پر بھیجنے کو عین ایمان سمجھتی ہے ۔یوں کہئے کہ مذہب کے حوالے سے مملکتِ خداداد میں فکر و شعور سے عاری سہی پر جان نثاروں کی کمی نہیں۔

ایک مسلمان کے لئے یہ خوشی کا مقام ہے۔ کہ ملک میں دینی مدارس کا جال بچھا ہوا ہے۔ قال اللہ اور قال الرسول کی صدائیں ہر سمت سے بلند ہوتی ہیں۔ علماء ہر گاؤں اور ہر محلے میں اپنی مذہبی رنگ کے ساتھ عوام الناس کو دعوتِ دین دیتے نظر آتے ہیں۔مساجد سے اللہ اکبر کی صدائیں بلند ہوتی ہیں۔ اور کچھ تو ملک میں اسلامی انقلاب کے پر جوش نعروں اور دلفریب منشور کے ساتھ پارلیمنٹ ہاؤس کی شان بھی بڑھاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

یقیناًاللہ و رسول سے محبت کے دعویدار کے لئے یہ سب مناظر قابلِ فخر ہیں اور ہونے بھی چاہئے کیونکہ اس ملک کے حصول کا مقصد بھی تو پاکستان کا مطلب کیا؟؟ لا الہ الااللہ تھا لیکن حقیقت شناسی کیساتھ اس ظاہری مذہبی رنگ و جوش کے ساتھ جب میں معاشرے کی حالتِ زار دیکھتا ہوں۔دین سے بے خبر دو وقت کی روٹی کی تلاش میں سرگرداں مزدور پر جب نظر پڑتی ہے۔ جب معاشرے کے مٹتے اسلامی اور قومی اقدار کیساتھ مغربی تہذیب کے جوانوں پر چڑھتے رنگ دیکھتا ہوں۔ ایک ہی کلمہ پڑھنے والوں کو فقط مسلک اور سوچ میں اختلاف کی بنیاد پر سرِعام ایک دوسرے کے خون سے اپنے ہاتھ رنگتے ہوئے اور قومیت اور لسانیت کی بنیاد پر نفرتوں اور تعصب سے آلودہ فضا دیکھتا ہوں۔دینِ قیم کا مطالعہ، قرآن کی آفاقیت اورنبیﷺ کی عملی زندگی کا مطالعہ اور موجودہ مذہبی ماحول ایک عجیب اُلجھن میں ڈال دیتی ہے۔ ذہن میں ہزاروں سوال اٹھتے ہیں۔

پچھلے ساٹھ سال سے ہم مذہب کے ہر رنگ وفکر، ہر نعرے اور سوچ ، ہر مسلک اور فرقے کی یہاں ایک طوفانِ مسلسل دیکھتے ہیں ۔ علماء و مدارس کی تعداد میں آئے روز بے تحاشہ اضافہ،اسلام اور دین کے نام پر نت نئے انداز اور خوش رنگ عبادتیں،الیکٹرانک میڈیا اور سوشل میڈیا پر مختلف مکاتبِ فکر کے علماء کی روح پرور تقریریں اور بیانات اوراغیار کے رسومات اور مذہبی نمائشوں کے مقابلے میں ہمارے پرُجوش مسلمانوں کے مذہبی تہواروں کے نئے انداز کے باوجود کیوں قوم دین سے دور ہوتی جارہی ہے۔ کیوں مذہبی طبقے کا وقار اور عزت معاشرے مین بڑھنے کی بجائے رو بزوال ہے؟؟ کیوں دینِ اسلام کے نام پر مر مٹنے والوں کی موجودگی میں اس ملک میں سب سے زیادہ یہی دین قابلِ رحم ہے؟؟ کیوں ساٹھ سالوں میں دینِ اسلام پر جان دینے والی قوم ایک شیخ الہند محمودالحسن ، محمد علی جوہر یا ایک سید سلیمان ندوی پیدا نہ کرسکی؟؟؟ کیا میں یہ سمجھوں کہ اب قحط ا لرجال ہوگیا ہے؟؟ نہیں ایسا ہر گز نہیں ہے۔

شاید مذہبی رہنمااسلام کے عالمگیر فلسفہء انسانیت سے بیخبر ہوگئے ہیں یاپھر مذہب کی بھاگ ڈور ان لوگوں کے ہاتھ چلی گئی جو انسانی اور بین لاقوامی سوچ تو دور کی بات، قومی اور ملکی سوچ کے بھی حامل نہ رہے۔ بلکہ اپنے مسالک اور مذاہب ، فرقوں اور جماعتوں اور اپنے عقیدے اور سطحی سوچ کے اسیر ہیں۔انکی زندگی قرآن کے آفاقی فکر و شعور کو اجاگر کرنے کی بجائے ایک دوسرے کو غلط ثابت کرنے میں گزرجاتی ہے۔انکے سائے میں تربیت یافتہ نوجوان دینِ قیم سے دور ایک مخصوص سوچ کے اسیر ہوتے ہیں۔ دعوتِ حق کیا ہے یہ شاید کبھی انکو بتایا ہی نہیں گیا۔ جسمیں موعظت اور حکمت ہے نہ کہ فتوے اور نفرت۔۔ جہاں محبت اور نرمی ہے ضد اور تکرار نہیں جہاں اگر حق دوسرے کے پاس نظر آئے تو مقابلہ اور جھگڑے کی بجائے حق کو تسلیم کیا جاتا ہے۔

قرآن پاک کتابِ انسانیت اور دینِ اسلام نظامِ انسانیت ہے ۔ کتابی حد تک ہر ایک یہی راگ الاپتا ہے پر عملی طور پر کسی نے اس انٹر نیشنل انقلاب کے داعی کتاب و دین کو دیوبندیت میں تو کسی نے بریلویت میں، کسی نے سلفیت میں تو کسی نے وہابیت میں مقید کر لیا۔اور اس اساس پر تیار ہونے والے نوجوانوں کی کھیپ نہ تو اقبال کے شاہین بن سکے اور نہ ہی شیخ الہند کے سپاہی۔

مذہبیت کے اس آگ میں جلنے والے نہ تو فکرِ شاہ ولی اللہ .. فکّ کلُ نظام… کے داعی رہے اور نہ ہی ان میں سے کوئی محمد علی جناح کے فکر کا امین بن سکا۔ یہاں ہر مسلک اور فرقے کا نوجوان ذہنی طور پر شخصی سوچ کا ترجمان ہے۔ اپنی فکر اور مذہب کا اسیر ہے۔جبھی تو ہمارے ہاں دین کے کام کو بھی جھوٹ اور ضد کا کاروبار بنا دیاگیا ہے۔ ہم دنیاوی مفاد کی طرح دین کے معاملے میں بھی اپنی جیت کے لئے مخالف سے لڑنے جھگڑنے پر اُتر آتے ہیں قطع نظر کہ حق کس کے ساتھ ہے۔ہمارے عقیدے ہماری انانیت اور مفاد کے ترجمان ہوگئے ہیں نہ کہ یہ اسلام کے عالمگیریت اور صداقت کے غماذ۔۔ جبھی تو ہمیں سچ و صداقت اپنے علاوہ کسی اور کے پاس نظر نہیں آتا۔ ورنہ حق و صداقت کی تلاش میں آپس میں لڑائی کیسے؟؟؟ میں نے کبھی پروانوں کو شمع کے اردگرد لڑتے ہوئے نہیں بلکہ ہمیشہ جلتے ہوئے دیکھاہے۔

ان مذہبی اسیروں نے اسلام کے عالمگیریت کو کہیں دفنا دیا ہے۔ قرآن کے بین الاقوامی سوچ و فکر کے یہ عملی منکر ہیں جبھی تو ایک ملک اور ایک قوم کے اندر اپنی مخالف سوچ کے حاملین کو برداشت کی قوت ان میں نہیں۔ ہر گلی اور ہر کوچے میں دین کا نام اور اذانوں کی صدائیں ۔۔۔پر معاشرے میں دین کا عملا وجود نہ ہونے کے برابر۔ مذہبی طبقہ آہستہ آہستہ قوم سے دور ایک الگ طبقہ بنتا جارہا ہے۔اور شاید یہی آج کی تلخ حقیقت ہے۔کیونکہ
نبیﷺ کے نام سے دنیا میری منور ہے
عمل نبیﷺ کا نہ جانے کہاں میں چھوڑ آیا

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے