اور اب سکندر سلطان راجا؟ـ

عمران خان کو بااُصول اور دیانتدار الیکشن کمشنرز برداشت کیوں نہیں؟

پاکستان کی سیاسی جماعتیں یوں تو ہر وقت جمہوریت کا راگ الاپتی ہیں لیکن ان کی اپنی جماعت کے اندر کتنی جمہوریت اور اصول پسندی ہے‘یہ کھلا رازہے۔ہمارے سیاستدان اپنی دکان چمکانے کیلئے جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی اور جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد جیسے ایماندار‘ـ اصول پسند اور بے داغ لوگوں کے گن تو گاتے ہیں مگر اُنہیں اپنے ساتھ لے کر چلنا پسند نہیں کرتے کیونکہ انہیں ڈر رہتا ہے کہ کہیں ایسے لوگ اُن کے غلط کاموں میں رکاوٹ نہ بن جائیں۔ جسٹس سعید الزماں صدیقی اور جسٹس وجیہہ الدین احمد کی دیانتداری‘ـ شرافت‘ اصول پسندی اور ملک سے وفاداری شک و شبہ سے بالاتر ہے۔ یہ وہ شخصیات ہیں جنہوں نے ڈکٹیٹر کے سامنے بھی اصولوں پر سمجھوتا نہیں کیا اور اصولی موقف پر قائم رہتے ہوئے کیریئر کی قربانی دے دی مگر یہ ـ ایماندار اور اصول پسند لوگ شاید پاکستان کی سیاست کیلئے قابل قبول نہیں۔

اس رام کہانی کا پس منظریہ ہے کہ حکمران جماعت پاکستان تحریک انصاف نے الیکشن کمیشن پر سینیٹ انتخابات میں فرائض کی انجام دہی میں ناکامی کا الزام عائد کرتے ہوئے الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے اور نئے کمیشن کے قیام کا مطالبہ کیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کا ماضی اس بات کا گواہ ہے کہ انہوں نے کبھی کسی ایماندار اور اصول پسند شخص کو برداشت نہیں کیا۔عمران خان نے پاکستان تحریک انصاف کے دو‘ایماندار اور اصول پسند رہنماؤں تسنیم نورانی اور جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے ساتھ بھی یہی سلوک روا رکھا تھا۔حالانکہ پارٹی چیف الیکشن کمشنرز کی طرح موجودہ چیف الیکشن کمشنر آف پاکستان سکندر سلطان راجا کے نام کی منظوری بھی عمران خان دی تھی۔ سکندر سلطان راجا نے ایمانداری‘اصول پسندی اورحکومت وقت کے سامنے کلمہ حق کہہ کراور قانون پر عمل درآمد کرکے بہت سوں کو ناراض کر دیا ہے ۔

تین مارچ کو سینیٹ انتخابات میں حکومتی پہلوان کے‘ یوسف رضا گیلانی کے ہاتھوں چاروں شانے چت ہونے پر وزیراعظم عمران خان نے چار مارچ کو قوم سے خطاب کیااور الیکشن کمیشن کو ہدف تنقید بنائے رکھا۔ان کا کہنا تھا’ سینیٹ انتخابات خفیہ بیلٹ کے ذریعے کروا کر الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو نقصان پہنچایا۔صاف اور شفاف انتخابات کرانا الیکشن کمیشن کی ذمہ داری تھی‘ مجھے یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ میں کیوں کہا کہ خفیہ بیلٹ ہونا چاہیے۔وزیر اعظم عمران خان نے الزام لگایا کہ الیکشن کمیشن نے جمہوریت کو بے توقیر کرنے کا موقع دیا‘ اور یہ کہ آپ نے(الیکشن کمیشن) ملک کی اخلاقیات کو نقصان پہنچایا ہے‘۔

اگلے روز پانچ مارچ کوالیکشن کمیشن آف پاکستان کے چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی سربراہی میں ہنگامی اجلاس کے بعد جاری اعلامیے میں دو ٹوک کہا گیا ’ ایوان بالا کے انتخابات کے بعد وزیر اعظم اور وفاقی وزرا کے بیانات سن کر دکھ ہوا۔ کسی کی خوشنودی کی خاطر آئین و قانون کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ کمیشن میں فیصلے بغیر کسی دباؤ کے ہوتے ہیں تاکہ پاکستان میں جمہوریت کو فروغ ملے۔سینیٹ انتخاباتـ‘ آئین اور قانون کے مطابق کروائے گئے۔ کمیشن کے احکامات یا فیصلوں پر اعتراض کی صورت میں آئینی راستہ اختیار کیا جانا چاہیے اور کمیشن کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے۔ہم کسی بھی دباؤ میں نہ آئے ہیں اور نہ ہی آئیں گے۔ کمیشن کا کہنا تھا وہ سب کی سنتا ہے مگر اپنے فرائض صرف آئین کی روشنی میں انجام دیتا ہے ۔ اگر آئینی اداروں کی اسی طرح تضحیک کی جاتی رہی تو یہ ان کی (حکومت)کمزوری کے مترادف ہے نہ کہ الیکشن کمیشن کی ۔ الیکشن کمیشن کا کہنا تھاہر شخص اور سیاسی جماعت میں ہار تسلیم کرنے کا جذبہ ہونا چاہیے۔ اگر اختلاف ہے تو ثبوت کے ساتھ آکر بات کرنی چاہیے۔ہمیں کام کرنےدیں ۔قومی اداروں پر کیچڑ نہ اچھالیں۔

الیکشن کمیشن کے مؤقف پر خان صاحب شدید غصہ میں آ گئے۔ کیونکہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ جو وہ چاہتے ہیں اورجو وہ سوچتے ہیں وہی قانون ہونا چاہیے ۔ خان صاحب کی خوشنودی کے لیے تحریک انصاف کے وزرا بھی سامنے آ گئے۔ شبلی فراز اور فواد چودھری نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو تحریک انصاف کا کمیشن سمجھ کر الیکشن کمیشن کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ فواد چودھری نے کہا ’عمران خان کے بیان پر الیکشن کمیشن کو دکھی ہونے کے بجائے شرمندہ ہونا چاہیے‘ـ۔وزرا کی شعلہ بیانی کا مقصد محض چاپلوسی تھا جب کہ الیکشن کمیشن نےحقیقتاً وہ موقف اپنایا جوآئین پاکستان میںدرج ہے لیکن وہ بادشاہ سلامت کو گراں گزرا۔

[pullquote]اب لیے چلتے ہیں جب عمران خان کو ایسے ہی اصول پسند الیکشن کمیشن کا سامنا کرنا پڑا:[/pullquote]

1996 میں پاکستان تحریک انصاف کی بنیاد رکھی گئی جب کہ مارچ2013ء میں پاکستان تحریک انصاف کے پہلے انٹرا پارٹی الیکشن ہوئے۔ جس میں عمران خان کو بلا مقابلہ چیئرمین اور شاہ محمود قریشی کو وائس چیئرمین منتخب کیا گیا تھا۔لاہور میں چیئرمین شپ کے انتخاب کے لیے کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد عمران خان نے کہا تھا کہ دو بار سے زیادہ پارٹی میں کوئی بھی شخص چیئرمین نہیں بن سکے گا۔عمران خان کے کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے باوجود کوئی بھی امیدوار میدان میں نہ آسکا جس کی بدولت انہیں بلا مقابلہ’چن‘ـ لیا گیا۔

تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر حامد خان کا کہنا تھا اب دیگر عہدوں کے لیے انتخاب ہوگا۔پھر الیکشن ہوا اور اس پر پارٹی رہنماؤں کے اعتراضات سامنے آئے۔ اس پر عمران خان نے پارٹی انتخابات میں ہونیوالی بے ضابطگیوں کی تحقیقات کیلئے 12 اکتوبر 2013 کو جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی سربراہی میں انٹرا پارٹی الیکشن ٹریبونل قائم کیا۔ 17 اکتوبر 2014کو الیکشن ٹریبونل نے اپنی سفارشات میں کہا ’پارٹی کے جنرل سیکرٹر ی جہانگیر ترین اور وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک نے پارٹی میں اپنے عہدے بچانے کے لیے قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیاں کرنے کے ساتھ ساتھ ووٹ لینے کے لیے پیسوں کا استعمال بھی کیا ہے۔علیم خان اور نادر لغاری بھی قواعدو ضوابط کی خلاف ورزیاں میں ملوث ہیں۔ جہانگیر ترین‘ـ وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا پرویز خٹک ‘ـعلیم خان اور نادر لغاری کو پی ٹی آئی سے نکال دیا جائے۔ جب کہ انہوں نے عارف علوی‘سیف اللہ نیازی اورقاسم سوری کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔

18مارچ 2015 :انٹرا پارٹی الیکشن ٹریبونل نے دوبارہ کہا’ سنگین بے ضابطگیوں کے باعث پارٹی انتخابات دوبارہ کروائے جائیں ۔ انہوں نے الزام عائد کیا تھا پارٹی کو مافیا کی طرح چلایا جارہا ہے اور کوئی انتظامی چیک اینڈ بیلنس موجود نہیں‘ـ۔

21اپریل2015کوانٹرا پارٹی الیکشن ٹریبونل کے سربراہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے پارٹی چیئرمین عمران خان کو طلب کیا کہ وہ ٹربیونل کے فیصلوں پر عملدرآمد نہ ہونے پر وضاحت پیش کریں۔ اگلے روزایک پریس کانفرنس میں عمران خان نے کہا ’مصروفیت کی بنا پر جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین سے کہا تھا ویڈیو کانفرنس کر لیں لیکن وہ نہیں مانے‘۔ بہرحال خان صاحب کی منشا پر کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد نہیں ہوا۔ یہی نہیں‘پی ٹی آئی کور کمیٹی اجلاس کے بعد 25 اپریل2015 انٹرا پارٹی الیکشن پر قائم کیے گئے ٹریبونل کو ہی ختم کر دیا گیاتھا۔عمران خان کے دستخط سے جاری نوٹی فیکیشن میں کہا گیا ٹربیونل2013 کے پارٹی انتخابات پر بنایا گیا تھا،تاہم ٹربیونل کو22 مارچ 2015سے تحلیل سمجھا جائے۔عمران خان کی ناراضی جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کے اصولی مؤقف پر بڑھتی گئی اور نتیجہ یہ نکلا5 اگست 2015 کوتحریک انصاف نے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین کی رکنیت معطل کردی ۔

قانون و انصاف کے نعرے تولگائے جاتے ہیں لیکن پارٹی ’اے ٹی ایمز‘ـ کا معاملہ ہو تو قانون و انصاف کویکسرفراموش کردیا جاتاہے۔ پارٹی چیف الیکشن کمشنر کو زچ کیا گیا۔ذہنی اذیت دی گئی‘ـ ان کے جاری کردہ شوکاز تک کا جواب تک نہیں دیا گیا ۔ یوں25 ستمبر 2016 کو جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین نے پاکستان تحریک انصاف کو چھوڑنے کا فیصلہ کرتے ہوئے چیئرمین عمران خان کو استعفیٰ ارسال کیا‘ـ جسے چیئرمین نے ’آناًفاناً‘منظور کرلیا۔جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین احمد کا استعفے میں کہنا تھا ’پارٹی کے ساتھ مزید نہیں چل سکتا‘۔

مزید آگےچلتے ہیں جہاں عمران خان کو سکندر سلطان راجا اور جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین جیسے ایک اور اصول پسند شخص کا سامنا کرنا پڑا۔ 2016میں عمران خان انٹرا پارٹی الیکشن کے حوالے سے بہت پرجوش تھے جو مارچ میں ہونا تھے تاہم اس سے پہلے ان کے پارٹی کے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی سے بھی اختلافات ہوگئے‘اس پرپارٹی کے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی نے 26مارچ 2016کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ساتھ ہی دیگرممبران بھی مستعفی ہو گئے۔ 27 مارچ 2016 کو چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر تسنیم نورانی اور پنجاب اور سندھ کے الیکشن کمشنر ز کا استعفیٰ منظور کر لیا۔ سینیٹر نعمان وزیر کو قائم مقام چیف الیکشن کمشنر تعینات کر دیا گیا۔اس مرتبہ بھی وہی ہوا جوبدقسمتی سے پی ٹی آئی تاریخ کا المیہ ہے۔کہانی یہ تھی کہ عمران خان چاہتے تھے کہ مرکزی عہدوں پرا لیکشن ہو جب کہ باقی کونسل ممبران کونامزد کرنے کا اختیار منتخب قیادت کو ملنا چاہئے۔ تاہم الیکشن کمشنرتسنیم نورانی کا کہنا تھاوہ کسی غیر جمہوری کھیل کا حصہ نہیں بنیں گے۔ وہ بلا تفریق تمام عہدوں پر الیکشن کروانے کے خواہاں تھے۔

یکم اپریل 2016کواسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے عمران خان نے انٹرا پارٹی الیکشن میں غلطیاں تسلیم کرتے ہوئے پارٹی کے سابق الیکشن کمشنرز تسنیم نورانی اور جسٹس وجیہ الدین کو تنقید کا نشانہ بنایا۔ان کا کہنا تھا تسنیم نورانی نے مجھ سے میرا حق چھینا چاہتے تھے۔ پہلے جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین پھر تسنیم نورانی اور اب سکندر سلطان راجا۔ جن سے عمران خان صاحب صرف اس لئے اختلاف رکھتے ہیں کیونکہ وہ قانون کی کتاب کے مطابق فیصلہ دے رہےہیں، چاہے وہ کسی کے بھی خلاف ہوں لیکن بادشاہوں کو ایسا خیال ہی تکلیف دیتا ہے جو قانون کی ناک کو ان کی منشاکے مطابق موڑ نہ کر سکے ۔ یقیناً آپ معاملے کی گہرائی جان گئے ہوں گے کہ جسٹس ریٹائرڈ وجیہہ الدین ہوں یا تسنیم نورانی یا سکندر سلطان راجا ۔ ایسے نابغہ روزگار افراد ظلِ سبحانی کو کیوں کھٹکتے ہیں۔
(رہے نام اللہ کا)

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے