[pullquote]کیمسٹری کا امسالہ نوبل انعام جرمنی اور امریکا کے دو سائنس دانوں کے نام[/pullquote]
جرمن سائنس دان بینجمن لسٹ اور امریکی محقق ڈیوڈ میکمِلن کو مشترکہ طور پر کیمسٹری کے امسالہ نوبل انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ یہ اعلان آج بدھ کے روز سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں کیا گیا۔ جیوری کے فیصلے کے مطابق ان دونوں ماہرین کو یہ انعام دینے کا فیصلہ آرگینوکیٹالیسس یا مالیکیولر کنسٹرکشن کے لیے ایک نئے آلے کی ایجاد کی وجہ سے کیا گیا۔ نوبل کمیٹی کے مطابق ان ماہرین کی اس ایجاد سے دوا سازی کے شعبے میں ریسرچ پر گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
[pullquote]امریکی اور چینی صدور کا تائیوان کی صورت حال پر تبادلہ خیال[/pullquote]
امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے چینی ہم منصب شی جن پنگ سے بات چیت کی ہے اور صدر شی تائیوان کے حوالے سے معاہدے کی پاسداری کریں گے۔ وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران صدر بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے اپنے چینی ہم منصب سے تائیوان کے بارے میں گفتگو کی، جس میں تائیوان کے حوالے سے امریکی چینی معاہدے کے احترام پر اتفاق کیا گیا۔ اس معاہدے کے تحت امریکا ون چائنہ پالیسی پر قائم رہنے کا پابند ہے۔ اسی لیے امریکا سرکاری سطح پر تائیوان کے دارالحکومت تائی پی کو علیحدہ سے تسلیم کرنے کے بجائے تمام معاملات بیجنگ کے ساتھ طے کرنے کا پابند ہے۔
[pullquote]امریکا نے ایک بار پھر اپنے ایٹمی وار ہیڈز کی تعداد کا اعلان کر دیا[/pullquote]
امریکا نے گزشتہ چار برسوں میں پہلی مرتبہ اپنے جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد کا اعلان کر دیا ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق گزشتہ سال تیس ستمبر تک واشنگٹن کے پاس تیس ہزار سات سو پچاس جوہری ہتھیار موجود تھے۔ یہ تعداد ستمبر دو ہزار سترہ کے مقابلے میں امریکی نیوکلیئر وار ہیڈز کی تعداد میں بہتر کی کمی کی نشاندہی کرتی ہے۔ امریکا کے پاس جوہری ہتھیاروں کی مجموعی تعداد سن دو ہزار تین تک دس ہزار سے زائد ہوا کرتی تھی۔ انیس سو سڑسٹھ میں جب سرد جنگ عروج پر تھی، امریکا کے پاس تیس ہزار سے زائد جوہری وار ہیڈز ہوتے تھے۔ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایسے اعداد و شمار کو عسکری راز قرار دیا تھا۔ دوسری طرف موجودہ صدر جو بائیڈن کی حکومت روس کے ساتھ تخفیف اسلحہ سے متعلق بات چیت میں آسانی کے لیے شفافیت کو ترجیح دیتی ہے۔
[pullquote]متحدہ عرب امارات سے جمہوریت نواز کارکن کی رہائی کا مطالبہ[/pullquote]
اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی سابق کمشنر میری روبنسن نے متحدہ عرب امارات پر زور دیا ہے کہ وہ جمہوریت کی حمایت میں مہم چلانے والے ایک معروف زیر حراست کارکن کو رہا کرے۔ اس کارکن کو تین سال قبل سوشل میڈیا پر حکومت پر تنقید کے الزام میں جیل میں ڈال دیا گیا تھا۔ میری روبنسن کے مطابق احمد منصور نامی یہ کارکن دس برس قید کی سزا کاٹ رہے ہیں اور جیل میں انہیں غالباً بدسلوکی اور ایذا رسانی کا سامنا ہے۔ متحدہ عرب امارات کی حکومت نے تاہم اس دعوے کی تردید کی ہے۔
[pullquote]امریکا کے ساتھ تعلقات میں یورپی یونین اپنے لیے نئے کردار کی تلاش میں[/pullquote]
یورپی یونین کے سربراہان مملکت و حکومت سلووینیا میں ہونے والے ایک اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر یونین کی زیادہ سے زیادہ خود انحصاری کے موضوع پر بات چیت کر رہے ہیں۔ یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ امریکا کی طرف سے حالیہ کچھ عرصے کے دوران کیے جانے والے یکطرفہ فیصلوں کے تناظر میں یورپی یونین کو عالمی سطح پر اپنی پوزیشن کا نئے سرے سے واضح تعین کرنا ہو گا۔ بَردو پیلس میں ہونے والے اس سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کی کونسل کے صدر شارل مِشیل نے کہا کہ یورپی باشندوں کو سوچنا چاہیے کہ وہ موجودہ شراکت داری کے فریم ورک کے اندر رہتے ہوئے کس طرح زیادہ سے زیادہ خود مختار ہو سکتے ہیں۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے اس موقع پر ٹیکنالوجی، صنعتی، مالیاتی اور عسکری سطح پر یورپ کو مضبوط تر بنانے کا مطالبہ کیا۔
[pullquote]روزمرہ زندگی میں نسل پرستی برداشت نہیں کی جانا چاہیے: جرمن صدر[/pullquote]
وفاقی جرمن صدر فرانک والٹر اشٹائن مائر نے روزگار کے لیے ترک باشندوں کو جرمنی بلانے سے متعلق ترک جرمن معاہدے کی ساٹھویں سالگرہ کے موقع پر ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جرمنی میں مہمان کارکنوں اور ان کی نئی نسل کو معاشرے میں مزید بہتر طریقے پر قبول کرنے پر زور دیا۔ جرمن صدر نے اس امر کا اعتراف بھی کیا کہ جرمنی میں ترک تارکین وطن کو روزگار کی منڈی اور رہائش کے لیے گھروں کی تلاش میں امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ برلن میں منعقدہ ایک مرکزی تقریب میں صدر اشٹائن مائر کا کہنا تھا کہ جرمنی میں روزمرہ زندگی میں نسل پرستانہ رویے ہرگز برداشت نہیں کیے جانا چاہییں۔ وفاقی جرمن حکومت نے 1961 ء میں ترکی کے ساتھ مہمان کارکنوں کی بھرتی کا ایک معاہدہ کیا تھا۔ اس معاہدے کے تحت شروع میں ہزاروں ترک مہمان کارکنوں کو جرمنی میں صرف دو سالہ قیام کی اجازت دینے کا سوچا گیا تھا۔
[pullquote]جرمن وزارت دفاع میں افغانستان کے موضوع پر بحث کا آغاز[/pullquote]
آج بدھ چھ اکتوبر سے وفاقی جرمن وزارت دفاع میں افغانستان میں جرمن مشن پر بحث شروع ہو رہی ہے۔ اس بحث میں وفاقی جرمن فوج کے افغانستان میں دو عشروں پر محیط مشن سے سیکھے گئے سبق کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے علاوہ برلن ہونے والی اس بحث میں وفاقی جرمن فوج کے دیگر مشنوں پر بھی غور کیا جائے گا، جن میں مغربی افریقی ملک مالی میں جرمن فوجی مشن بھی شامل ہو گا۔ اس بحث کے افتتاحی اجلاس سے جرمن وزیر دفاع آنےگرَیٹ کرامپ کارن باؤر اور مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ بھی خطاب کریں گے۔
[pullquote]برطانوی سفارت کاروں کے کابل میں طالبان حکومت سے اولین مذاکرات[/pullquote]
برطانوی سفارت کاروں اور طالبان کے درمیان پہلی ملاقات گزشتہ روز کابل میں ہوئی۔ برطانوی دفتر خارجہ نے ایک بیان میں بتایا کہ افغانستان کے لیے وزیر اعظم بورس جانسن کے خصوصی مندوب سائمن گاس اور دوحہ میں قائم برطانیہ کے افغانستان مشن کے ناظم الامور مارٹن لونگڈین نے طالبان رہنماؤں سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے افغانستان کو درکار امداد پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ افغان طالبان نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس ملاقات میں باہمی سفارتی تعلقات کی بحالی پر بھی بات چیت ہوئی۔ ملاقات میں زیادہ تر تبادلہ خیال افغانستان میں انسانی بحران سے نمٹنے، سکیورٹی کی صورت حال میں بہتری اور دہشت گردی سے جڑے مسائل پر کیا گیا۔
[pullquote]سری نگر میں محتلف دہشت گردانہ واقعات میں تین افراد ہلاک[/pullquote]
بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں تین مختلف مقامات پر تین افراد کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔ پولیس نے ان ہلاکتوں کا الزام مبینہ دہشت گردوں پر لگایا ہے۔ پولیس کے مطابق منگل کے روز رونما ہونے والے پہلے واقعے میں مشتبہ عسکریت پسندوں نے سری نگر شہر میں ایک معروف کشمیری ہندو دوا فروش مکھن لال بِندرُو پر اس کے ڈرگ اسٹور میں داخل ہو کر فائرنگ شروع کر دی۔ یہ ہندو شہری بعد ازاں ہسپتال میں دم توڑ گیا۔ اس واقعے کے ایک گھنٹے کے اندر اندر بھارت کی مشرقی ریاست بہار سے تعلق رکھنے والے ایک خوانچہ فروش کو بھی سری نگر کے ایک دوسرے علاقے میں گولی مار دی گئی۔ تیسرا واقعہ منگل کی شب سری نگر کے ایک شمالی علاقے میں اُس وقت پیش آیا، جب ایک ٹیکسی ڈرائیور کو مسلح افراد نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا۔ مقامی پولیس نے ان تینوں ہلاکتوں کو دہشت گردی کے واقعات قرار دیا ہے۔
[pullquote]لیبیا میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد اگلے برس تک ملتوی[/pullquote]
لیبیا میں اس سال دسمبر میں ہونے والے مجوزہ پارلیمانی انتخابات ملتوی کر دیے گئے ہیں۔ یہ انتخابات اب اگلے برس جنوری میں کرائے جائیں گے۔ اس امر کا اعلان ملکی پارلیمان کے ترجمان نے تبروک شہر میں صحافیوں سے گفتگو میں کیا۔ قبل ازیں یہ الیکشن اسی سال 24 دسمبر کو ہونا تھے۔ عالمی برادری کی رائے میں پارلیمانی انتخابات کا انعقاد ہی اس شمالی افریقی ملک میں خانہ جنگی کے مستقل خاتمے کی جانب فیصلہ کن قدم ہو گا۔ لیبیا کے مشرقی شہر تبروک میں قائم پارلیمان اور پارلیمانی ایوان بالا کے طور پر کام کرنے والی طرابلس کی ہائی کونسل آف اسٹیٹ میں نئے قومی الیکشن کے انعقاد کے لیے مناسب حالات و شرائط پر کئی ہفتوں سے اختلاف رائے جاری ہے۔
[pullquote]گوانتانامو کے قیدی پر سی آئی اے کے تشدد سے متعلق امریکی سپریم کورٹ میں سماعت[/pullquote]
امریکی سپریم کورٹ خلیج گوانتانامو بے کے امریکی حراستی مرکز میں رکھے گئے ایک قیدی پر ملکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کی طرف سے تشدد سے متعلق ایک مقدمے کی سماعت کر رہی ہے۔ اس میں قیدیوں کے ساتھ ناروا سلوک کو قومی سلامتی کے نام پر خفیہ رکھنے کی امریکی حکومتی خواہش کو چیلنج کیا گیا ہے۔ القاعدہ سے تعلق کے شبے میں پاکستان سے گرفتاری کے بعد پولینڈ کی ایک جیل میں سی آئی اے کے مبینہ تشدد کا نشانہ بننے والے ابو زبیدہ نامی قیدی کی خواہش ہے کہ یہ امریکی عدالت نائن الیون حملوں کے بعد گرفتار کیے گئے مشتبہ افراد سے تفتیش کے لیے سی آئی اے کے طریقہ کار میں شامل دو ماہرین نفسیات کو بھی اس مقدمے میں گواہی کے لیے مجبور کرے۔ ابوزبیدہ کے مطابق انہی دونوں اہلکاروں نے پولینڈ میں ایک خفیہ مقام پر سن دو ہزار دو اور دو ہزار تین میں ان پر شدید تشدد کیا تھا۔ امریکی محکمہ انصاف نہیں چاہتا کہ یہ اہلکار عدالت میں کوئی بیان دینے پر مجبور کیے جائیں۔
[pullquote]یورپی یونین کی یہودیوں کے طرز زندگی میں تنوع کے فروغ کی کوشش[/pullquote]
یورپی کمیشن نے اعلان کیا ہے کہ وہ یورپ میں بڑھتی ہوئی سامیت دشمنی کا بھرپور مقابلہ کرے گا۔ یورپی کمیشن کی صدر اُرزُولا فان ڈئر لاین نے کہا کہ یورپی یونین یہودی باشندوں کی اجتماعی زندگی کو اس کے تمام تر تنوع کے ساتھ فروغ دینا چاہتی ہے۔ یونین کے رکن تمام ستائیس ممالک اس بارے میں اپنی اپنی قومی حکمت عملی تیار کریں گے۔ یہ یورپی موقف جرمن شہر لائپزگ میں ایک یہودی موسیقار کے ساتھ پیش آنے والے اس واقعے کے بعد سامنے آیا ہے، جو جرمن میڈیا میں جلی سرخیوں کا موضوع بنا۔ لائپزگ کے ایک ہوٹل میں ایک یہودی موسیقار کو ہوٹل کے عملے کے ایک رکن نے ستارہ داؤد والا لاکٹ اتارنے کے لیے کہہ دیا تھا۔ اس واقعے کی اسے یہود دشمنی کا مظہر قرار دے کر مذمت کی گئی تھی۔