جنوبی وزیرستان ؛ ہیڈکوارٹر لدھا منتقلی عوام کے لیے ایک اور لالی پاپ، ڈی سی سمیت تمام عملہ غائب، شہری شدید پریشان

جنوبی وزیرستان اپر کے عوام کو ضلعی ہیڈکوارٹر لدھا کی منتقلی ایک اور لالی پاپ ثابت ہوئی، جہاں عملی طور پر نہ کوئی سہولت میسر ہے اور نہ ہی انتظامی عملہ موجود ہے۔

اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ لدھا ہیڈکوارٹر میں ڈپٹی کمشنر سمیت تمام افسران اور عملہ مسلسل غیر حاضر رہتے ہیں، جس سے عوامی مسائل میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

شہریوں کے مطابق جب وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے لدھا میں ڈپٹی کمشنر آفس پہنچتے ہیں تو وہاں عملہ غائب ہوتا ہے اور بتایا جاتا ہے کہ ڈی سی ٹانک میں موجود ہیں۔ جب شہری ٹانک پہنچتے ہیں تو وہاں انہیں کہا جاتا ہے کہ ڈی سی وزیرستان میں ہیں۔ اس دوغلی پالیسی نے عوام کو ذہنی اذیت میں مبتلا کر دیا ہے۔

مقامی افراد نے اس صورتحال پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر لدھا کو ہیڈکوارٹر بنایا گیا ہے تو انتظامیہ کو مستقل بنیادوں پر وہاں موجود ہونا چاہیے، نہ کہ عوام کو دھوکہ دے کر بار بار چکر لگوائے جائیں۔

شہریوں نے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ اس لایعنی اور تکلیف دہ صورت حال کا فوری نوٹس لیا جائے، اور ڈپٹی کمشنر سمیت تمام ضلعی عملے کی مستقل موجودگی لدھا میں یقینی بنائی جائے تاکہ عوام کو درپیش مسائل حل ہو سکیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے