اب دیر کس بات کی

عالمی ادارہ صحت نے سات اپریل کو چینی ادارے سائنو فارم کی تیارکردہ کووڈ-۱۹ ویکسین کے عالمی سطح پر ہنگامی استعمال کی باضابطہ توثیق کر دی ہے ۔ صحت کی مصنوعات تک رسائی کے لئے ڈبلیو ایچ او کی اسسٹنٹ ڈائریکٹر جنرل ، ماریانجیلا سیماؤ نے کہا کہ ہر عمر کے مریضوں کیلئے اس ویکسین کی تاثیر اور کارکردگی اناسی فیصدسے زیادہ ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے حفاظتی ٹیکے ، ویکسین اور حیاتیاتی ایجنٹ کے ڈائریکٹر نے کہا کہ سائنوفارم کی تیار کردہ ویکسین شدید بیماری اور موت سے بچنے کے لیے بہت موثر ہے۔

ایک طرف ، ڈبلیو ایچ او کی چینی ویکسین کی توثیق نے چینی ویکسین کیخلاف ان سازشی تھیوریوں کو غلط ثابت کردیاہے جن میں کہا گیاتھا کہ چین کی ویکسین محفوظ نہیں ہے اور اس کی افادیت کم ہے ؛ تو دوسری طرف ، اس کا مطلب یہ ہے کہ اب چینی ویکسین ہنگامی استعمال کے لئے ڈبلیو ایچ او کی فہرست میں شامل ہے اور وہ ممالک جو ڈبلیو ایچ او سے گرین لائٹ کے منتظر تھے اب وہ چینی ویکسین حاصل کرسکتے ہیں۔

یہ خبر پاکستان اور ان تمام ممالک کیلئے اہم ہے جہاں سائنوویک ویکسین استعمال کی جارہی ہے اقوام متحدہ کی مہر کے بعد ویکسین کی معتبریت میں مزید اضافہ ہوگیاہے ۔ چین مخالف مغربی میڈیا اور کچھ فرسودہ سوچ کی بنا پر نئی چیزوں کے بارے میں بعض لوگ اس طرح کی باتیں کرتے ہیں ۔ کورونا وائرس کے بارے میں بھی ابتدائی طور پر اس طر ح کی بے بنیاد افواہیں پھیلائی گئیں کہ یہ لیبارٹری میں تیار کیا گیاہے یا کسی ایک ملک کی پیداوار ہے ۔اس کے بعد ویکسین کے بارے میں بھی اس طرح کی باتیں کی جانے لگیں کہ آیا یہ موثر ہے یا نہیں یا اس کی ضرورت ہے بھی نہیں۔ تاہم اب پاکستان میں صورتحال تبدیل ہورہی ہے اور زیا دہ سے زیادہ لو گ ویکسین لگوا رہے ہیں۔ جو خوش آئندہے۔

میں نے ویکسین کی دوسری ڈوز لگوائی اور میرا ویکسینیشن کا عمل مکمل ہوگیا تو پاکستان سے میرے کزن نے مجھ سے پوچھا کہ آپ نے کونسی ویکسین لگوائی ہے میں نے بتایا سائنو ویک کمپنی کی لگوائی ہے انہوں نے بتایا کہ یہاں پاکستان میں سائنو فارم لگائی جارہی ہے ۔ میں نے بتایا کہ دونوں موثر ہیں کیونکہ دونوں چین کی سرکاری سرپرستی میں کام کرنے والی کمپنیوں نے تیار کی ہیں اور بڑی تحقیق اور اطمینان اور احتیاط کے بعد استعمال کی جارہی ہیں۔

اس کے ساتھ ہی مجھے وہ تمام مرحلے یاد آگئے جو چین میں ویکسین کی تیاری کے سلسلے میں اختیار کیے گئے تھے ۔ اکثر لوگوں کو جلدی تھی کہ ویکسین جلد تیار ہو جائے تاکہ وائرس پر قابو پاتے ہوئے معمولات زندگی بحال ہوجائیں۔ لیکن طبی محقیقین اور سائنسدان سائسنی اصولوں کے مطابق اپنا کام کرتےہیں ویکسین کی تحقیق اور تیاری متعلقہ درکار مراحل سے گزری۔ کئی ممالک میں اس کے ٹرائل کیے گئے اور جب پوری تسلی اور اطمینان ہوگیا تو اس کے بعد استعمال کی منظوری دی گئی اور اب اقوام متحدہ کی توثیق کے بعد ہر قسم کی قیاس آرائیوں کا خاتمہ ہونا چاہیے ۔

مذکورہ ویکسین ڈبلیو ایچ او کی "ہنگامی استعمال کی فہرست” میں شامل ہونے والی چھٹی کووڈ-۱۹ ویکسین ہے جبکہ یہ کسی بھی غیر مغربی ملک کی تیار کردہ واحد ویکسین ہے۔ ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس ایڈاہانوم گیبریسس نے اسی روز پریس کانفرنس میں کہا کہ اس پیش رفت سے ایسی ویکسین کا دائرہ کار وسیع ہوجائے گا جو ویکسین تعاون کے عالمی منصوبے "کووایکس” کے تحت خریدی جاسکتی ہیں۔ اس سے مختلف ممالک میں ویکسین کی منظوری کے عمل میں تیزی آئے گی اور ویکسین کی برآمد سے ویکسی نیشن کو فروغ ملے گا۔

ایک ایسے وقت میں جب سائنو ویک کی تیسری لہر دنیا میں خوفناک انداز سے تیزی سے پھیل رہی ہے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے چین کے سائنو فارم کی کووڈ ۔19 ویکسین کی توثیق بروقت ہے۔

اس کے علاوہ ، بہت کم درجہ حرارت کی ضرورت کے بغیر سائنو فارم ویکسین کو ذخیرہ کرنا اور نقل و حمل کرنا آسان اور سستا ہے ۔اس کے علاہ ویکسین کی شیشی پرسٹیکر کی صورت میں ایک مانیٹر ہوتا ہے اگر ویکسین گرمی سے متاثر ہو تو اس سٹیکر کا رنگ تبدیل ہوجاتا ہے۔ اس طرح یہ اندازہ آسانی سے ہوجاتاہے کہ یہ ویکسین استعمال کے قابل ہے کہ نہیں۔

اس حقیقت کے باوجود کہ یہ پہلا چینی ویکسین ہے جسے ڈبلیو ایچ او نے باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے ، چین کو اس ویکسین کی حفاظت ، افادیت اور ان کے تیار کردہ ویکسین کے معیار کے بارے میں اعتماد ہے۔

دنیا کے بعض ممالک کے برعکس جنہوں نے ضرورت سے زیادہ ویکسین ذخیرہ کی یا ویکسین کے لیے درکار خام مال کی برآمد پر پابندی لگائی چین شروع سے ویکسین کی فراہمی کے سلسلے میں پوری دینا اور خاص طور پر ترقی پذیر ممالک کی مدد کررہاہے ۔اب تک چین ۸۰ سے زیادہ ترقی پذیر ممالک کو ویکسین فراہم کرچکاہے۔ چین کی یہ مدد ان ممالک کی وبا کیخلاف جنگ میں اہم کردار اد اکررہی ہے ۔

اس توثیق کے نتیجے میں ، چینی ویکسین عالمی ویکسین کی کوریج کو فروغ دینے میں مزید مددگار ثابت ہوگی ، جو نوول کورونا وائرس کو جلد سے جلد قابو میں لانے کے لئے عالمی یکجہتی کے لئے ضروری ہے۔

تو میرے پاکستانی دوستوں اب انتظار کس بات کا جائیے سائنوفارم ویکسین لگوائیے اپنے آپ کو محفوظ بنائیے اور ملک اور دنیا کو کووڈ ۔۱۹ سے نجات دلانے میں اپنا کردار ادا کیجئے ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے