تنقید نہیں، حوصلہ دیجیے

کچھ لوگ فطرتاً بہت محنتی ہوتے ہیں۔ وہ تیزی سے کام کرتے ہیں، ایک وقت میں کئی ذمہ داریاں سنبھال لیتے ہیں اور مشکل سے مشکل کام بھی وقت پر مکمل کر لیتے ہیں۔ یہ ان کی خوبی ہے، ان کی صلاحیت ہے، اور یقیناً قابلِ تعریف بھی ہے۔ لیکن مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ہم اپنی اس خوبی کو دوسروں کے لیے بھی پیمانہ بنا لیتے ہیں اور یہ توقع کرنے لگتے ہیں کہ سامنے والا بھی ہماری ہی رفتار، توانائی اور صلاحیت کے ساتھ کام کرے۔

پھر آہستہ آہستہ یہ احساس پیدا ہونے لگتا ہے کہ دوسروں کو بھی ہماری طرح تیز، متحرک اور ہر کام میں ماہر ہونا چاہیے۔ بظاہر یہ صرف ایک توقع ہوتی ہے، لیکن بار بار کا یہ موازنہ کسی انسان کے اعتماد کو اندر سے کمزور کر سکتا ہے۔

ہمیں سمجھنا ہوگا کہ ہر انسان ایک جیسا نہیں ہوتا۔ کسی کی جسمانی طاقت زیادہ ہے، کسی کی ذہنی استعداد بہتر ہے، کوئی تیزی سے سوچتا ہے، کوئی کام کو وقت لے کر زیادہ بہتر انداز میں کرتا ہے۔ کسی کی توانائی زیادہ ہے تو کسی کو تھکن جلد محسوس ہوتی ہے۔ اسی طرح ہر انسان کا مزاج، برداشت، توجہ اور کام کرنے کی رفتار بھی مختلف ہوتی ہے۔

ذرا ایک کلاس روم کو دیکھ لیجیے۔ ایک ہی عمر کے بچوں میں سے کوئی بہت ذہین اور تیز ہوتا ہے، کوئی اوسط کارکردگی دکھاتا ہے اور کسی بچے کو ایک بات سمجھنے میں دوسروں سے زیادہ وقت لگتا ہے۔ ہم یہ توقع نہیں رکھتے کہ پوری کلاس کا ہر بچہ ایک ہی رفتار سے سیکھے۔ پھر زندگی میں ہم بڑوں سے یہ توقع کیوں کرنے لگتے ہیں کہ وہ بھی بالکل ہماری طرح کام کریں؟

اور یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ حالات اور زندگی ہمیشہ ایک جیسی نہیں رہتی۔

عمر بڑھنے کے ساتھ جسم کی طاقت کم ہوسکتی ہے، توانائی پہلے جیسی نہیں رہتی، بعض اوقات بیماری یا جسمانی کمزوری بھی انسان کی کارکردگی کو متاثر کرتی ہے۔ جو شخص کبھی دن بھر کئی کام آسانی سے کر لیتا تھا، ممکن ہے آج وہی کام کرتے ہوئے جلد تھک جائے۔

سب سے زیادہ تکلیف دہ بات یہ ہے کہ کئی مرتبہ انسان خود بھی اپنی اس تبدیلی سے پریشان ہوتا ہے۔ اسے یاد ہوتا ہے کہ وہ پہلے کتنا کچھ کر لیتا تھا، اور اب وہی رفتار برقرار نہیں رکھ پا رہا۔ ایسے میں جب اسے اپنی کم ہوتی ہوئی رفتار اور صلاحیت کا احساس بار بار دلایا جائے تو بات صرف کام تک محدود نہیں رہتی، بلکہ انسان کا اعتماد بھی آہستہ آہستہ متاثر ہونے لگتا ہے۔

وہ خود کو دوسروں سے کم سمجھنے لگتا ہے، احساسِ کمتری پیدا ہوسکتا ہے اور مسلسل ذہنی دباؤ انسان کو اندر سے تھکا دیتا ہے۔

اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ انسان اپنی ذمہ داریوں سے بھاگے یا ہر کمی کو صلاحیت کا نام دے دے۔ ذمہ داری ضروری ہے، کوشش بھی ضروری ہے، لیکن کوشش کا معیار ہر انسان کے لیے اس کی اپنی موجودہ صلاحیت کے مطابق ہونا چاہیے۔

کسی کو بہتر کرنے کے نام پر اسے توڑ دینا تربیت نہیں۔

ہمیں دوسروں کو اپنے سانچے میں ڈھالنے کے بجائے یہ سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے کہ سامنے والا اس وقت کس حالت میں ہے، اس کی صلاحیت کیا ہے اور وہ اپنی پوری کوشش کس حد تک کر سکتا ہے۔

ہر انسان کی اپنی رفتار ہے، اپنی طاقت ہے، اپنی حد ہے۔

اس لیے اگلی بار جب دل میں آئے کہ
"میں کر سکتا ہوں تو یہ کیوں نہیں کر سکتا؟”
تو ایک لمحے کے لیے رک کر سوچیے گا:

شاید وہ آپ نہیں ہیں۔

اور یہی بات سمجھ لینا، دوسروں کے لیے بھی آسانی ہے اور اپنے رشتوں کے لیے بھی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے