218 ارب کا بجٹ، عام آدمی کہاں ہے؟

گلگت بلتستان اسمبلی میں مالی سال 2026-27 کا 218 ارب روپے سے زائد حجم کا بجٹ پیش کردیا گیا۔ حکومت نے اسے کفایت شعاری، ترقی، صحت، تعلیم اور سماجی تحفظ کا بجٹ قرار دیا ہے۔ ترقیاتی بجٹ کے لیے تقریباً 44 ارب اور غیر ترقیاتی اخراجات کے لیے تقریباً 150 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، جبکہ گندم سبسڈی کے لیے 22 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔

بجٹ کے اعداد و شمار بڑے ضرور ہیں، لیکن عام آدمی کا سوال اس سے کہیں سادہ ہے: اس بجٹ سے ہماری زندگی میں کیا بدلے گا؟

گلگت بلتستان کا عام شہری مہنگائی، بے روزگاری، بجلی کی قلت، علاج معالجے کی مشکلات اور محدود روزگار جیسے مسائل میں گھرا ہوا ہے۔ نوجوان ڈگریاں لے کر روزگار کی تلاش میں ہیں، چھوٹے کاروبار بجلی اور مہنگائی کے دباؤ کا شکار ہیں اور دور دراز علاقوں کے عوام آج بھی بنیادی سہولیات کے منتظر ہیں۔

حکومت نے کم از کم اجرت 40 ہزار سے بڑھا کر 44 ہزار روپے کرنے کی تجویز دی ہے۔ سوشل پروٹیکشن کے لیے ایک ارب روپے اور سوشل انڈومنٹ فنڈ کے لیے چار ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ بیواؤں، یتیموں، خصوصی افراد اور کم آمدن والے خاندانوں کے لیے یہ اقدامات یقیناً قابلِ تحسین ہیں، مگر اصل سوال یہ ہے کہ یہ سہولتیں حقیقی مستحقین تک کب اور کیسے پہنچیں گی؟

صحت اور تعلیم کے لیے بھی خطیر رقم مختص کرنے کی بات کی گئی ہے۔ ادویات کی خریداری کے لیے مزید فنڈز اور تعلیم کے لیے ایک ارب 48 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز ہے۔ مگر عوام اب صرف بجٹ میں رقم دیکھ کر مطمئن نہیں ہوں گے۔ انہیں ہسپتالوں میں ڈاکٹر، ادویات اور سہولیات، جبکہ سکولوں میں اساتذہ اور معیاری تعلیم چاہیے۔

گلگت بلتستان کا بجلی بحران بھی بدستور ایک بڑا مسئلہ ہے۔ بجلی کی قلت نے نہ صرف گھریلو زندگی بلکہ کاروبار، صنعت اور سیاحت کو بھی متاثر کیا ہے۔ اگر بجٹ کا بڑا حصہ توانائی کے مستقل حل، مقامی روزگار اور معاشی سرگرمیوں کے فروغ پر خرچ کیا جائے تو اس کے دور رس نتائج سامنے آسکتے ہیں۔

ایک طرف حکومت کفایت شعاری کے تحت تمام محکموں کے غیر ترقیاتی بجٹ میں 30 فیصد تک کمی کی بات کرتی ہے، دوسری طرف نئی سرکاری گاڑیوں کی خریداری کے لیے ایک ارب 50 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز سامنے آئی ہے۔ ایسے میں عوام کا سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ معاشی مشکلات کے اس دور میں نئی گاڑیوں کی خریداری کس حد تک ترجیح ہونی چاہیے؟

ترقیاتی بجٹ تقریباً 44 ارب روپے ہے۔ یہ رقم گلگت بلتستان کے لیے انتہائی اہم ہے، لیکن اس کا فائدہ تب ہوگا جب منصوبے کاغذوں سے نکل کر زمین پر مکمل ہوں۔ سڑکیں، پل، سکول، ہسپتال اور بجلی کے منصوبے بروقت مکمل ہوں اور ترقیاتی وسائل سیاسی وابستگی کے بجائے عوامی ضرورت کی بنیاد پر تقسیم کیے جائیں۔

عوام بجٹ کا حجم نہیں دیکھتے، وہ اپنے گھر کا چولہا دیکھتے ہیں۔ انہیں یہ فکر ہے کہ بجلی کب آئے گی، روزگار کہاں ملے گا، بچوں کو اچھی تعلیم کیسے ملے گی اور بیماری کی صورت میں علاج کہاں ہوگا۔

218 ارب روپے معمولی رقم نہیں۔ حکومت کے پاس اس بجٹ کے ذریعے گلگت بلتستان کی معیشت اور عوامی زندگی میں حقیقی تبدیلی لانے کا بڑا موقع ہے۔ لیکن اس کے لیے شفافیت، میرٹ، کفایت شعاری اور عملی اقدامات ضروری ہیں۔

اگر اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود عام آدمی بجلی، مہنگائی، بے روزگاری، صحت اور تعلیم کے مسائل میں گھرا رہا تو عوام کا سوال برقرار رہے گا:

بجٹ 218 ارب روپے کا ہے، مگر عام آدمی کے حصے میں ریلیف کتنا آیا؟

عوام کو اعداد و شمار نہیں، اپنے حالات میں تبدیلی چاہیے۔ یہی کسی بھی بجٹ کی اصل کامیابی کا پیمانہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے