[pullquote]ٹڈی دل: پاکستان میں اتنا زیادہ ٹڈیاں کہاں سے آئیں اور اب یہ سب سے بڑا مسئلہ کیوں ہے؟[/pullquote]
ٹڈی دل آندھی کی طرح آتا ہے۔ اس کا ایک لشکر کئی کلو میٹر پر پھیلے کھیتوں کو پلک جھپکتے اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے اور اس کے بعد کسان کچھ نہیں کر سکتا۔ ٹڈی دل اس کی آنکھوں کے سامنے اس کی فصل کا صفایا کر دیتا ہے اور یہ صرف منٹوں کی بات ہے۔
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لودھراں کے ایک گاؤں کے باسی اسلام خان نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ چند روز قبل ٹڈی دل نے ان کی کپاس کی فصل پر حملہ کیا تھا جو انھوں نے حال ہی میں کاشت کی تھی۔
ٹڈی ان کے رقبے پر صرف 25 منٹ کے لگ بھگ رکی ہو گی اور اس کے بعد ان کے 60 ایکڑ کے کھیت پر کہیں کہیں ہی کوئی کپاس کا پودا سلامت بچا ہو گا۔
‘ایسا محسوس ہوا جیسے کوئی آندھی آ رہی ہے۔ وہ صبح آٹھ بجے کے آس پاس کا وقت تھا لیکن وہ اتنی بڑی تعداد میں تھیں کہ سورج کی روشنی بھی کم ہو گئی تھی۔’ اسلام خان کے کھیت میں صرف وہی پودے بچے جو سڑک کے قریب تھے یا جہاں لوگوں کی آمدورفت تھی۔
بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ ٹڈی دل کا وہ جُھنڈ لگ بھگ چھ کلو میٹر طویل تھا اور اس کی چوڑائی دو کلو میٹر کے قریب تھی۔ وہ جب ان کی زمین پر اترا تو دوبارہ اڑنے سے پہلے دس کلو میٹر آگے تک فصلوں کا صفایا کرتا گیا۔
یہ ٹڈی دل کا نصبتاً چھوٹا لشکر تھا ورنہ براعظم افریقہ کے ملک کینیا میں گذشتہ برس ایک لشکر دیکھا گیا جس کا حجم سائنسی نیچر نامی جریدے کے مطابق امریکہ کے شہر نیویارک سے تین گنا بڑا تھا۔ افریقہ میں ٹڈی دل کے اتنے بڑے جھنڈ بھی نکلے ہیں جن کی وجہ سے پروازیں معطل کرنا پڑیں۔
یہی ٹڈی دل افریقہ سے اڑتا پاکستان بھی پہنچا ہے۔ اقوامِ متحدہ کے خوراک اور زراعت کے عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق ٹڈی دل 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کر سکتا ہے یعنی ایک گھنٹے میں وہ 160 کلو میٹر کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔
اس کی پرواز کی رفتار، اس کا حجم، فصلوں کے لیے اس کی رغبت اور دیکھتے ہی دیکھتے فصلوں کو چٹ کرجانے کی صلاحیت نہ صرف کاشتکار بلکہ حکومتوں کے لیے بھی کسی ڈراؤنے خواب سے کم نہیں۔
اسلام خان کو اپنی بے بسی کا عالم نہیں بھولتا۔
‘جب وہ ہمارے سامنے ہماری فصل کو اجاڑ رہی تھی تو ہماری حالت ایسی تھی کہ اب روئے کہ کب روئے۔ ایسا لگ رہا تھا کوئی ہمارے جسم کا حصہ کاٹ رہا ہے۔’
ان کی مہینوں کی محنت اور لگ بھگ 50 لاکھ روپے مالیت کی فصل ٹڈی نے محض 25 منٹ میں ختم کر دی۔ ایف اے او کے مطابق ٹڈی دل کے صرف ایک مربع کلو میٹر بڑے جھنڈ میں 80 کروڑ بالغ کیڑے ہو سکتے ہیں جو ایک دن میں 35 ہزار انسانوں کی خوراک کے برابر فصلیں کھا جاتے ہیں۔
اب تک صرف جنوبی پنجاب میں ٹڈی دل ڈھائی ہزار ایکڑ پر کپاس کو اب تک تباہ کر چکا ہے اور ابھی موسمِ گرما کا آغاز ہے جس میں اس کے حملوں میں بتدریج اضافہ متوقع ہے۔ اس جھنڈ کا نشانہ خریف کی فصلیں ہوں گی جن میں گنا، چاول، کپاس اور مکئی نمایاں ہیں۔
پاکستان میں ٹڈی دل اس وقت تقریباً آدھے ملک میں پھیلا ہے۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام نے حال ہی ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ لگ بھگ 60 اضلاع ٹڈی دل سے متاثر ہیں جن میں صوبہ بلوچستان میں یہ سب سے زیادہ پائی جاتی ہے۔
فخر امام کے مطابق رواں اور آئندہ ماہ کے دوران ٹڈی دل کے مزید جھنڈ ‘ہارن آف افریقہ‘ (یعنی افریقہ کے بالکل مشرقی کونے میں واقع پانچ ممالک) کے جھنڈ جون اور جولائی کے مہینے میں جبکہ ایران میں موجود جھنڈ دو سے تین ہفتے میں پاکستان میں داخل ہو سکتے ہیں۔ ایران میں اس وقت ٹڈی دل کا ایک بہت بڑا حملہ جاری ہے۔’
پاکستان کا مسئلہ دوہرا ہے۔ جو ٹڈی گذشہ برس آیا تھا وہ بھی نہیں نکل پایا اور ملک کے اندر بھی مختلف مقامات پر اس کی افزائش اور حملے جاری تھے۔
[pullquote]پاکستان میں ٹڈی دل کہاں سے آیا؟[/pullquote]
وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سیکیورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام کے مطابق ٹڈی دل کا یہ پاکستان میں 28 برس کے بعد ایک بڑا حملہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹڈی دل مشرقی افریقہ، مشرقِ وسطٰی سے ہوتا ایران کے راستے پاکستان میں داخل ہوا۔ رواں برس افغانسان سے بھی ٹڈی پاکستان آیا جو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔
‘اس مرتبہ ایران سے یہ افغانستان گیا اور وہاں سے پاکستان میں داخل ہوا اور صوبہ پنجاب کے علاقوں کی طرف چلا گیا۔’
پاکستان کو ٹڈی دل سے متاثر ہونے والے چند بڑے ممالک میں شامل کیا جا رہا ہے۔ بنیادی طور پر پاکستان میں ٹڈی دل عرب کے صحراؤں سے آیا ہے۔
عالمی ادارے ایف اے او کے مطابق ٹڈی دل کی تعداد میں آٹھ ہزار گنا زیادہ اضافہ ہے جو سنہ 2018 کے اوائل میں عرب کے صحراؤں میں تقریباً 25 برس بعد رونما ہوا۔
[pullquote]عرب کے صحراؤں میں اتنا زیادہ ٹڈی دل کیسے پیدا ہوا؟[/pullquote]
ایف اے او کے مطابق سنہ 2018 میں دو بڑے سمندری بگولوں کی وجہ سے ایمپٹی کوارٹر نامی صحرا میں معمول سے کہیں زیادہ بارشیں ہوئیں۔ یہ صحرا سعودی عرب، اومان، یمن اور کچھ دوسرے عرب ممالک کی سرحدوں سے ملتا ہے۔
ان بارشوں کے نتیجے میں ٹڈی دل کی تین نسلیں ایمپٹی کوارٹر میں پروان چڑھیں اور اس کی تعداد میں آٹھ ہزار گنا اضافہ ہوا۔ یاد رہے کہ ٹڈی دل کی افزائش کے لیے نم زمین موزوں ہوتی ہے اور بارشوں میں اس کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔
ایمپٹی کوارٹر میں جس جگہ اس کی افزائش ہوئی وہاں نگرانی نہیں کی جا سکتی تھی اور نہ ہی اس کی روک تھام۔ جب تک اس کا پتہ چلا، ٹڈی کے جھنڈ وہاں سے نکل کر دوسرے ممالک کا رخ کر چکے تھے جن میں انڈیا پاکستان کا سرحدی علاقہ، ہارن آف افریقہ، سعودی عرب، ایران اور یمن شامل ہیں۔
[pullquote]پاکستان میں ٹڈی ڈل کا حجم کیسے بڑھا؟[/pullquote]
پاکستان میں ٹڈی دل پہلے سے موجود تھا۔ یہ گذشتہ برس آیا تھا مگر زیادہ تر نکل نہیں پایا۔ اس نے ملک کے صحرائی علاقوں خصوصاً بلوچستان میں افزائشِ نسل کی۔ ساتھ ہی رواں برس اس کے اور جھنڈ افریقہ اور مشرقِ وسطٰیٰ سے پاکستان میں داخل ہوئے۔
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے نیشنل فوڈ سکیورٹی اینڈ ریسرچ فخر امام کے مطابق پہلے ٹڈی دل جس راستے سے پاکستان میں داخل ہوتا تھا اسی راستے سے موسمِ سرما میں واپس بھی چلا جاتا تھا۔
‘لیکن موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے اس مرتبہ بلوچستان میں غیر معمولی بارشیں ہوئیں جس کی وجہ سے یہ وہیں رک گیا۔’
ان کا کہنا تھا کہ اس وقت ٹڈی دل پاکستان میں بلوچستان، صحرائے تھر، سندھ، چولستان اور جنوبی پنجاب کے علاقوں میں موجود تھا جہاں اس کی افزائشِ نسل بھی جاری تھی۔
[pullquote]’ایک مادہ ٹڈی 200 سے 1200 بچے دیتی ہے’