کرک واقعہ: علماء جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ محمود خان کے مشیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و سائنس ضیاء اللہ بنگش نے کہا کہ کرک واقعہ مذہبی نہیں بلکہ چند شرپسند عناصر نے ایسا کیا تھا۔

پریس کانفرنس کرتے ہوئے ضیاء اللہ بنگش کا کہنا تھاکہ دونوں فریقین کے مابین معاہدہ ہوا، جرگے کو اختیار دیا گیا ہے تاہم آئندہ ہندوؤں کے مقدس مقامات کو نقصان نہیں پہنچانے دیاجائے گا۔

ہندو کونسل کے رمیش کمار کا کہنا تھاکہ ہم نے اتفاق کیا تھا کہ علماء جو فیصلہ کریں گے ہمیں منظور ہوگا جنہوں نے کیا تھا انہیں بھی افسوس تھا کہ غلط فہمی میں واقعہ ہوا۔

انہوں نے کہا کہ گرفتار افراد کی رہائی میں ہر قسم کا تعاون کریں گے۔

خیال رہے کہ گزشتہ سال دسمبر میں خیبرپختونخوا کے ضلع کرک کی تحصیل بانڈہ داؤد شاہ کے گاؤں ٹیری میں ہندؤں کے مندر کی توسیع کے خلاف مشتعل مظاہرین نے احتجاج کیا اور مندر کی عمارت کو توڑ پھوڑ کر آگ لگا دی تھی۔

مندر میں توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ کے الزام میں 31 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے