یوم علی اور حضرت علی (کرم اللہ وجہ) ؟

اکیس رمضان المبارک حضرت علی (کرم اللہ وجہ) کا یوم شہادت ہے جو کو تمام مسلمان ہی کیا، غیر مسلم بھی نہایت عقیدت کیساتھ مناتے ہیں،مگر افسو س کی بات یہ ہے کہ ہم نے اس عظیم شہادت کے پیچھے چھپے درس کو نہیں سمجھا اور شاید اس بارے میں غور فرمانے کیلئے ابھی تیار نہیں ۔ حضرت علی (کرم اللہ وجہ) کی ذات کو مکمل طور پر سمجھنا ایک ناممکن بات ہے مگر اس کا یہ مقصد نہیں جس انسان کی سمجھ میں جتنا آرہا ہے وہ اس سے فیض حاصل نہ کرے۔

میرا آپ سے سوال ہے کہ حضرت علی (کرم اللہ وجہ) کے دور میں جو حالات تھے کیا آج کے حالات اس سے بھی زیادہ مشکل ہیں ،،،،کہ ان کو اپنا امام، خلیفہ یا رہنماء ماننے والے ان پر قابو نہیں پاسکتے۔ تو مجھے اس کا جواب ملتا ہے کہ شاید ہم نام نہاد ان کا نام لینے والے ہیں اگر ہم نے ان کی ایک صفت کو بھی اپنایا ہوتا تو مسلم امہ کی حالت یہ نہ ہوتی جو آج ہے ۔تاہم مولا علی (کرم اللہ وجہ) کی صفات کوا پنانے سے پہلے ان کے بارے میں جاننا زیادہ ضروری ہے۔

میں نے تو بس اتنا جانا ہے کہ مسلمانوں میں اعتماد کا یہ عالم ہو کہ کوفہ سےآنے والا ایک گروہ خلیفہ وقت کو مسجد کی دیورا پھلانگ کے شہید کر دے، شام سے اٹھنے والی بغاوت جنگ صفین میں بہتر ہزار کے قریب مسلمانوں کے خون بہنے کا باعث بنے، ام المومین کو لوگ بہکا کر خلیفہ وقت کے مقابل میدان جنگ میں لے آئیں، مسلمان ایک دوسرے پر تیغ چلائیں، خوارج ملک میں فساد کریں، مسلم آبادیوں پر حملے کیے جائیں، تو ایسے مشکل ترین حالات میں جو خلافت کا منسب سنبھالتا ہے اور جو ان کا نجات دہندہ بنتا ہے تو اس کو حضرت علی (کرم اللہ وجہ) کہتے ہیں۔

میں پوچھتی ہو ں کہ اب حالات کیسے ہیں کیا مسلم ممالک ایک دوسرے پر اعتماد کرتے ہیں ؟ کیا پاک افغان سرحد پر مسلمانوں کا خون نہیں بہا، کیا ایران کے راستے آنے والے راء کے ایجنٹس پر پاکستان کو تشویش نہیں ہے اور کیا ایران بھی اسی طرح کے الزامات پاکستان پر نہیں لگاتا۔ کیا ہمارے ملسم ممالک کا معاشی مستقبل یا مفاد ہمارے دشمنوں کے ساتھ نہیں ہے کیا آج بھی خوارج ملسمان مردوں، خواتین اور معصوم بچوں کا نا حق خون نہیں بہا رہے؟ کیا ہم نے اپنے رہنماؤں سے کچھ سکیھا ہے کہ وہ ان حالات کا مقابلہ کیسے کرتے تھے یا پھر ایک اور یوم علی (کرم اللہ وجہ) گزر جائے گا اور ہم اپنی سمت کا تعین ہی نہیں کر سکیں گے؟

اکیس رمضان کو نماز پڑھتے ہوئے مسجد میں سجدے کی حالت میں عبد الرحمٰن ابن ملجم کی زہر آلود تلوار کے لگنے والے زخم کی وجہ سے شہادت ہوئی۔ انیس رمضان کو جب اس شخص نے مولا پر وار کیا تو اس کو پکڑ لیا گیا تھا۔ حضرت علی (کرم اللہ وجہ) نے اپنے بیٹو کو ہدایت کی اس کو میری شہادت سے پہلے کوئی ایزاء نہیں دینا، قید میں اس کے کھانے اور پانی کا خاص خیال رکھنا اور میرے اس دنیا سے کوچ کرنے کے بعد اس کا فیصلہ شریعت کی روشنی میں کرنا۔ یہ وہ درس تھا کہ حضرت علی (کرم اللہ وجہ) نے مسلم امہ کو دیا کہ آ پ کا بد ترین دشمن جب وہ آپ کی قید میں ہے تواس کے ساتھ بھی بہتر سلوک کرنا ہے۔

حضرت علی (کرم اللہ وجہ) کی زندگی کسی ایک پہلو کو ہم اپنا لیں تو ہماری دنیا و آخرت سنور سکتی ہے۔ بیت المال یا حکومتی خزانہ کا استعمال کیسے کر نا ہے، ، میدان جنگ میں جب دشمن کا مقابلہ ہو تو دشمن لرز جائے، منبر پر آئیں تو منہ سے صرف کلمہ حق ادا ہو، گزشتہ دور خلافت میں خلیفہ وقت کو مشوہ بھی دیا تو امانت سمجھ کر، عدل کا معاملہ آیا تو انصاف کے تمام تقاضا پورے کیے، رزق حلال کیلئے یہودی کے باغ میں بھی مزدوری کی تو ایمانداری سے، بطور ایک شوہر، باپ، بھائی، بیٹے اور دوست کا کردار کیساہو ۔

اب ذرا غور کریں ہم کہاں کھڑے ہیں؟؟؟؟؟ ہمارا عدالت کا نظام کیسا ہے؟کیا ہم خوارج سے محفوظ ہیں؟ کیا حکومتی خزانہ کا استعمال درست ہوتا ہے؟ کیا ہم محنت مزدوری کرنے میں عار محسوس کر تے ہیں، کیا ہم ایک دوسرے مسلم ممالک پر اعتماد کرتے ہیں تو وجہ کیا ہے آخر مسلم امہ ہی زوال کا شکار کیوں ہے؟۔۔۔۔۔۔ بس اتنا جان لیجئے کہ علی(کرم اللہ وجہ) کی زندگی کو سمجھنا ہماری بقاء ہے ورنہ ہر دن مسلمانوں کے لئے کربلاء ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے