کبھی آپ کو کسی جادوگر کے کرتب دیکھنے کا اتفاق ہوا ہو ، اسکے پاس ایک صندوق ہوتا ہے جس میں ہر قسم کا” ہتھیار” موجود ہوتا ہے ۔ حاضرین کی عقل کو دنگ کرنے کے لیے وہ مختلف اوزاروں کو لہرا کر اسمیں سے کچھ نیا برآمد کر دیتا ہے ۔ حاضرین حیرت میں مغلوب ہوکر تالیاں پیٹتے ہیں اور جادوگر اپنے فن پہ ناز کرتا ہے ۔
طاقت کے ایوانوں میں بھی کچھ ایسے ہی جادوگر ہوتے ہیں ۔ ان کے پاس ایک صندوق ہمیشہ موجود رہتا ہے ۔ جس میں مختلف "ہتھیار اور اوزار” سلیقے سے رکھے رہتے ہیں ۔غداروں کو کسنے والا اوازار ، مذہب سے بھٹکنے والوں کے لیے ہتھیار ،خود کو واقعی چیف ایگزیکٹو سمجھنے والوں کے لیے تو تمام ہتھیار ایک ساتھ بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں ۔” کرپٹ” سیاستدان سب سے مشہور اور پراثر ہتھیار ہے۔ جس عوام الناس کو محظوظ کیے رکھتے ہیں ۔انکی عقل و خرد کو ایسے جکڑے رکھتے ہیں کہ وہ یہ سوچ ہی نہیں پاتے کہ اس آنکھ کے دھوکے کے پیچھے کیا فریب چھپا ہے۔
اس صندوق کو جدید دور کے تقاضوں کے مطابق” اپ ڈیٹ” کیا گیا ہے کیونکہ کرپشن ، غداری ، کافر کے ہتھیار زنگ آلود ہونے لگے ،انکا اثر ماند پڑنے لگا تو نیا اضافہ ضروری تھا اور وہ بھی اگر کوئی امریکن گوری اپنے منہ سے کہے کہ دس سال پہلے فلاں وزیر ، فلاں وزیراعظم نے اس پہ بری نظر ڈالی ،تو تمام محب وطن اسکی عزت کی حفاظت کے لیے قلم کی تلواریں لیکر کھڑے ہو جائیں اور اس ایک بیان کو بنیاد بنا کر ان ” بدکردار ” اپنی تئیں خود کو عوامی لیڈران کہنے والوں کے سر قلم کر دیے جائیں چونکہ یہ خاتون پاکستان کے محب وطن اثاثے میں شمار ہونے لگی ہیں تو کسی قسم کی تحقیق کی چنداں ضرورت نہیں ہے کہ وہ اتنے سال خاموش کیوں رہی ؟ صرف ویزہ لگوانے کے لیے وزیر داخلہ کے پاس کون جاتا ہے ؟ اتنے برے تجربے کے بعد بھی وہ دوبارہ پاکستان کیوں آئی ؟
ببانگ دہل اس خاتون کی للکار ہے کہ وہ پیپلز پارٹی کی مالی اور اخلاقی کرپشن بے نقاب کرنے کے بعد اپنی توپوں کا رخ ن لیگ کی طرف موڑ دے گی یقیناً ابھی بہت سے ایسے ” انکشافات” باقی ہیں جسے سن کر اس ملک کے "محب وطن عزت داروں ” کے پیروں تلے سے زمین نکل جائے گی ۔ سنتھیارچی کے ہاتھوں میں کالک کی ایک بوتل اور برش تھما دیا گیا ہے وہ جسے چاہے ،جب چاہے ” مرضی اور منشاء” کے مطابق مطلوبہ چہروں پر پھینک کر سیاہ کر سکتی ہے ۔
پاکستان کی موجودہ نسل ایک بہت ہی سیاہ ترین دور دیکھ رہی ہے ۔کیا اس سے بھی برا کچھ ہو سکتا ہے ؟ کیا اس اخلاقی دیوالیہ پن کی کوئی حد ہے ؟ اسکا انجام کیا ہوگا ؟
جیسے اس سے پہلے کرپشن ، غداری ، کفر کے فتووں نے اس ملک کی جڑیں ہلا دیں، جادوگروں کے ہاتھوں میں یہ نیا ہتھیار ایک غلیظ ترین مہم جوئی ثابت ہوگا ۔۔ویسے تو سیاہی ملنے والے خود بھی اس کالک سے محفوظ نہیں رہ پاتے ۔ عزت بچانا سب کے لیے مشکل ہوگا کیونکہ مخالف فریق بھی اپنے آپ کو بچانے کے لیے جوابی وار ضرور کرے گا ۔ پچھلے چند سالوں میں معیشت اور سیاست کے بعد بچی کھچی اخلاقیات کا جو جنازہ نکالا جا رہا ہے اس میں ہمیں باہر کے دشمنوں کی قطعاً ضرورت نہیں ہے نتیجتا سب کے ہاتھ بھی کالے ہوں گے اور چہرے بھی۔
عوام کے لیے سوچنے کی بات یہ ہے کہ کیا اس ” کرتب ” سے کرونا ختم ہو جائے گا ۔ ہسپتالوں اور گھروں میں تڑپتے مریض تندرست ہو جائیں گے ۔؟ بجٹ میں عوام کے لیے دودھ اور شہد کی نہروں کا بندوبست ہو جائے گا ؟ ٹڈی دل اس سیاہ کاری سے ڈر کر بھاگ جائے گا ؟
لیکن جادگروں کو یقین ہے کہ ستر سالوں کی طرح انکا یہ ہتھیار بھی اتنی جلدی کُند نہیں ہو گا ۔۔ عوامی توجہ ضرور حاصل کرے گا اور شاید بہت حد تک مطلوبہ نتائج بھی ۔۔۔!!