آڈیو لیکس کے معاملے پر وفاقی حکومت نے تین رکنی جوڈیشل کمیشن تشکیل دے دیا ہے۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ ہوں گے، جبکہ بلوچستان ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اور اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس بھی کمیشن کے ارکان ہیں۔
وفاقی حکومت کی جانب سے بنائے گئے تحقیقاتی کمیشن کے ٹی او آرز کے مطابق ’کمیشن سابق وزیراعلیٰ پنجاب اور حاضر سروس جج سپریم کورٹ کی آڈیو لیک کی تحقیقات کرے گا۔‘
علاوہ ازیں ’سابق وزیر اعلیٰ پنجاب چوہدری پرویز الٰہی اور وکیل کی سپریم کورٹ کے بینچ کے سامنے مقدمہ مقرر کرنے کی آڈیو لیک کی بھی تحقیقات کی جائیں گی۔‘
اس کے علاوہ یہ کمیشن سابق چیف جسٹس آف پاکستان اور ایک وکیل کی مبینہ آڈیو لیک کی بھی تحقیقات کرے گا۔
حکومت کے تیار کردہ ٹی او آرز کے مطابق کمیشن پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان کی اپنے پارٹی رہنما سے سپریم کورٹ میں تعلقات سے متعلق مبینہ آڈیو، چیف جسٹس آف پاکستان کی ساس اورایک وکیل کی اہلیہ کی سپریم کورٹ میں زیر سماعت مقدمات سے متعلق مبینہ آڈیو اور سابق چیف جسٹس کے بیٹے اور دوست کے درمیان ہونے والی بات چیت کی بھی تحقیقات کرے گا۔
میڈیا کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے ادارے کی ساکھ کو آڈیو لیکس نے متاثر کیا ہے اور کمیشن قائم کرنا حکومت کا اختیار ہے۔ وفاقی حکومت نے 2017 کے ایکٹ کے تحت پہلے بھی کمیشن بنائے ہیں اور یہ کمیشن بھی اس ایکٹ کے تحت بنا ہے۔
وزیرقانون کہنا تھا کہ اسلام آباد اور بلوچستان ہائی کورٹس کے چیف جسٹس اس کمیشن کے ممبر ہوں گے۔ اس کمیشن میں چیف جسٹس آف پاکستان کو نہیں رکھا گیا نہ ان سے رائے لی گئی ہے۔
وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ کیونکہ چیف جسٹس آف پاکستان سے متعلق بھی مبینہ آڈیو لیکس سامنے آئیں ہیں اس لیے جو دوسرے نمبر پر سینیئر ترین جج ہیں ان کو یہ سربراہی سونپی گئی ہے۔
انھوں نے کہا کہ کمیشن کے ٹی اور آرز کے مطابق کمیشن نہ صرف ان 11 سے 12 آڈیو لیکس کے معاملے کا جائزہ لے گا بلکہ اس کو یہ اختیار ہو گا کہ اس کے علاوہ بھی کوئی آڈیو سامنے آئی ہے تو کمیشن اس کا معاملے کا بھی جائزہ لے سکتا ہے۔