صنفی برابری

مرد اور عورت معاشرتی گاڑی کے دو پہیوں کے مانند بنائےگئے ہیں ۔ایک کے بغیر دوسرے پہیہ کا چلنا مشکل بلکہ ناممکن ہوجاتا ہیں۔اس لئےہمارےسماجی اورمعاشرتی ڈھانچے روایا ت، رواج ، قانون اور ہماری دین ”اسلام “نے تقسیم کار کی غرض سے مر د اور عورت کو فرائض و ذمہ داریاں تفویض کی ہوئےہیں ۔مرد اور عورت کا احترام اور برابری ہر معاشرے میں اخلاقی ، قانونی اور شرعی طور پر بلا امتیاز طور پر انتظام کیا گیا ہیں ۔

قران میں ارشاد پاک ہے ‎۔ ترجمعہ”ہم نے بنی آدم کو عزت بخشی ہے اور خشکی اور تری میں اُن کو سواری عطا فرمائی ہے اور اُن کو پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا ہے اور اپنی بہت سی مخلوقات پر اُنھیں نمایاں فضیلت دی ہے۔“ ((17.70

اسلام نے عورت کو کثیر الاطراف اور ہمہ جہت طور پر حقوق ، ذمہ داریاں اور وراثت میں حصے دئيے ہیں۔ عورت کو ما ں ،باپ اور شوہر کی ترکہ وراثت میں کثیر الاطراف حصے دیکر مرد کے برابر لانے کی بھر پور کوشش کی گئی ہے ۔مردوں کے نسبت عورتوں میں صنفی کمزوری ،حمل اور دیگر امراض وغیرہ کیوجہ سے Interactive Level کم پائے جاتے ہیں۔ اس لئے عورتوں کوسماجی ذمہ داریوں کے برعکس گھر داری مسائل حل کرنے کی پوری ذمہ داری دی گئی ہیں ۔مثلاً عورتیں بچے پیدا کرکے اُن کی تربیت دیکھ بال اور دودھ پلایا کرتی ہیں ۔کھانا پکاتی ہیں ، گھر کی صفائی ستھرائی،لانڈری، رشتہ داروں کی خبر گیر ی ، غمی خوشی اور بچوں کی ابتدائی کردارکو بنانے وغیرہ میں فرائض سر انجام دیتی ہیں ۔

دوسری طرف مرد اپنے بیوی بچوں کی تربیت اور ماں باپ کی دیکھ بال کیخاطر سارادن معاشی محنت ،مشقت، مزدوری، کاشت کاری، خوف ناک حالات سے بچاو،جنگی اور عام حالات کے دوران روٹی ،کپڑا، چھت وغیرہ فراہم کرنا ،جنگلی جانوروں سے تحفظ یقینی بنانا ،دور دراز جگہوں میں ہجرت کرکے سامان تجارت بغرض تجارت لے جانا،جہاد اور مسافری وغیرہ سرانجام دینے ہوتے ہیں ۔اس کے علاوہ بہترین اخلاق کے حامل مرد اپنے بیویوں کیساتھ اموری خانہ داری میں ہاتھ بٹاتے ہیں اور یا پھردوسری صورت میں کم از کم ذاتی کام خود کرتے ہیں۔ یہ درست ہیں کہ اسلام اور ہماری اخلاقی اقدار اور روایات نے مرد اور عورت کے کام کرنےپر کوئی قدغن نہیں لگائی۔اور یہ بھی درست ہے کہ عورت مرد کے مقابلے میں ہر معاشرتی کام میں یکساں طور حصہ لے سکتی ہیں ۔ ہم دیکھتے ہے کہ کوئی ایسا تخصیصی کام نہیں ہےجو مرد کرسکتا ہو،عورت نہیں۔لیکن ہمارا پدرا نہ معاشرہ Male Dominated Society اس کا متحمل نہیں ہوسکتا کہ مرد ،عورت کو گھرداری کے علاوہ محنت اور مزدوری کی اجازت دے سکے ۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں ،معا شرتی روئیے عورت کی محنت اور مزدوری برداشت کرنے کو تیار نہیں ہیں۔

حالیہ کساد بازاری ،افراط زر ،اور گرانی نے ہمارے مضبوط خاندانی اقدار و روایات کو ہلاکر رکھ دیا ہے۔ جس کی وجہ سے خاندان تباہ و برباد ہوکر بکھر رہے ہیں ۔ پہلے ایک شخص مزدوری کرتا تھا اور سارے گھر کے افراد کھاتے پیتے تھے ۔ اب صورتحا ل يکسر مختلف ہیں۔ گھر میں تمام مرد بلکہ اکثر گھرانوں میں عورتیں بھی کام کرتی ہیں، لیکن اس کے باوجود مسائل حل ہونے کا نام نہیں لیتے ۔ ضرور ت اس امر کی ہے کہ ریاست اور مجموعی معاشرہ جو مختلف مسائل مہنگائی وغیرہ سے بر پیکار ہے، عورت ذات کی محنت اور کام کاج کرنی کی ضرورت پہلے سے زیادہ موجود دکھائی دیتی ہے ۔ اس اعتبار سے عورتوں کے لئے مردوں سے جداگانہ علیحدہ ادارے بنانا اورروزگار کیلئے اس کی صنفی کمزوری کو ملحوظ خاطر رکھ کر مواقع دینا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔تاکہ اس طرح مرد اور عورت ملکی و قومی ترقی میں اپنا کردار اداکر سکیں ۔

دراصل شرعی اورقانونی امور کے علاوہ ہمارا معاشرہ رواج،دود،دستور، اقدار اور روایات کا پابندہ ہے۔ اس لئے مرد اور عورت کو مختلف ذمہ داریاں سونپی گئی ہیں۔ دونوں اپنے ذمہ داریوں اور مسائل حل کرنے میں آزاد اور خود مختار ہیں ۔

شاعر ی میں عورت کوپھول اور نرم و نازک جیسے القابات دیکر تشبیہ دینے کی کوشش کی جاتی ہیں۔ یہ صرف شاعری کی حد تک ہے۔ حالانکہ مرد اور عورت کی ضروریات ،حتی کہ خلیے ، ہڈیاں،سماعت اور بصارت وغیرہ ایک جیسی ہوتی ہیں ۔ یہ درست ہے کہ مرد اور عورت جنسی اعتبار سے مختلف ہوتے ہیں، لیکن دونوں کوبھوک اور پیاس لگتی ہے۔دونوں کو درد محسوس ہوتا ہے ، رگوں میں دونوں کے خون دوڑتا ہے، دونوں کو خواب بھی ایک طرح کی آتی ہے ۔

ریاست خاندانوں اور معاشرتی انتشار کا ذمہ دار ہوتی ہے ۔ ریاست بنائے ہی اس لئے جاتی ہیں کہ جہاں پر ریاستی اداروں کے سائے تلےقانون اور آئین کےمطابق شہریوں کے تمام تر حقوق اورمسائل کيلئے حل نکال کر غربت اور گرانی کا سد باب کیا جائے،لیکن بدقسمتی سے آزادی سے لیکر اب تک ریاست اپنی بنیادی ذمہ داریوں میں ناکام ہے ۔ہم اپنے موضوع کیطرف واپس جاتے ہوئے دیکھتے ہیں کہ کیا عورتوں میں استعداد کار کیمطابق ذمہ داریاں تفویض کئی گئی ہیں؟ اس کے علاوہ کيا مرد اور عورت صنفی لحاظ سےبرابر ہیں؟ اس اجمال کی تفصیل کچھ اسطرح ہیں کہ مرد اور عورت کو نیکی وبدی کرنے پر یکساں سزائیں اور انعامات سےدنيوی و اُخروی زندگی میں نوازگیا ہے ۔

قران میں جو سزائیں قتل ،چوری ،زنا وغیرہ پر دی گئی ہیں ،وہ یکساں طور اور برابر ی کی سطح پر دی گئی ہیں ۔قرآن مجید فرقان حمید میں ارشاد پاک ہے۔ترجمعہ’’جو شخص بھی کوئی برائی کرے گا تو اُس کو اُس کے برابر ہی بدلہ دیا جائے گا اور جو کوئی نیک کام کرے گا ،خواہ وہ مرد ہو یا عورت اور ہو وہ مومن تو یہی لوگ ہیں جو جنت میں داخل ہوں گے اور اُس میں اِن کو بے حد و حساب رزق دیا جائے گا۔‘‘ (40.40)’’اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں ، پھر چار گواہ نہ لائیں تو اُن کو اسّی کوڑے مارو اور اُن کی گواہی پھر کبھی قبول نہ کرو اور یہی لوگ فاسق ہیں ، لیکن جو اِس کے بعد توبہ و اصلاح کر لیں تو اللہ (اُن کے لیے) غفورو رحیم ہے۔24.54)‘‘ ) ’’اور تم (قرض کی دستاویز پر) اپنے مردوں میں سے دو آدمیوں کی گواہی کرالو ۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں سہی، تمھارے پسندیدہ لوگوں میں سے۔ دوعورتیں اِس لیے کہ اگر ایک الجھے تو دوسری یاد دلا دے۔)‘‘ 2.282 )۔

(میاں اور بیوی کے تعلق میں بھی اِسی اصول کے مطابق) مرد عورتوں کے سربراہ بنائے گئے ہیں، اِس لیے کہ اللہ نے ایک کو دوسرے پر فضیلت بخشی ہے اور اِس لیے کہ اُنھوں نے اپنے مال خرچ کئے ہیں۔ پھر جو نیک عورتیں ہیں، وہ (اپنے شوہروں کی) فرماں بردار ہوتی ہیں، رازوں کی حفاظت کرتی ہیں، اِس بنا پر کہ اللہ نے بھی رازوں کی حفاظت کی ہے۔ اور (اِسی اصول پر تم کو حق دیا گیا ہے کہ) جن عورتوں سے تمھیں سرکشی کا اندیشہ ہو، اُنھیں نصیحت کرو اور اُن کے بستروں پر اُنھیں تنہا چھوڑ دو اور (اِس پر بھی نہ مانیں تو) اُنھیں سزا دو۔ پھر اگر وہ تمھاری اطاعت کا رویہ اختیار کرلیں تو اُن پر الزام کی راہ نہ ڈھونڈو۔ بے شک، اللہ بہت بلند ہے، وہ بہت بڑا ہے۔( 4.34) ’’ترجمعہ جاوید احمد غامدی صاحب ‘‘۔

واقعاتی اور دستاویزی شہادت میں مختلف قسم کی شہادت مطلوب ہوتی ہیں یعنی اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں ہے کہ گواہی کیلئے جو قانونی اور شرعی نصاب دیا گیا ہے، وہ مختلف جرائم میں یکساں طور پر کام آسکے۔ مثلاً چوری ،قتل،زنا وغیرہ میں طبی رپورٹ،پوسٹ مارٹم،انگلیوں کے نشانات،مجرم کا اقرار، فورنسزیک شہادت ، خون آلود کپڑے ،آلہ قتل ،ڈی این اے،وغیرہ یاکوئی دوسری شہادت ہی مجرم ٹھرنے کیلئے کافی ثبوت ہوتی ہیں۔ جبکہ اس میں چاہے وہ مرد ہو یا عورت اس کی چشم دید گواہی اور دوسری شہادت کو آیت بالا پر محمول نہیں کیا جاسکتا ۔آیت مذکورہ صرف قرض کیلئے ہے اور جیسا کہ آیت کے سطحی مفہوم سے واضح ہوتا ہے کہ جب قرض دینے لگوں تو دو ۔مرد اور ایک مرد کی صورت میں دو عورتیں يا جتنے بھی ثقہ معتبر اور ایمان دار گواہ برائے ثبوت لائیں جائیں۔ تاکہ بھول چوک، ابہام اور شکوک ہونے کی صورت میں ایک عورت دوسری عورت کو یاد دلاسکے ۔اب آپ کوسمجھ آگئی ہوگی کہ کیوں ایک مرد اور دو عورتوں کی گواہی دستاویزی ثبوت کے لئے درکار ہوتی ہے ؟جیسا کہ ہم عرض کرچکے ہےکہ عورت کی صنفی ذمہ داریوں اور کمزوريوں کے تحت عدالت میں با حیا عورت آسانی کیساتھ شہادت نہیں دے سکتی اس لئے دو عورتوں کی گواہی کا کہا گیا ہے ۔

گھر کی مثال ریاست کی سی ہوتی ہے ۔اس لئے ریاست کا حکمران سربراہ اور نگران بوجہ مدافعت اور محافظ کے ہوتا ہے ۔یہ بھی اپنی جگہ درست ہے کہ عورت گھر کی اور خاوند کے حقوق کی رازداراورنگہبان ہوتے ہوئے ہر چیز کا خیال رکھتی ہیں ۔میرے خیال کے مطابق مرد کو صرف اس وجہ سے سرپرست مقرر کیا گیا ہیں کہ وہ گھر والوں کا کفیل ،محافظ ،تولیتی اور دیکھ بال کرنے والا ہوتا ہے ۔ گھر کی ذمہ داری محنت اور مزدوری کرکے اپنے کنبےکے لئے رزق ِحلال کی کوشش کرتا ہے ۔ اسطرح عورت محنت مزدوری ، کسب معاش اور وسائل کے ذمہ داریاں فراہم کرنے سے آزاد ہو جاتی ہے ۔ مرد سرپرست اس نسبت سے بھی ہے کہ وہ عورت کی تعلیم و تربیت پر توجہ دیتا ہےاور ان کی معاملات کی سرپرستی اورنگرانی کرتا ہے۔مرد اور عورت کی فضیلت کے نسبت متذکرہ آیات میں یہ فرمایا گیا ہے کہ ’’بعض کو بعض پر فضیلت دی گئی ہیں۔‘‘ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت اور مرد مثل ایک جسم کے ہیں۔ اگر جسم میں سر اور دل کو فضیلت حاصل ہے تو ہاتھ اور پاوں کو نظراندازنہیں کیاجاسکتا ۔ اس لئے ہر اعضا کی اپنی حیثیت اور فضیلت سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔لیکن جب دل اور ہاتھ کے بابت ایک کو بوجہ زندگی چن لیا جائے، تو دل کی حیثیت ہاتھ سے مسلم دکھائی دیتا ہے ۔ اس ساری بحث کا مقصد یہ ہے کہ مرد اور عورت کو اسلام، قران و شریعت ،قانون اور ہمارے معاشرے میں مختلف ذمہ داریاں دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ دونوں صنف کو واجب التکریم اور قابل عزت گردانا گیاہے ۔عزت اور شرف خالصتًاتقوی سےمشروط ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے