پاکستان میں حکومت کی حلیف جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے رہ نما پروفیسرطالب الرحمن اورڈاکٹرتوصیف الرحمن کو چھ ماہ قبل سعودی عرب کے دارالحکومت ریاض سے گرفتارکیاگیا تھا اور انہیں گذشتہ روز رہا کر دیا گیا ہے . دونوں بھائیوں کے خلاف کوئی ثبوت نہیں مل سکے .
پروفیسرطالب الرحمن کابیٹااسامہ زیدی گزشتہ سال داعش میں شمولیت کے بعد افغانستان چلاگیاتھا جہاں وہ چندماہ قبل ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا . داعش میں شمولیت کے بعد ان کی داعش کے ایک کیمپ میں تقریر کرنے کے دوران ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر نشر کی گئی تھی جس میں وہ داعش کی حمایت میں گفتگو کر رہے تھے . داعش میں شمولیت کے بعد پروفیسر طالب الر حمان نے اپنے بیٹے سے لاتعلقی کا اعلان کیا اور ان کے خلاف جمعے کو تقریر بھی کی . پروفیسرطالب الرحمن کابیٹااسامہ زیدی گھر سے بھاگ کر داعش میں شامل ہواتھا، اسامہ زیدی کی بیوی اور بیٹا اب بھی افغانستان میں موجود ہیں جبکہ ان کے والد ان کی واپسی کیلئے کوششیں کر رہے ہیں تاہم ان کا اپنی بیٹی اور نواسے سے رابطہ نہیں ہو پا رہا .
[pullquote]زیدی برادران کی گرفتاری کے بعد مولانا طیب الرحمان زیدی نے آئی بی سی اردو سے گفتگو کی تھی .
[/pullquote]
https://www.youtube.com/watch?v=Gi23mhX-MQs
پروفیسر طالب الرحمان کچھ عرصہ قبل علاج کے سلسلے میں سعودی عرب گئے تھے جہاں سعودی حکومت نے انہیں اور سعودی عرب میں مقیم ان کے بھائی توصیف الرحمان راشدی کو گرفتار کیا تھا . ان کی گرفتاری کے بعد مرکزی جمعیت اہل حدیث کی مرکزی قیادت سینیٹرساجدمیرکی قیادت میں سعودی عرب گئی اور سعودی اداروں کو ان کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں . پروفیسرطالب الرحمن کاتعلق خانیوال سے ہے،ان کے والدین تقسیم کے وقت ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے . پروفیسر ڈاکٹر طالب الرحمان بارانی یونیورسٹی میں ملازمت کرتے رہے . وہ اور ان کا بھائی اہل حدیث مسلک کے چوٹی کے مناظرہیں پاکستان میں مخالف مسالک کے خلاف تقاریرکی وجہ سے متنازعہ رہے ہیں . تینوں بھائی اہل حدیث مسلک کے شعلہ بیان مقرر اور مناظر بھی ہیں ۔
عجیب حادثہ یہ ہوا کہ جس روز دونوں بھائیوں کی سعودی عرب میں گرفتاری ہوئی ، اسی روز ان کی والدہ علالت کے باعث اسلام آباد میں انتقال کر گئیں . والدہ کو بیٹوں کی گرفتاری کا اور بیٹوں کو ماں کی وفات کا علم نہیں ہو سکا .
کیا سعودی عرب میں گرفتار کئے گئے دو اہلحدیث علماء بھائیوں کا واقعی داعش سے تعلق ہے؟