پاک افغان تنازعے میں شہید کون؟؟

یکم نومبر 2013ءکو، شمالی وزیرستان کی فضاﺅں میں امریکی ڈرون طیارہ محوِ پرواز تھا۔ اس بارودی ڈرون کا نشانہ ایک جیپ تھی جس میں پانچ سے چھ افراد سوار تھے۔ کچھ ہی لمحوں بعد طیارے نے گاڑی پر دو ” ہیل فائر میزائل ” داغے، میزائل لگنے سے گاڑی مکمل طور پر تباہ ہوئی اور اس میں موجود افراد کے پرخچے اڑے۔اس ڈرون حملے کے وقت پاکستانی حکومت اور ٹی ٹی پی کے درمیان مذاکرات جاری تھے۔ جن کا اختتام حکیم اللہ محسود کی اس ڈرون حملے میں موت سے ہوا۔اسی اثناءمیں 9 نومبر کو رسلیم صافی کا پروگرام نشرہوا جس میں سابق امیر جماعتِ اسلامی منور حسن نے حکیم اللہ محسود کو شہید کا لقب دیا تو ان کے اس بیان کو اگلے چند ہفتوں تک موضوعِ بحث لایا جاتا رہا اور منور صاحب جگہ جگہ اس پر وضاحتیں دیتے نظر آئے۔” الغرض یہ کہ لفظ شہید کسی کی ذاتی ملکیت نہیں کہ جب چاہا جہاں چاہا استعمال کر دیا "جملہ قابلِ غور ہے،ذہن میں رکھیے گا۔

رواں ماہ 13 جون کو ، پاک افغان سرحد تورخم کے علاقے میں تورخم گیٹ کے تنازعے پر پاکستانی اور افغان فورسز میں جھڑپ ہوئی جس میں پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی سمیت متعدد پاکستانی فوجی اور افغان بارڈر پولیس کے اہلکارمارے گئے ۔ دونوں ممالک کے فوجیوں کے خاندان غمزدہ،مارے جانے والوں کے بچے یتیم، دونوں کی مسلمان بیویاں بیوہ، دونوں کے جنازے فوجی اعزاز سے دفن ہوئے اور دونوں کی قبر کی تختی پہ بڑے اور صاف الفاظ میں شہید لکھا گیا۔دونوں اسلامی ملکوں کا میڈیا اپنے اپنے شہید کی بہادری کی داد دیتا نظر آیا، مگر میڈیا اور ادارے یہ بات بھول گئے کہ، ” لفظ شہید کسی کی ذاتی ملکیت نہیں کی جب چاہے استعمال کر لیا جائے”۔ شہید تو وہ ہوتا ہے جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہوئے جان دے، یہ سبز، سرخ اور نیلے جھنڈوں کے لیے لڑتے ہوئے خون گرانے سے شہید کیسے ہوا جاسکتا ہے ؟
میں سب سے پوچھتا ہوں ،ارے بھائی،،! ہو کیا گیا ہے تم لوگوں کو؟ کس بات کا فخر ہے؟ اپنے ہرے یا سرخ جھنڈے کا؟یا اس بات کا کہ اللہ پاک نے اس ملک میں پیدا کردیا ، یا ا±س امداد کا جو دونوں ملک امریکہ و مغرب سے لیتے ہیں ؟ جواب ملتا ہے۔ افغانی توہیں ہی نمک حرام۔ ہم نے انکومشکل وقت میں اپنی سرزمین پر جگہ دی اور آج یہ ہمیں آنکھیں دکھا رہے ہیں، اب انکو سبق سکھانا ہی پڑے گا۔میں پوچھتا ہوںکیسا سبق ؟اور کیسی نمک حرامی ؟ وہی جوسابق صدر پرویز مشرف نے سب سے پہلے پاکستان کا نعرہ لگا کر کیا تھا ؟ اور امریکہ نے پاکستانی سرزمین سے ہو کر افغانستان پہ حملہ کیا اور آج امریکہ اور بھارت ملکرافغان سرزمین سے پاکستان پر حملے کروا رہے ہیں، اگرپرویز مشرف کے لیے سب سے پہلے پاکستان تھا تو اشرف عنی کے لیے سب سے پہلے افغانستان ہونافطری سی سوچ ہے۔ آپ اس سے کیسے اختلاف کرسکتے ہیں ؟

مجھے بتائیں کیوں لگانے دیں وہ گیٹ ؟ کیوں نقصان کریں وہ اپنا ؟ اگر پاکستانیوں کیلئے پاکستان گریٹ ہوسکتا ہے توافغانیوں کیلئے افغانستان کیوں نہیں ؟ کیا وطنیت صرف ایک ملک کے لوگوں تک محدود ہوجاتی ہے ؟مجھے سمجھ نہیں آرہی کہ اگر اسلام نے مسلمان پر مسلمان کا خون حرام قرار دیا ہے تواطراف کے کلمہ گو مسلمان ایک دوسرے کی جان لے کر شہید کیسے کہلا سکتے ہیں؟ ان سوالات کے جوابات کی تلاش الگ مگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو ماضی قریب میں 27 مئی 2007 سے لے کر اب تک پاکستان اور افغانستان کی افواج کی 15 کے قریب بڑی جھڑپیں ہوئیں جن میں 19 پاکستانی اور 64 افغان فوجی اہلکار جان سے گئے یعنی دونوں ہی اپنے ہم وطنوں کیلئے ” شہید ” قرار دیئے گئے ۔ امریکہ کے ساتھ ڈبل گیم کرتے پاکستان خود اسکا شکار ہوگیا ہے۔ امریکہ آیا تو اسامہ کے لیے تھا ، افغان طالبان سے اسکو کوئی غرض نہ تھی مگر القاعدہ کی کمر ٹوٹ جانے کی باوجود وہ سانپ بن کر اب تک بیٹھا ہے اور خطے کو بدامنی کی آگ میں جلاتا جا رہا ہے۔شاید اس کا مقصد اپنی اسلحہ ساز فیکٹریوں کے کاروبار کومزید دوام بخشنا ہو۔

دوسرا رخ دیکھیں تو القاعدہ کے زیرِ حراست قرار دیئے جانے والے علی حیدر گیلانی کے مطابق امریکہ ،پاکستانی طالبان پر معلومات کے باوجود ڈرون حملہ نہیں کرتا مگر القاعدہ اور حقانی گروپ امریکی ڈرون حملے کا پہلا نشانہ ہوتے ہیں۔ ڈرون حملے ، فرقہ ورانہ فسادات ، بھارت سے مل کر پاکستان میں دہشتگری اور اب افغان حکومت سے پاکستان مخالف اقدامات اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امریکہ کی موجودگی ہی اس پورے خطے کے مسائل کی اصل جڑ ہے اور اگر ایسے کشیدہ حالات منصوبہ بندی سے پیدانہ کیے گئے ہوتے تو آج یہ ریجن معاشی دوڑ میں یورپ کے مقابلے میں ہوتا۔ آج جب پاکستان اور چین ،مشترکہ اقتصادی راہداری کو عملی جامہ پہنانے میں مصروف ہیں تو بھارت، افغانستان، ایران، امریکہ اور کچھ عرب ممالک اس راہداری سے نالاں نظر آتے ہیں، منصوبے کے خلاف سازشوں میں مصروفِ عمل ہیں۔ کیونکہ اگر یہ بندرگاہ اور روٹ فنگشنل ہو گیا تو تمام پڑوسی ممالک کے پیٹ پر تو لات پڑنے کا اندیشہ درست ثابت ہوگا۔

ادھرہماراالمیہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کے پاس ان حالات سے نپٹنے کے لیے کوئی واضح خارجہ پالیسی ہی نظر نہیں آتی۔ بھارت نے نیوکلیر سپلائی گروپ کا ممبر بننے کے لیے لابنگ مکمل کر لی ہے اور پاکستان یہ سوچنے میں مصروف ہے کہ کوئٹہ کے قریب ڈرون حملے میں افغان طالبان کے امیر کی ہلاکت پر وہ کیا ردِعمل دے یا پھر امریکہ سے اپنے 8 ایف 16 طیارے نہ ملنے پر احتجاج کیسے ریکارڈ کروائے۔اگر ایسے ہی حالات رہے تو اکنامک کاریڈور کی کہانی کتاب کھلنے سے پہلے ہی بند ہو سکتی ہے۔

ویسے ایک اور بات سوچنے والی ہے ، اگرمختلف ممالک میں بسنے والے مسلمان، مسلمانوں کو ہی اپنے مفادات کیلئے لڑتے ہوئے مارے جائیں اور شہید کہلائیں تو یہ خدشہ بھی خارج از امکان نہیں کیا جا سکتا کہ امریکہ میں ان کے اپنے مسلمان شہری عمر متین کے ہاتھوں 50سے زائدہم جنس پرست مارے گئے ،کیا عمر متین کی ہم جنس پرستوں سے لڑتے ہوئے موت کو اس کا خاندان شہید قرارنہیں دے سکتا؟

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے