سینیٹر شیری رحمٰن نے کہا ہے کہ چائلڈ میرج ریسٹرینٹ بل کی منظوری خواتین و بچوں کے حقوق کے تحفظ کی جیت ہے۔
شیری رحمٰن نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کرنے پر صدر آصف زرداری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں کم عمری کی شادیوں کے خلاف اہم قانون سازی کا سنگ میل طے پا گیا ہے۔
اُنہوں نے کہا کہ صدر آصف زرداری نے دباؤ کے باوجود اس بل پر دستخط کر دیئے، اس بل پر دستخط پاکستان میں اصلاحات کے نئے دور کی علامت ہے۔
شیری رحمٰن نے مزید کہا کہ یہ قانون ایک طویل اور مشکل جدوجہد کے بعد ممکن ہوا، نئی قانون سازی سے لڑکیوں کی تعلیم اور صحت کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔
اُنہوں نے کہا کہ یہ بل صرف قانون نہیں، عزم ہے کہ بچیاں تعلیم، صحت اور خوشحال زندگی کا حق رکھتی ہیں، چائلڈ میرج پر پابندی کا یہ قدم آنے والی نسلوں کو تحفظ، امید اور روشن مستقبل دے گا۔
شیری رحمٰن نے کہا کہ سندھ کے بعد وفاق نے کم عمری کی شادیوں کے خلاف مضبوط پیغام دے دیا، دوسرے صوبے بھی اس اہم قانون سازی کی طرف قدم بڑھائیں۔
صدرِ مملکت نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کردیئے
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے بچوں کی شادی کی ممانعت کے بل پر دستخط کردیئے۔
بچوں کی شادی کی ممانعت کا بل قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کی رہنما شرمیلا فاروقی جبکہ سینیٹ میں شیری رحمان نے پیش کیا تھا۔
قانون کے مطابق نکاح خواں کوئی ایسا نکاح نہیں پڑھائے گا جہاں ایک یا دونوں فریق 18 سال سے کم عمر ہوں، اس سے متعلق خلاف ورزی کرنے پر نکاح خواں کو 1 سال قید اور 1 لاکھ روپے جرمانہ ہوسکتا ہے۔
قانون میں موجود ہے کہ 18 سال سے بڑی عمر کا مرد اگر کم عمر لڑکی سے شادی کرتا ہے تو اسے 3 سال تک قید بامشقت ہوگی جبکہ والدین بچے کی کم عمری میں شادی کریں یا اسے روکنے میں ناکام رہے تو 3 سال تک قید بامشقت اور جرمانہ ہوگا۔
قانون کے مطابق عدالت کو علم ہو کہ کم عمر بچوں کی شادی کی جارہی ہے تو وہ ایسی شادی کو روکنے کےلیے حکم جاری کرے گی۔
اس قانون میں یہ بھی ذکر ہے کہ عدالت کو اطلاع دینے والا فریق اپنی شناخت چھپانا چاہے تو عدالت اسے تحفظ دے گی۔