مایوس نہیں ہونا ، آخری بال ہوگی ، ایمپائر اور ناظرین کی میچ سے دلچسبی ختم ہو چکی ہوگی ۔ پوری ٹیم کے چہرے لٹکے ہوئے ہوں گے لیکن ہم پچ پر کھڑے ہوں گے ۔ ہم ہی وہ آخری انسان ہوں گے جن کا ہاتھ گھومے گا ، بلا لہرائے گا ، گیند بلے سے جڑے گی اور بال گراؤنڈ سے باہر ہوگا ۔ ایمپائر واپس آئے گا ، ٹیم حیران کھڑی ہوگی ، مجمع کھڑا ہو جائے گا ۔ تماشائی رقص کریں گے ۔ پس منظر میں ٹائٹینک کا میوزک چل رہا ہو گا اور زمانے کی رکتی نبضوں کے ساتھ ہم یاد رکھے جائیں گے ۔ لوگ دشمن بھی ہوجائیں تو انسانوں اور انسان کے بچوں کو کبھی نہیں بھولتے ۔
تو دوستو ، تھوڑا سا بھی نہیں گھبرانا ، لوگ تیزی سے مر رہے ہیں لیکن ہم نے مرتے دم تک جینا ہے ۔ ایک دوسرے کی مدد کرنی ہے ۔ ایک دوسرے کے خلاف کھڑا نہیں ہونا ۔ کسی جغرافیے، رنگ ، مذہب ، زبان ، سماج کی وجہ سے تقسیم نہیں ہونا ۔ ظلم، تعصب اور جھوٹ سے لڑنا ہے اور لڑتے رہنا ہے۔ یہ ساری کائنات ہماری ہے ۔ کچھ صدیوں بعد ہم نے واپس یہیں پلٹ کر آنا ہے ۔ ہم اپنے پرکھوں کی طرح اس زمین کا بیج ہیں ، فصل سالوں بعد اگتی ہے اور ہم صدیوں بعد
مت سہل ہمیں جانو، پھرتا ہے فلک برسوں
تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں
بیماریاں آتی جاتی رہتی ہیں لیکن مرتے دم تک آپ کے چہرے پر مسکراہٹ قائم رہنی چاہیے ۔ مرتے دم بھی آپ کا چہرہ مسکراتا ہوا ہونا چاہیے ۔ شکست موت کو دیں ، حوصلے کو نہیں ۔ سوشل میڈیا پر دکھ ، بیماری ، غم کی خبریں بہت شئیر ہو گئیں ۔ ایک دن ہم سب نے مر جانا ہے ۔ جو بیمار ہے، جو دنیا سے چلا گیا ہے ، اس کی زندگی کے خوبصورت واقعات لکھیں ۔ تو دوستو، لوگوں کو مایوسی سے نکالیں ۔ افواہوں اور فیک نیوز سے نکالیں ۔ احتیاطی تدابیر کو اچھے طریقے سے بیان کریں ۔ ایک دوسرے کا خیال کریں ۔
2005 میں زلزلہ آیا ۔ کون بھول سکتا ہے ۔ کچھ گلے شکوے بھی اپنی جگہ ہوں گے ۔ کچھ لوگوں نے زیادتی بھی کی تھی لیکن میں کیسے بھول جاؤں ان بچوں کو جو کراچی ، لاہور ، پشاور ، کوئٹہ سے اٹھے اور کشمیر بالاکوٹ تک جا پہنچے ۔ یہ ممی ڈیڈی بچے ہمارے ہی تھے لیکن جس طرح انہوں نے زلزلہ متاثرین کی خدمت کی ، وہ اپنے غم بھول گئے ۔ انہوں نے عید یہاں گزاری ۔ مجھے یاد ہے جس طرح مختلف تنظیموں کے رضا کار کام کرتے تھے ۔
عجیب و غریب دن تھے ۔ جو دیکھا وہ بھول نہیں سکتا ۔ جو محسوس کیا وہ لکھ نہیں سکتا ۔
ہم ماتمی مزاج لوگ ہیں ۔ دل اتنا کمزور ہے کہ کیا بتائیں ۔ ٹی وی کے لیے رپورٹ بنانا بھول جاتے ، غم مناتے اور کبھی غمگساری شروع کر دیتے ۔ بالاکوٹ کی ایک پہاڑی پر پاؤں میں موچ آگئی ۔ راشدہ شعیب اور شعیب نظامی مجھے پولی کلینک والے ڈاکٹر الطاف حسین شاہ صاحب کے پاس لے گئے ۔ انہوں نے مجھے دیکھا اور پہچان لیا ۔ پرائیویٹ کلینک میں آپریشن کیا اور پیسے بھی نہیں لیے ۔ چلنا پھرنا مشکل ہو گیا تھا ۔ حسن ناصر خان اور حافظ انوار مجھے گھر لے آئے ۔آپریشن کا تیسرا روز تھا ۔ اسلام آباد گھر میں لیٹا ہوا تھا ۔ جیو پر ایک موٹیویشنل نغمہ چلنا شروع ہو گیا
جیو پھر سے جیو
چلو پھر سے جیو
آنکھوں میں آنسو آگئے ۔ کھڑا ہوا ، غسل کیا اور سیدھا آفس پہنچ گیا ۔ حامد میر صاحب ہمارے بیوروچیف تھے، انہوں نے دیکھا تو ڈانتے ہوئے کہا کہ کیوں آئے ہو ، میں نے کہا ٹھیک ہو گیا ہوں اب ، وہ مجھے دیکھ رہے تھے ۔ اظہر عباس صاحب ہمارے ایم ڈی تھے ، ان کے سامنے بات کرنا، ان کا حکم ٹالنا بھی بڑی ہمت کی بات ہوتی تھی ۔میرے پاؤں پر پٹی چڑھی ہوئی تھی ، انہوں نے ڈیسک پر بیٹھ جاؤ ، (ڈیسک صحافتی اداروں میں نیوز روم کے انتظامات کرنے کی جگہ کو کہتے ہیں ، جہاں سے تمام شعبوں کے ساتھ رابطہ کاری کی جاتی ہے ) میں نے کہا نہیں سر فیلڈ میں جاؤں گا ۔ مسکرائے ، تھپکی دی ۔ میں اگلے دن کیمرا مین خلیق احمد کے ساتھ کوہستان میں تھا ۔
یہ لکھنے کا مقصد اپنی تعریف کرنا نہیں تھا بس یہ بتا نا مقصود تھا کہ اندر سے جیو اور ہاں آج کہیں پڑھا تھا کہ سینیٹائزر ہاتھوں پر ضرور ملیں کہ آپ کے ہاتھ صاف ہوں تاہم ہاتھ صاف کرنے سے پہلے ایک دوسرے کے بارے میں اپنے دل ضرور صاف کر لیں ۔
سبوخ سید