19برس پہلے: یہ فائل واپس لے جائیں

صورتحال یہ تھی کہ صدر تارڑ کی فراغت اور ان کے منصب پر قبضے کا حتمی فیصلہ کر لینے کے باوجود چیف ایگزیکٹیو کا کیمپ رسمی طور پر سب اچھا کی خبر دے رہا تھا۔

21اپریل 2001کو عمان کے بادشاہ سلطان قابوس کے استقبالیہ گارڈ آف آنر کے لئے جنرل مشرف کچھ لمحے پہلے آ گئے۔ پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور میں باہر ہی کھڑے تھے، جنرل صاحب پریس پہ برسنے لگے ’’بھلا یہ کوئی موقع ہے افواہوں کا، یا تو یہ لوگ سمجھتے نہیں یا جان بوجھ کر قومی مفاد کو نظر انداز کرتے ہیں‘‘۔ ان کا اشارہ واضح طور پر صدر تارڑ کی رخصتی کی خبروں کی طرف تھا۔

26اپریل کو چیف ایگزیکٹیو نے صدر تارڑ کے اعزاز میں اپنے گھر پر فیملی ڈنر کا اہتمام کیا۔ صدر تارڑ محبت کی اس فراوانی پر مسکراتے ہوئے کہنے لگے ’’ساقی نے کچھ ملا نہ دیا ہو شراب میں‘‘۔

عشائیے میں آئی ایس آئی کے ڈی جی جنرل محمود اور چیف ایگزیکٹو کے پرنسپل سیکرٹری طارق عزیز بھی مدعو تھے۔ بہت سی باتیں ہوئیں۔ آرمی ہائوس میں ہونے والے عشائیے میں اسی آرمی ہائوس میں ہونے والی نہایت اہم میٹنگ کا کوئی اشارہ تک نہ تھا۔

صدر کو یہ خاموشی بہت کھٹک رہی تھی۔ دو دن بعد جنرل محمود ایوانِ صدر آئے، مسئلہ جو بھی تھا صدر نے دبے لفظوں میں آئے روز کی افواہوں کا ہلکے پھلکے انداز میں تذکرہ کیا تو جنرل محمود نے انہیں پریس کی ہوائیاں قرار دے کر مسترد کر دیا۔

یہ 2مئی 2001ءکا ذکر ہے۔ شام کو مجھے معروف خاتون صحافی عروسہ عالم کا فون آیا جو ان دنوں زاہد ملک مرحوم کے انگریزی اخبار پاکستان آبزرور سے وابستہ تھیں۔ پوچھنے لگیں ’’کیا آپ کے علم میں ہے کہ راولپنڈی میں اعلیٰ فوجی قیادت کا ایک اجلاس ہوا ہے جس میں فیصلہ ہوا ہے کہ صدر تارڑ کو اگست تک صدارت کے منصب سے ہٹا دیا جائے اور جنرل مشرف خود صدر بن جائیں‘‘۔

میں نے منصبی نزاکت کے پیش نظر الفاظ چباتے ہوئے کہا ’’اس طرح کی باتیں تو آئے دن سننے میں آتی رہتی ہیں‘‘ عروسہ بولیں ’’ہماری معلومات کے مطابق یہ بات خود صدر تارڑ کے علم میں ہے‘‘۔ میں نے تصدیق یا تردید سے گریز کیا، اگرچہ ڈاکٹر اے کیو خان کے ذریعے یہ بات صدر تک پہنچ چکی تھی۔ غالباً عروسہ کی خبر کا مآخذ بھی یہی تھا۔

4مئی کو یہ خبر ’’پاکستان آبزرور‘‘ میں نمایاں طور پر شائع ہو گئی۔ یہ متعین اور ٹھوس حوالوں کے ساتھ آج تک اپنی نوعیت کی پہلی خبر تھی۔ میں نےخبر کی تردید یا کم از کم وضاحت کیلئے بہت ہاتھ پائوں مارے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر، سیکرٹری اطلاعات، پرنسپل انفارمیشن آفیسر اور جانے کون کون لیکن کوئی بھی کسی طرح کے باضابطہ ردعمل پر تیار نہ ہوا۔ پورا مئی افواہوں، قیاس آرائیوں اور شکوک و شبہات کی اسی دھند میں لپٹا رہا تاہم ’’جی کا جانا ٹھہر گیا ہے‘‘ کی گونج تیز ہوتی گئی۔

30مئی کو صدر تارڑ نے غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ، صوابی کے جلسہ تقسیم انعامات کیلئے جانا تھا، ہیلی کاپٹر میں بیٹھے ہوئے ہم سب نے محسوس کیا کہ صدر کی طبیعت ٹھیک نہیں، بوجھل پن ان کے چہرے سے عیاں تھا۔

تقریب کے بعد چائے کے دوران غلام اسحاق خان تو ایک صوفے پر بیٹھ گئے البتہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صدر تارڑ سے راز و نیاز کرتے رہے۔ ان کے خیال میں ’’معرکۂ صدارت‘‘ اگست کے بجائے اب جون میں ہونے جا رہا تھا۔

واپسی پر ہم نے صدر سے ان کی طبیعت کا پوچھا تو کہنے لگے ’’کوئی ایسی بات نہیں ٹھیک ہوں‘‘۔ یہ راز اگلے دن کھلا جب انہوں نے شام کی نشست میں مجھے تفصیل سنائی۔

30مئی کو صوابی روانہ ہونے سے قبل انہوں نے اے ڈی سی سے کہا کہ جنرل مشرف صاحب سے بات کرائیں۔ اے ڈی سی کا رابطہ ہو گیا، ادھر سے فون ہولڈ کرایا گیا۔ تھوڑی دیر بعد مشرف صاحب کے آپریٹر نے کہا ’’چیف ایگزیکٹیو کہہ رہے ہیں کہ وہ دفتر پہنچ کر کال بیک کریں گے‘‘۔

حساس طبع صدر نے اسے اپنی سبکی جانا کیونکہ اکتوبر 1999سے اب تک کبھی ایسا نہ ہوا تھا۔ دن بھر بھی کوئی رابطہ نہ ہوا۔ رات کو فون آیا تو صدر نے کہا ’’جنرل صاحب ملاقات کے لئے کوئی وقت نکالیے‘‘۔ روایت یہ تھی کہ ایسی بات پر مشرف فوراً یا اگلے دن آجایا کرتے تھے، اس بار وہ کامل آٹھ دن بعد 6جون کو تشریف لائے۔ اُس دن بھی کہہ گئے ’’آپ دورہ چین کی تیاری کریں‘‘۔

یہ اگلے ہی دن 7جون کا ذکر ہے، صدر تارڑ نے دفتر میں آتے ہی پرنسپل سیکرٹری سعید احمد صدیقی اور مجھے یاد کیا۔ ایک فائل مجھے تھماتے ہوئے کہا ’’ذرا دیکھیں اسے‘‘ میں نے تھوڑی سی تفصیل پڑھی، چیف ایگزیکٹیو کے دستخطوں سے مزین ایک سمری تھی اس کے ساتھ ہی ایک آرڈیننس کا مسودہ بھی منسلک تھا۔ صدیقی صاحب نے بھی دیکھی۔

چیف ایگزیکٹیو سے آنے والی ہر سمری میں ان کے دستخط کے نیچے پانچ سطور میں ان کے عالی مرتبت عہدوں کا ذکر ہوتا تھا۔ دستخط کے عین نیچے جنرل پھر چیف ایگزیکٹیو، پھر چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی، پھر چیف آف آرمی اسٹاف اور آخر میں نام ’’پرویز مشرف‘‘ اس سمری میں بھی یہی ترتیب تھی۔

صدر کہنے لگے ’’ان لوگوں نے مجھے کیا سمجھ کر یہ آرڈیننس بھیج دیا ہے، لوگ کیا کہیں گے کہ یہ اتنا چھوٹا آدمی ہے، ان باتوں پر سودا بازی کرلی۔ میں ہرگز اس کی منظوری نہیں دوں گا‘‘۔ ہم دونوں نے ان کے موقف کی تائید کی البتہ کہا کہ فائل پر لکھت پڑھت کے بجائے طارق عزیز کو بلا کر بات کر لیں۔

صدر نے انٹرکام پر اے ڈی سی کو ہدایت دی ہم دونوں اٹھ کر ملٹری سیکریٹری بریگیڈیئر راشد محمود (بعد میں جنرل اور چیئرمین جوائنٹ چیف آف اسٹاف کمیٹی) کے دفتر میں آبیٹھے۔ ہم چائے پر گپ شپ کر ہی رہے تھے کہ طارق عزیز بھی پہنچ گئے۔ بولے ’’خیر تو ہے نا؟‘‘ وہیں بیٹھ کر چائے پینے لگے۔ اے ڈی سی ونگ کمانڈر حسیب پراچہ (اب ایئر مارشل اور ڈپٹی چیف آف آنر اسٹاف) نے صدر کو اطلاع کی۔

ذرا دیر بعد صدر نے انہیں بلوا لیا۔ علیک سلیک کے بعد فائل اٹھائی اور طارق عزیز کے حوالے کرتے ہوئے کہا ’’میں اس فائل پر کچھ لکھنا نہیں چاہتا، براہِ کرم آپ واپس لے جائیں‘‘۔ طارق عزیز نے فائل کھولی، اس کے حق میں پرزور دلائل دیے لیکن صدر کا فیصلہ حتمی تھا۔ میرا ضمیر مطمئن نہیں، میں اسکی منظوری نہیں دے سکتا ’’آخر اس فائل میں ایسا کیا تھا‘‘۔

فائل میں سجی سمری اور منسلک آرڈیننس کا موضوع صدرِ مملکت کی تنخواہ، پنشن اور مراعات میں خاطر خواہ اضافہ تھا ۔یہ ایک طویل فہرست تھی جس میں درج نہایت ہی اشتہا انگیز مراعات و سہولتوں کا تعلق صدرِ مملکت کی فراغت کے بعد سے تھا۔

صدر کا رویہ بے لچک تھا، طارق عزیز سے ملاقات سے قبل انہوں نے ہم سے اس فائل پر بات کرتے ہوئے کہا تھا ۔ان لوگوں نے مجھے گھر بھیجنے کی ٹھان ہی لی ہے تو ان نوازشات کی کیا ضرورت ہے ؟اگر یہ اپنے لئے چاہتے ہیں تو میرے کندھے پر کیوں بندوق رکھتے ہیں ؟

سو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں طارق عزیز کو بتا دیا کہ اس آرڈیننس کی منظوری نہیں دے سکتا ( منصب سنبھالنے کے کوئی آٹھ ماہ بعد 27فروری 2002ء کو صدر مشرف نے اس کی منظوری دیدی) ۔

فائل کا قضیہ تمام ہوا تو صدر تارڑ نے طارق عزیز سے کہا ’’مجھے بھی بہت سی اطلاعات ملتی رہتی ہیں اتنا بے خبر نہیں ہوں اچانک پیٹھ میں خنجر گھونپنا اچھی بات نہیں جو بھی ہے مجھے صاف صاف بتا دیا جائے۔ صدر نے آرمی ہائوس والی میٹنگ کا ذکر بھی کر دیا۔

طارق عزیز کے واپس جاتے ہی چیف ایگزیکٹو آفس میں ہا ہا کارمچ گئی۔سرِ شام ڈاکٹر قدیر خان دفتر سے گھر جا رہے تھے کہ جنرل غلام احمد کا فون آ گیا ۔گھر پہنچے تو شریف الدین پیرزادہ کی کال آگئی ۔

ڈاکٹر صاحب نے جو مناسب سمجھا کہہ دیا لیکن ہونٹوں نکلی کوٹھوں چڑھ چکی تھی۔ طارق عزیز اگلے ہی دن ، 8جون کو وقت لے کر ایک بار پھر صدرتارڑ سے ملنے آ گئے، کہنے لگے ’’میں نے آپ کی تمام باتیں چیف ایگزیکٹیو تک پہنچا دی ہیں، ان کا کہنا ہے کہ صدر صاحب کے ہاں کھانا کھائے بہت دن ہوگئے ،اگر آپ کی کوئی مصروفیت نہ ہو تو وہ 13جون کو آپ کے ساتھ ڈنر کرنا چاہتے ہیں‘‘۔

صدر نے اپنی مصروفیات کے کیلنڈر پر نگاہ ڈالی اور کہا ’’جی ٹھیک ہے ‘‘۔ طارق عزیز نے جیب سے ایک پرچی نکالتے ہوئے کہا ’’چیف نے مہمانوں کی لسٹ بھی دی ہے ‘‘۔ صدر نے پرچی تھام لی۔اس پر جنرل مشرف،جنرل محمود، جنرل یوسف، جنرل غلام احمد اور طارق عزیز کے نام درج تھے۔

’’یومِ عشائیہ‘‘ 13جون کو چین سے آئے وزیر مواصلات نے صدرِ تارڑ سے ملاقات کی ۔تب سرکاری طور پر صدر کے دورۂ چین کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔چینی مہمان نے کہا ’’مسٹر پریذیڈنٹ ہمارے ہاں ستمبر اور اکتوبر کے مہینے بہار کے ہوتے ہیں ۔

صدر عوامی جمہوریہ چین آپ کے دورے کے منتظر ہیں ‘‘۔ صدر نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولے ’’میں خود بڑی بے تابی سے دورۂ چین کا منتظر ہوں‘‘ مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ہو رہا تھا چینی اس سے بے خبر نہ تھے۔

عشائیے کے تمام مہمانانِ گرامی کی گاڑیاں نوبجے شب قافلے کی شکل میں صدارتی رہائشگاہ کے وسیع پورچ میں داخل ہوئیں۔کھانے کے بعد ڈرائنگ روم میں محفل جمی، قہوے کا دور شروع ہوا تو جنرل مشرف گویا ہوئے،سرہم سب ایک ضروری گزارش کے لئے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں ۔

سچی بات یہ ہے کہ ہم سب خاص طور پر میں بہت شرمندہ ہوں ۔آپ نے ہم سے بہت تعاون کیا جس کیلئے ہم آپ کے بے حد شکرگزار ہیں ۔اس وقت اکانومی کی صورتحال بہت خراب ہے بے یقینی کی وجہ سے سرمایہ کاری رک گئی ہے ۔

طویل تمہید کے بعد جنرل مشرف نے ذرا سا وقفہ لیا تو صدر تارڑ بولے جنرل صاحب ! میں یہ سب باتیں اچھی طرح سمجھتا ہوں ۔آپ جو بھی کہنا چاہتے ہیں بلا تکلف کہہ ڈالیں۔

چیف ایگزیکٹو بولے ، سر بات یہ ہے کہ اس سنگین صورتحال میں فوجی قیادت کی رائے ہے کہ میرے صدر بن جانے سے معاملات بہتر ہو جائیں گے ۔بس قومی مفاد کا ایشو ہے سر ،صدر تارڑ نے وہ سب کچھ کہہ دیا جو وہ کہنا چاہتے تھے۔

آخر میں انہوں نے کہا ’’اب جب کہ آپ لوگوں نے فیصلہ کر ہی لیا ہے تو مجھے صرف یہ بتا دیجئے کہ آپ ایسا کب کرنا چاہتے ہیں ؟‘‘سب نے جنرل مشرف کی طرف دیکھا انہوں نے کوئی تاریخ تو نہ دی البتہ بولے ’’آپ بتائیں یہ کس طرح کیا جائے ‘‘صدر تارڑ نے روکھے پن سے کہا ’’یہ آپ کا دردِسر ہے ‘‘ ایک سینئر جنرل نے اپنے لہجے میں جرنیلی طنطنہ بھرتے ہوئے کہا آپ استعفیٰ بھی تو دے سکتے ہیں۔ صدر تارڑ بولے’’کسے دوں استعفیٰ ؟‘‘ آئین کے تحت میں قومی اسمبلی کےا سپیکر کو استعفیٰ پیش کروں گا؟‘‘

ایک اور جرنیل نے تحکمانہ لہجے میں مشورہ دیا ’’آپ چیف ایگزیکٹیو کو دے دیں ‘‘۔اس جملے نے مرد بزرگ کی بوڑھی رگوں میں رینگتے لہو میں چنگاریاں سی بھر دیں ۔

جنرل کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ’’جنرل صاحب میں کسی انقلاب کے ذریعے نہیں آیا، میں نے آپ کے کسی پی سی او کا حلف بھی نہیں اٹھایا۔

آپ بہت طاقتور سہی لیکن جس آئین کا آپ نے اور میں نے حلف اٹھایا ہے اس کے تحت میں آپ کا سپریم کمانڈر ہوں ۔

کیا آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ میں اپنے ماتحت کسی سپاہی یا افسر کو استعفیٰ پیش کردوں اور وہ اس کی منظوری دے ؟ اور آخری بات سن لیں، میں استعفیٰ نہیں دوں گا ‘‘۔

ایک سناٹا چھا گیا شاید مرد بزرگ سے کسی کو اس جواب کی توقع نہ تھی ۔تنائو اور کشیدگی کے اسی اعصاب کش ماحول میں اجلاس برخاست ہو گیا۔ معزز مہمانان گرامی، پرتکلف عشائیے کے بعد ایک تلخ پیغام دے کر اور میزبان گرامی سے ایک دو ٹوک فیصلہ لیکر رخصت ہو گئے۔

اگلے دن 14جون کو جب صدر تارڑ مجھے یہ تفصیلات سنا رہے تھے ڈی جی آئی ایس آئی جنرل محمود کا فون آیا کہ وہ آج ہی ملنا چاہتے ہیں ۔ صدر نے اے ڈی سی سے کہا شام ساڑھے آٹھ بجے گھر پر آجائیں ۔ جنرل کا پیغام نہایت واضح تھا…. (جاری ہے )

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے