حکومت نے دینی مدارس کا الحاق شروع کر دیا

سبوخ سید  ۔ ۔ ۔

اسلام آباد

۔ ۔ ۔ ۔ ۔

madrassa1

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے غیر سرکاری دینی مدارس کا الحاق شروع کر دیا ہے

پاکستان اسلامک ایجوکیشن کمیشن نام کی تبدیلی بھی جلد متوقع ہے

طویل عرصہ بعد حکومت پاکستان کا تعلیمی ادار ے” پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ“ نے ملک  بھر میں موجود غیر سرکاری دینی مدارس کو بورڈ کے ساتھ الحاق کی پیشکش کی ہے ۔

دوسری جانب حکومت ” پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ“ کا نام بدل کر پاکستان اسلامک ایجوکیشن کمیشن نام رکھنا چاہتی ہے ۔

سابق وفاقی وزیر اور عالم اسلام کی مایہ ناز علمی شخصیت مرحوم  ڈاکٹر محمود احمد غازی نے مدرسہ ایجوکیشن بورڈ تجویز اور تشکیل کیا تھا ۔ اس کا قیام  2001 میں صدارتی آرڈینینس کے زریعے عمل میں لایا گیا ۔

بورڈ کے  بنیادی مقاصد میں اہم بات یہ تھی کہ اس حکومتی تعلیمی بورڈ کے ساتھ ملک بھر کے دینی مدارس کا الحاق کیا جائے گا ۔

بورڈ کی حیثیت  ریگولیٹری باڈی کی ہوگی

  دینی مدارس میں علماٗ کی مشاورت سے ایک ہی نصاب پڑھایا جائے گا ۔

اور مدارس کے طلبہ کا امتحان لیکر ان کو ہائر ایجوکیشن کمیشن کی جانب سے سند بھی جاری کی جائے گی تاکہ دینی مدارس کے طلبہ کو ملازمت کے حصول میں مشکلات پر قابو پایا جا سکے۔

مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے خلاف پاکستان کے تمام مدارس کی تنظیمات نے اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ بنانے کا اعلان کیا تاہم بعد میں مسلکی اختلافات کی بنیاد پر لفظ دینیہ حذف کر لیا گیا ۔

اتحاد تنظیمات نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ

حکومت دینی مدارس کے امتحانی بورڈز کو تسلیم کرے

وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے 2010 میں اتحاد تنظیمات کے ساتھ ایک معاہدے کے نتیجے میں پانچوں فرقوں کے مدارس کو مستقل بورڈ کا درجہ دینے اور ایک ریگولیٹری باڈی کے قیام  پر اتفاق کر لیا ۔ مگر یہ معاہدہ بھی کاغذ کا ٹکڑا ثابت ہوا اور کوئی عمل درآمد نہ کیا جا سکا۔

سانحہ پشاور کے بعد نیشنل ایکشن پلان میں ایک بار پھر دینی مدارس کے کردار کو زیر بحث بنایا گیا ۔

موجود حکومت نے وزارت داخلہ اور وزارت مذہبی امور کی کمیٹیاں قائم کیں ۔ ان کمیٹیوں میں پانچوں فرقوں کے تنظیم اتحاد تنظیمات مدارس کے علاوہ چاروں صوبوں کے وزارت تعلیم ،داخلہ اور مذہبی امور سمیت ہائر ایجوکیشن کمیشن کے افسران بھی شامل تھے ۔کئی اجلاسوں کے انعقاد کے بعد  کے بعد پانچوں وفاق ہائے مدارس کو کو بورڈ کا درجہ دینے کی منظوری ہو گئی ۔ منظوری کے بعد وزارت مذہبی امور کی جانب سے غیر رجسٹرد مدارس کو مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے ساتھ الحا ق کی پیشکش بھی کی گئی ہے ۔ وزارت نے اس سلسلے میں ایک اشتہار بھی دیا ہے جو روزنامہ اسلام ، روزنامہ جنگ اور روزنامہ کاوش کراچی میں شائع ہو ا ہے ۔

11061306_391056101088043_7378925175380786690_n

دوسری جانب پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چئیرمین ڈاکٹر عامر طاسین نے 2014 میں چارج سنبھالنے کے بعد گیارہ برس سے معطل شدہ بورڈ کا اجلاس طلب کیا جس میں مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا نام تبدیل کرکے پاکستان اسلامک ایجوکیشن کمیشن کرنے کی تجویز منظور کی گئی اور پہلے مرحلے میں 500 غیر ملحق مدارس کو حکومتی بورڈ کے ساتھ ملحق کرنے کی منظوری بھی دی گئی ۔اس اجلاس کی صدارت وفاقی وزیر مذہبی امور سر دار محمد یوسف نے کی تھی ۔

پاکستان میں اس وقت 8000  سے زائد دینی مدارس ایسے ہیں جن کا پانچوں مسلکی مدارس کے ساتھ الحاق نہیں ۔ان میں بعض تو ایسے بھی ہیں جن کی خدمات اور کردار عالمی سطح پر مسلم ہے جیسے منہاج القرآن انٹرنیشنل اور جامعہ محمدیہ بھیرہ شریف ،ان ادروں کا الحاق جامة الازہر مصر کے ساتھ بھی ہے اور یہاں کے طلبہ اسکالر شپ پر وہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں ۔

پاکستان مدرسہ ایجوکیشن بورڈ نے ان مدارس کو یہ آفر کی ہے کہ وہ اگر چاہیں تو حکومتی ادارہ کے ساتھ اپنا الحاق کرائیں تاکہ نہ صرف ان کا امتحان بھی حکومتی بورڈ لے سکے بلکہ انہیں سند بھی جاری کر سکے۔

10408523_1077543082262854_5082165065058949777_n

چیئر مین ڈاکٹر عامر طاسین نے آئی بی سی اردو سے گفت گو کر تے ہوئے کہا کہ  مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کا پانچوں وفاقوں کے ساتھ ان پانچ وفاق المدارس کا کوئی تعارض نہیں۔ انہوں نے کہا کہ  اگر حکومت انہیں مستقل بورڈ کا رجہ دیتی ہے تو ہم ان پانچ وفاقوں کو  بھی دعوت دیں گے کہ آئیے ہم مل کر دینی مدارس کے طلباءو طالبات کے لیے مختلف تعلیمی اور تربیتی پراگرامز کا آغا ز کرتے ہیں۔

ڈاکٹر عامر طاسین کا کہنا تھا کہ ہم سنجیدگی کے ساتھ  پاکستان کے دینی مدارس کے لاکھوں طلباءو طالبات کے بہتر اور روشن مستقبل کے لیے درسی نصاب میں  بہتری اورنئے نظام کو متعارف کروانے کے لیے کوشاں ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

تجزیے و تبصرے