۲۰۲۰ : چین میں ایکسپریس ڈیلیوری کی ترقی پر ایک نظر

سال کے آخری دن چل رہے ہیں ۔وقت کے پیمانے کے طور پر سال کے آخر میں گزشتہ سال پر نظر ڈالنا ایک صحت مند روایت ہے کہ کیا کھویا پایا کیا ۔ یہ روایت انفرادی سطح پر بھی اچھی ہے اور اجتماعی طور پربھی۔ میں نے چین میں قیام کے دوران اس روایت کو نہایت توانا دیکھاہے ۔ چین کے مختلف شعبوں کا دنوں، ہفتوں مہینوں سہ ماہیوں سالوں پانچ سالوں دس سالوں یہاں تک کہ سوسال کے حساب سے کارکردگی کا ریکارڈ رکھا جاتا ہے ۔ اہداف کا تعین بھی کیا جاتا ہیں اور وقتا فوقتا کارکردگی کے اعداد وشمار بھی شئیر کیے جاتے ہیں۔ میں اگر یہ کہوں کہ چین کی ترقی میں ایک شاندار روایت منصوبہ بندی کی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ اس وقت چین کے مختلف شعبوں کی کارکردگی کے اعداد و شمارشٗیر کیے جارہے ہیں۔

کووڈ ۔۱۹ سے پہلے بھی تاہم خاص طور پر اس وبا کے نمودار ہونے کے بعد چین کی ایکسپریس ڈیلیوری یعنی ملک کے اندرپیکجز کی شکل میں ترسیلات نے اہم کردار ادا کیا ہے اور شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ جس کی وجہ سے سخت لاک ڈاون کے باوجود اشیائے ضرویہ کی ہموار فراہمی کو برقرار رکھا گیاہے ۔ نیچے دیے گئے اعداد و شمار سے آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ چین میں ایکسپریس ڈیلیوری کا شعبہ کتنا توانا ہے جس کے ذریعے نہ صرف اشیا کی تیز اور برقت ترسیل کی جاتی ہے بلکہ کروڑوں لوگوں کا روزگا ر بھی وابستہ ہے ۔ اور دو ہزار بیس جو ایک مشکل سال رہا ہے کے دوران بھی اس شعبے نے کتنی ترقی کی ہے ۔

چین کے ریاستی پوسٹ بیورو کے مطابق چین کے کورئیر سیکٹر نے رواں سال 80 ارب سے زائد پارسل کا ریکارڈ قائم کیا ہے۔پچھلے سال یہ تعداد ترسٹھ اعشاریہ پانچ ارب تھی۔ اس سے کووڈ ۔۱۹ کے باوجود چین کی ایکسپریس ترسیل کی صنعت کی مارکیٹ کی مضبوطی اور معیشت کی بحالی کا اظہار ہوتاہے ۔

وبا کی وجہ سے رواں سال چین کے ایکسپریس ترسیل کے کاروبار میں اتار چڑھاو ضرور آیا ہے ۔جنوری میں اس شعبے میں کمی دیکھنے میں آئی تاہم فروری میں بحالی شروع ہوئی۔ بیورو کے مطا بق ایکسپریس ترسیل کی صنعت وبا کے اثرات سے نکل آئی ہے اور اس کے یومیہ ترسیل شدہ پیکیجوں کی تعداد دوسو ملین رہی ہے۔ بیورو کے مطابق وبا کے بعد بحالی کی کوششوں ، آن لائن اور آف لائن مارکیٹوں کے انضمام ، اور 4 ملین کورئیرز کی خدمات کی بدولت یہ صنعت تیزی سے نمو کو برقرار رکھنے کے قابل ہوئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس شعبے کی ترقی میں ای کامرس کی ترقی نے اہم کردار ادا کیاہے۔ ای کامرس میں تیزی نے کھپت مارکیٹ کو تیسرے اور چوتھے درجے کے شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی علاقوں میں بھی پھیلایا ہے جواس شعبے کی ترقی کا بنیادی ذریعہ رہا ہے۔ اس نے صارفین کو آن لائن شاپنگ کے فوائد سے لطف اندوز ہونے اور ایکسپریس ترسیل کی صنعت کو خوشحال ہونے کا موقع فراہم کیا ہے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ اس شعبے نے وبا کے خلاف جنگ میں نمایا کردار اد اکیاہے۔ جب اس سال کے اوائل میں ووہان شہر لاک ڈاؤن میں تھا تو اس شعبے نے صوبہ حہ بے اور ووہان میں ۱۳ لاجسٹک کمپنیوں کو منظم کرتے ہوئےسامان کی ترسیل کے لئے دو گرین چینلز قائم کیے اور مجموعی طور پر وبا سے متعلق 489،800 میٹرک ٹن سامان کی فراہمی میں 87،500 ٹرکوں اور 779 پروازوں کا استعمال کیا۔

آپ کو اگر کبھی چین آنے کا اتفاق ہواہے یا کبھی موقع ملے تو یہاں کی سڑکوں پر ایکسپریس کی گاڑیاں جگہ جگہ ڈیلیوری پیکیجز کے ڈپو، بےشمار ایکسپیریس بائیکس نظر آئیں گی یہاں تک کہ اس مقصد کیلئے سپیشل طیاروں کا استعما ل بھی ہوتاہے ۔ آپ کے موبائل میں موجود درجنوں ایپس کے ذریعے آپ فروخت اور خریداری کرسکتے ہیں جو عام جنرل سٹور کے سامان سے لے کر کھانے پینے کی اشیا تک اور ایک سوئی سے لے کر کافی بڑی چیزیں جیسے الیکٹرانکس اورگاڑیا بھی خرید سکتے ہیں اور یہ اشیا ایک نہایت محفوظ اور موثر نظام کے ذریعے آپ تک پہنچتی ہیں ۔ چین میں نی ہا و کے علاوہ کویدی کا لفظ آپ کو سننے کو بہت ملے گا جس کا مطلب ڈیلیوری پارسل ہے ۔ آج کی تحریر کا مقصد اس شعبے کی ترقی کی ایک جھلک آپ کو دکھانی تھی ۔ اور ان دوستوں اور ہم وطنون کو راغب کرنا ہے جو ای کامرس اور ٹیکنا لوجی میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جو خود بھی روزگار کرنا چاہتے ہیں اوردوسروں کو بھی دینا چاہتےہیں۔ اس شعبے میں بڑی گنجائش ہے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے