سکھائے کس نے اسماعیل کو آدابِ فرزندی؟

‏حضرت ابراہیمؑ کی تابعداری اور حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری

جب حضرت اسماعیل کی عمر مبارک تیرہ سال ہوئی اور وہ کام کاج میں اپنے والد کا ہاتھ بٹانے قابل ہوئے تو حضرت ابراہیم علیہ السّلام کو خواب آیا کہ وہ اپنے بیٹے کو ذبح کر رہے ہیں- اور مسلسل تین راتوں تک ایک ہی خواب دیکھا کہ وہ اپنے لخت جگر کو اللہ کی راہ میں قربان کر رہے ہیں۔

انہوں نے عالم رُؤیا میں ملنے والے اس حکم الٰہی کی تعمیل کا ارادہ فرمایا اور بیٹے کے پاس گئے اور اس سے پوچھا:

’’میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ تجھے ذبح کر رہا ہوں بتا تیری رائے کیا ہے؟‘‘ (روایات میں ہے کہ حضرت ابراہیم ماں بچے کی خیریت دریافت کرنے کے لئیے جاتے رہتے تھے-)
فرماں بردار بیٹے نےعرض کیا کہ:

’’ آپ اللہ کے برگزیدہ بندے اور پیغمبر ہیں۔ آپ اللہ کے حکم کی تعمیل بجا لائیں، انشاء اللہ مجھے آپ صابر اور شاکر بندوں میں سے پائیں گے‘‘۔(سورۃ الصافات – آیت 102)

مشیت الٰہی کے تحت اللہ کے یہ دونوں برگزیدہ بندے گھر سے نکل کھڑے ہوئے۔ روایت ہے کہ ابلیس نے ان کے ارادہ کو متزلزل کرنے کے لئے یہ طریقہ اختیار کیا کہ پہلے وہ حضرت ہاجرہؓ کے پاس آیا اور انہیں حضرت ابراہیم علیہ السّلام کے ارادہ سے آگاہ کیا اور بتایا کہ وہ حضرت اسماعیلؑ کو ذبح کرنے لے جا رہے ہیں۔بی بی ہاجرہؓ نے فرمایا کہ اسماعیلؑ ہماری اکلوتی اولاد ہے اور بہت دعاؤں کے بعد یہ نعمت اللہ نے ہمیں عطا کی ہے، اسماعیلؑ کا باپ ایسا نہیں کر سکتا کہ بلا وجہ اسے جان سے مار دے۔

ابلیس نے وار کارگر ہوتا دیکھ کر کہا، تمہارے اللہ نے ابراہیمؑ کو یہی حکم دیا ہے کہ اپنے بیٹے کو قربان کر دو۔ یہ سن کر بی بی ہاجرہؓ نے کہا کہ ’’اگر یہ میرے خالق کا حکم دیا ہے تو میں اس کی رضا پر راضی ہوں‘‘۔ حضرت ہاجرہؓ کو بہکانے میں ابلیس جب ناکام ہوا تو حضرت ابراہیمؑ کے پاس آیا اور ان کے اندر موجود پدرانہ شفقت کے جذبات کو مہمیز کرنے کے لئے بولا کہ آپ عمر رسیدہ ہیں اور اسماعیلؑ آپ کی اکلوتی اولاد ہے۔ اگر آپ نے اپنے بیٹے کو مار ڈالا تو آپ کی نسل نہیں بڑھے گی۔ حضرت ابراہیمؑ نے جواب میں فرمایا

’’اسماعیلؑ سے میرا تعلق اللہ کی معرفت قائم ہے۔ اس سے میرا واسطہ اور تعلق صرف اس بناء پر ہے کہ اللہ نے اس کی پیدائش کے لئے میرا گھر منتخب فرمایا ہے۔ یہ بیٹا میرے پاس اللہ کی امانت ہے۔ اللہ ہم سب کا مالک اور مختارِ کُل ہے۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے حکم دے ہم سب اس کے تابع فرمان ہیں۔‘‘

حضرت ابراہیمؑ کے جواب سے ابلیس کو سخت مایوسی ہوئی لیکن اس نے حکم الٰہی کی تعمیل سے انہیں باز رکھنے کی کوشش جاری رکھی۔ اسے ایک اور ترکیب سوجھی کہ حضرت اسماعیلؑ کی کم عمری کا فائدہ اٹھا کر انہیں اپنے باپ سے متنفر کر دے لیکن حضرت اسماعیلؑ نے اس کے ناپاک ارادوں کو خاک میں ملا دیا۔ حضرت اسماعیلؑ نے فرمایا۔’’میں اس بات پر بخوشی راضی ہوں جو میرے اللہ کا حکم ہے ، میرے والد اللہ کے برگزیدہ بندے ہیں۔ ملائکہ مقربین کے سردار جبرائیل ان کے پاس وحی لے کر آتے ہیں، ان کا ہر عمل اللہ کے حکم کے تابع ہے۔ مجھے قربان کر دینے کا حکم انہیں اللہ کریم نے براہ راست خواب میں دیا ہے اور انبیاء کے خواب سچ ہوتے ہیں۔‘‘

کہا جاتا ہے کہ قربان گاہ کی طرف جاتے ہوئے ابلیس نے تین بار ان کے ارادہ میں خلل انداز ہونے کی کوشش کی اور ہر بار حضرت ابراہیمؑ اور حضرت اسماعیلؑ نے اس پر سنگ باری کی اور اس کو اپنی راہ میں حائل ہونے نہ دیا۔ یہی وہ سنت ہے جس کو حجاج کرام ہر سال حج کے موقع پر دہراتے ہیں اور یہ سنت ’’رمی‘‘ کہلاتی ہے۔

دونوں باپ بیٹے جب اس مقام پر پہنچے جو موجودہ زمانے میں ’’مِنیٰ‘‘ کہلاتا ہے تو حضرت ابراہیمؑ نے حضرت اسماعیلؑ کو پیشانی کے بل زمین پر لٹا دیا اور گلے پر چھری پھیر دی۔ اللہ نے چھری سے کاٹنے کی طاقت کو روک دیا- حضرت ابراہیم نے چھری کو چلنے کا حکم دیا اور ایسا تین بار ہوا- اور تب اللہ کی طرف سے ابراہیم علیہ السلام پر وحی نازل ہوئی فرمایا؛

’’اور ہم نے اس کو پکارا یوں کہ اے ابراہیم تو نے سچ کر دکھایا خواب، ہم یوں دیتے ہیں بدلا نیکی کرنے والوں کو۔ بے شک یہی ہے صریح جانچنا اور اس کا بدلا دیا ہم نے ایک جانور ذبح کو بڑا۔‘‘(سورۃ الصّافات – آیت 105 تا 107)

حضرت ابراہیمؑ کی تابعداری اور حضرت اسماعیلؑ کی فرمانبرداری بارگاۂ ایزدی میں مقبول ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے حضرت اسماعیلؑ کو ذبح ہونے سے بچا لیا۔ ان کی جگہ جس جانور کی قربانی دی گئی اس سے متعلق روایت یہ ہے کہ وہ جنّت سے لایا گیا ایک مینڈھا تھا۔ یہی وہ عظیم قربانی ہے جس کو تا قیامت امت مسلمہ کے لئے عملی نمونہ بنا دیا گیا ہے۔

بعد اس کے اللہ تعالی نے حضرت ابراہیم اور حضرت اسماعیل علیہم السلام کو کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا-
کعبتہ اللہ کے بارے روایات میں ہے کہ سب سے پہلے اسے فرشتوں نے تعمیر کیا پھر اسی جگہ پر حضرت آدم علیہ السلام نے اور بعد ان کے ان کے بیٹے حضرت شیث علام نے بیت اللہ کو بنایا- پھر طوفان نوح میں یہ عمارت بھی ختم ہوئی- بعد اس کے ٹھیک اسی جگہ پر حضرت ابراہیم کو کعبہ کی تعمیر کا حکم دیا گیا-

حضرت ابراہیم علیہ السلام مکہ آتے تو قیام نہ کرتے مگر تیسری بار پھر تشریف لائے ، اللہ کا حکم تھا کہ تعمیر کعبہ کریں ۔ پہنچے تو حضرت اسماعیل علیہ السلام کو درخت کے سائے تلے زم زم کے پاس بیٹھے پایا، آپ تیر بنارہے تھے ، حضرت اسماعیل علیہ السلام نے دیکھا تو کھڑے ہو گئے ، باپ بیٹے بغل گیر ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے فرمایا ” بیٹا اللہ تعالیٰ نے مجھے ایک حکم دیا ہے۔

حضرت اسماعیل علیہ السلام بولے ”تو اطاعت کیجئے “۔ فرمایا “ کیا تو میری مدد کرے گا ؟ کہا “ کیوں نہیں ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام نے کہا اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم دیا ہے کہ یہاں ایک گھر بناؤں ۔ حضرت اسماعیل علیہ السلام پتھر لاتے جاتے تھے اور حضرت ابراہیم بناتے جاتے تھے ، جب تعمیر ذرا بلند ہوگئی تو حضرت اسماعیل علیہ السلام ایک پتھر اٹھا کر لائے تاکہ آپ اس پر کھڑے ہو کر تعمیر کریں (یہی مقام ابرہیم علیہ السلام ) دونوں باپ بیٹے دعا کرتے جاتے تھے کہ ” اے پروردگار ہم سے قبول فرماتو سننے والا جاننے والا ہے۔

انہوں نے اس گھر کی تعمیر نہ مٹی سے کی نہ چونے سے بلکہ بس پتھر پر پتھر رکھتے چلے گئے ۔ نہ اس کی چھت بنائی بعدازاں مختلف ایام میں بیت اللہ کی تعمیر ہوتی رہی ۔ حتیٰ کہ قریش نے اس کی تعمیر کی ۔ کہتے ہیں کہ اس وقت حضرت اسماعیل علیہ السلام کی عمر بیس سال تھی ، بعض مورخین نے کچھ زیادہ بھی بتائی ہے ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حجر کو بیت اللہ کے پہلو میں حضرت اسماعیل علیہ السلام کی بکریوں کا باڑہ بنایا تھا اور اس پر پیلو کی چھت تھی ۔پہلے بیت اللہ کی جگہ ایک سرخ ٹیلا تھا۔ جسے اکثر سیلاب ادھر ادھر سے کاٹتا رہتا تھا۔

جب حضرت ابراہیم علیہ السلام تعمیر خانہ کعبہ سے فارغ ہوگئے تو انہوں نے حضرت اسماعیل علیہ السلام سے ایک ایسے پتھر کا مطالبہ کیا جسے بطور علامت کے رکھ سکیں تاکہ وہ آغاز طواف کے لئے بطور نشانی کے استعمال ہو سکے کہتے ہیں کہ حضرت جبریل علیہ السلام اس پتھر کو بوقبیس پہاڑ سے لائے تھے۔ آپ نے اس اس مقام پر رکھ دیا جہاں وہ اب قائم ہے روایت ہے کہ یہ بہت زیادہ روشن تھا۔ حضرت جبریل علیہ السلام نے تمام مقام دکھائے پھر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ لوگوں کو حج کے لئے پکاریں

وَ اَذِّنْ فِی النَّاسِ بِالْحَجِّ یَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ یَّاْتِیْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِیْقٍ(۲۷

اعلان کردیجئے لوگوں کو حج کے لیے ، وہ آئیں گے پیدل اور دیلی اونٹنیوں پر سوار جوآئیں گی ہر وسیع گہرے راستہ ہے۔

ابن کثیر اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کہا ” پروردگار! میری آواز لوگوں تک کیسے پہنچ سکتی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ” آپ پکاریئے ہم آپ کی پکار کو لوگوں تک پہنچادیں گے۔ تفسیرجلالین میں ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ابوقبیس پہاڑ پر چڑھ کر پکارا ” اے لوگو ! اللہ تعالیٰ نے ایک گھر بنایا ہے اور تم پر حج فرض کیا ہے لہٰذا تم اپنے پروردگار کو لبیک کہو۔

آپ نے داہنے ، بائیں شمال وجنوب میں منہ کرکے آوازدی اور لوگوں نے لبیک کہی ۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ہرسال حج کے لئے آیاکرتے بعدازاں تمام انبیاء اور ان کی امتیں حج کے لئے آتے رہے۔ روایت ہے کہ پچھتر انبیاء نے حج کیا اور منیٰ میں نماز ادا کی۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے