صحافت اور آدھی تحقیق

سکول کا زمانہ بھی عجیب ہوتا ہے،اس زمانے میں صرف پڑھا جاتا ہے لیکن سوچا نہیں جاتا، اس زمانے میں ہم اکثر کام بغیر سوچے سمجھے ہی کرتے ہیں،کالج میں آتے ہیں تو سوچنے کی فرصت تو ملتی ہے لیکن اکثر نعروں اور جلوسوں کی وجہ سے پڑھنے کا وقت کم ہی ملتا ہے، پھر اگر یونیورسٹی تک پہنچ ہی جائیں تو ہم خود بخود نیم مفکر بن جاتے ہیں۔

کچھ تو پڑھ لکھ کر اس نیم مفکری کے دورے سے نجات حاصل کر لیتے ہیں اور کچھ تاحیات اسی بیماری کے شکار رہتے ہیں،نیم مفکری کا مرض بھی نیم ملا ہونے سے کچھ کم نقصان دہ نہیں ہے۔

نیم مفکری کے زمانے میں ہمیں یہ احساس پیدا ہوا کہ ہر علم کے بارے میں اس کے ماہر سے پوچھنا چاہیے، اسی دور میں ہمیں یہ بھی پتہ چلا کہ دیگر علوم کی طرح علم دین بھی ایک مستقل علم ہے اور اس کے بارے میں بھی اس کے مستقل ماہرین سے رجوع کرنا چاہیے۔

بہر حال پہلے پہل تو ہمیں بھی یہ خمار تھا کہ ہمارے پاس بہت سارا علم دین موجود ہے ، لیکن جلد ہی یہ خمار اتر گیا اور ہم نے علامہ عنایت اللہ مشرقی، مولانا مودودی، غلام احمد پرویز، شہید مطہری اورمولانا کوثر نیازی وغیرہ کا سرسری مطالعہ شروع کردیا۔ کچھ ہی دنوں میں یہ عقدہ بھی کھل گیا کہ خود مطالعہ کرنے سے بھی کچھ ہاتھ آنے والا نہیں، چنانچہ ہم نے علمائے دین کی چوکھٹ پر حاضری دینے کا سوچا، دوچار ملاقاتوں میں پتہ چلا کہ جن حضرات کو ہم علمائے دین سمجھتے ہیں ان میں سے اکثر کو اپنی فقہ کے دوچار مسئلوں کے علاوہ کچھ یاد نہیں اور علمائے کرام کہلانے والی اکثریت کو دیگر مکاتب و مسالک کے بارے میں غیرجانبدارانہ مطالعہ اور تحقیق کرنے کی عادت تو بالکل بھی نہیں۔

ایسے میں قسمت ہمیں صحافت کی دنیا میں کھینچ لائی ، ہم نے سوچا یہاں تو روشن فکری ہی روشن فکری ہے ، ہر چیز کے بارے میں تحقیق، ہر مسئلے میں غیر جانبداری ، ہر زاویے پر روشنی اور ہر طرف علم ہی علم۔۔۔

کچھ ہی عرصے بعد محسوس ہوا کہ ہمارا یہ دانشور اور روشن فکر طبقہ بھی بہت ڈرا اور سہما ہوا ہے، اکثر کے سروں پر کفر کے فتوے کا خوف منڈلا رہا ہے، بہت ساروں کو مذہبی پنڈتوں نے یہ یقین دلوایا ہواہے کہ خبردار تحقیق نہیں کرنا، سوچنا نہیں ، پوچھنا نہیں، اگر تحقیق کرو گئے، کریدو گئے ، سوال کرو گئے پوچھو گئے تو کافر ہوجاو گئے۔

بظاہر یہ لوگ روشن فکر ہیں، لیکن حقیقت میں ان کے افکار پر فتووں کے پہرے بٹھا دئیے گئے ہیں، ان میں سے بہت کم لوگ ہیں جو ان فتووں سے ٹکراتے ہیں، حقائق کو جانتے ہیں اور بیان کرتے ہیں۔

روشن فکر طبقے میں خوف اور ڈر کی فضا کا احساس مجھے پہلی مرتبہ اس وقت ہوا جب میں نے محرم الحرام کے بارے میں جاننے اور تحقیق کرنے کی کوشش کی۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ محرم الحرام میں غم اور سوگ کیوں منایا جاتا ہے!؟ یزید کون تھا؟ کس کا بیٹا تھا، کس کے تخت پر بیٹھا تھا؟ اسے حکومت کیسے مل گئی؟ اس کا امام حسینؑ کے ساتھ اختلاف کیا تھا؟ یہ اختلاف کب سے چل رہاتھا؟ کیا دس محرم کے بعد یہ اختلاف ختم ہوگیا یا باقی رہا؟

اس طرح کے لاتعداد سوال لے کر میں کئی محقیقین کے پاس حاضر ہوا، مجھے زیادہ تر یہی جواب دیا جاتا تھا کہ امام حسینؑ ، نواسہ رسول ہیں اور یزید ان کا قاتل ہے، ۶۱ ھجری میں محرم الحرام کا مہینہ تھا کہ جب یزید نے امام حسینؑ کو شہید کروادیا جس کے بعد مسلمان محرم الحرام میں غم مناتے ہیں، بعض ماتم اور سینہ زنی کرتے ہیں اور بعض ماتم نہیں کرتے صرف اشک بہاتے ہیں اور غم کرتے ہیں۔

مجھے یہ جان کر بہت تعجب ہوا کہ ہمارے اسلامی معاشرے میں اکثریت کو آج بھی یزید کے بارے میں کچھ بھی نہیں پتہ، وہ نہیں جانتے کہ یزید کے افکار اور عقائد کیاتھے،اس کا خاندان کیا تھا؟ جنگِ بدر سے لے کر فتح مکہ تک یزید کے خاندان کا کیا کردار رہاہے؟ اس کا آلِ نبیﷺ سے اختلاف کب سے تھا ؟ نبی اکرم ﷺ اور صحابہ کرام کا یزید اور اس کے خاندان کے بارے میں نظریہ کیاتھا؟

یزید کا خاندان قبولِ اسلام سے پہلے کس کردار کا مالک تھا اور قبولِ اسلام کے بعد اس خاندان نے اسلام کے ساتھ کیا کیا؟

مجھے میرے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے کہاجاتا تھا کہ بس امام حسینؑ سے محبت کرو اور امام حسینؑ کے بارے میں تحقیق کرویہ تمہاری نجات کے لئے کافی ہے۔

لیکن میں یہ جانتا تھا کہ صرف امام حسینؑ کے بارے میں تحقیق یہ آدھی تحقیق ہے، کیونکہ یہ صرف مقتول کے بارے میں تحقیق ہے، ہمیں قاتل کے بارے میں بھی مکمل تحقیق کرنی چاہیے۔ مکمل تحقیق کا تقاضا یہ ہے کہ ہم جس طرح مقتول کو پہچانتے ہیں اسی طرح قاتل کو بھی پہچانیں تاکہ مقتول کے راستے پر چلیں اور قاتل کے راستے سے بچیں۔

ہمارے روشن فکر طبقے کو سوچنا چاہیے کہ ہم کیسے لوگوں کے درمیان جی رہے ہیں اور ہم کیسے معاشرے میں زندگی گزار رہے ہیں، ہمارے ہاں آدھی تحقیق کی تو اجازت دی جاتی ہے لیکن مکمل تحقیق پر کفر کا فتوی لگا دیاجاتاہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے