مدارس: "علم کا گہوارہ یا خاموش استحصال کا مرکز”؟

پوری دنیا میں وہ مقامات، جہاں بیٹھ کر علم حاصل کیا جاتا ہے، ہمیشہ سے نہایت مقدس اور قابلِ احترام سمجھے جاتے ہیں۔ یہ وہ جگہیں ہوتی ہیں جو صرف عمارتیں نہیں، بلکہ فکری اور روحانی روشنی کے سرچشمے سمجھی جاتی ہیں۔ ان اداروں سے جو نور علم کی شکل میں پھوٹتا ہے، وہ صرف موجود کو نہیں، ماضی اور مستقبل کو بھی منور کرتا ہے۔ یہی روشنی وہ طاقت رکھتی ہے کہ جو اندھیروں میں ڈوبے ذہنوں اور دلوں کو روشن کر سکتی ہے، جو ایک فرد ہی نہیں بلکہ پورے معاشرے کو نئی زندگی دے سکتی ہے۔ صدیوں سے بند دماغ اور دل اسی علم کی روشنی سے کھلتے آئے ہیں، اور آج بھی کھل سکتے ہیں. بشرطیکہ یہ روشنی واقعی علم کے حقیقی مقصد کے ساتھ وابستہ ہو۔

مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ طاقت آخر علم کو کون دیتا ہے؟ کیا صرف ایک عمارت یا کمرہ علم کا سرچشمہ بن سکتا ہے؟ ہرگز نہیں۔ علم صرف کتابیں یا جگہیں نہیں، بلکہ انسانوں سے منتقل ہوتا ہے۔ اس لیے جہاں علم حاصل کیا جاتا ہے، وہ مقام جتنا اہم ہے، وہاں پڑھانے والے اور سیکھنے والے انسان اس سے کہیں زیادہ اہم ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ علم کی جگہوں کو صرف سنبھالنے والے نہیں چنے جاتے، بلکہ ان لوگوں کا بھی انتخاب ہوتا ہے جو اس روشنی کو دوسروں تک پہنچا سکیں۔ ایسے لوگ جو صرف مواد نہ دیں، بلکہ ذہنوں کو جلا بخشیں، دلوں کو وسعت دیں، اور کردار کی بنیاد رکھیں۔

ایسے اساتذہ معاشرے کے ان افراد میں شامل ہوتے ہیں جو ایک طالب علم کو سوچنے، سمجھنے، اور پرکھنے کی صلاحیت دیتے ہیں۔ وہ صرف حافظ یا قاری نہیں بناتے، بلکہ انسان بناتے ہیں۔ وہ ایسا شاہین تیار کرتے ہیں جو نہ صرف بلندی پر پرواز کرتا ہے بلکہ پستی کو پہچان کر اس سے دور رہتا ہے، اپنے مقام کو گراتا نہیں بلکہ مزید بلند کرتا ہے۔ ایسا طالب علم جہاں بھی جاتا ہے، وہاں فکر، اخلاق، اور روشنی لے کر جاتا ہے۔ وہ دنیا کے لیے خیر کا ذریعہ بنتا ہے۔

پاکستان میں بھی کئی تعلیمی شعبے اسی مقصد کے لیے قائم کیے گئے ہیں، جن میں مذہبی مدارس کو خاص مقام حاصل ہے۔ آئینِ پاکستان بھی اسلامی نظریہ حیات کی بنیاد پر ایسے نظام تعلیم کی ضمانت دیتا ہے جو انسانی زندگی کے ہر پہلو کو سنوارے۔ اسی نظریہ کی بنیاد پر دینی مدارس کو یہ فرض سونپا گیا کہ وہ نسلِ نو کو قرآن، سنت، فقہ اور اخلاقی اصولوں سے روشناس کروائیں، ان کے کردار کو سنواریں، اور انہیں معاشرے کے لیے مفید فرد بنائیں۔

کئی دینی مدارس نے واقعی ایسا کیا بھی۔ ایسے بے شمار علما ہمارے سامنے موجود ہیں جنہوں نے علم، تقویٰ، اور خدمتِ خلق کے میدان میں ناقابلِ فراموش کردار ادا کیا۔ لیکن ایک تلخ حقیقت یہ ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ کچھ مدارس میں ایسا بگاڑ پیدا ہوا ہے جس نے ان مقدس اداروں کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

آج جب ہم خبریں سنتے ہیں تو دل کانپ اٹھتا ہے۔ ہر چند دن بعد میڈیا پر ایسی خبریں آتی ہیں جن میں دینی مدارس کے اندر ہونے والی زیادتیوں، جنسی تشدد، تشدد آمیز سزاؤں، اور فرقہ وارانہ نفرت کی تربیت کا ذکر ہوتا ہے۔ یہ بات محض الزام یا افواہ نہیں رہی، بلکہ تحقیقاتی اداروں، عدالتوں، اور خود علما کی مجلسوں میں تسلیم شدہ مسئلہ بن چکی ہے۔

مختلف انسانی حقوق کے اداروں کی رپورٹس کے مطابق صرف 2024 میں پاکستان میں بچوں کے ساتھ زیادتی کے چار ہزار سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے جن میں ایک بڑا حصہ مدارس سے متعلق تھا۔ Sahil، HRCP، اور دیگر اداروں نے واضح طور پر کہا ہے کہ دینی اداروں میں بچوں کو جنسی، جسمانی اور ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

بچوں کو جانوروں کی طرح مارا پیٹا جاتا ہے۔ ان سے مشقت لی جاتی ہے۔ ان سے استاد کے بچوں کی نگہداشت کروائی جاتی ہے۔ وہ تعلیم حاصل کرنے نہیں، بلکہ غلامی کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ کئی رپورٹس میں بچوں کی ہڈیوں کے ٹوٹنے، ان کی زبان بند رکھنے، اور حتیٰ کہ اغوا ہونے کی بھی گواہی موجود ہے۔ کچھ اداروں سے بچوں کو "جہاد” کے نام پر مخصوص مشنوں پر بھیجا گیا۔

مزید افسوسناک بات یہ ہے کہ جب ان مسائل کی نشاندہی کی جاتی ہے، تو اکثر لوگ فرقہ وارانہ عینک لگا کر بات کو نظرانداز کر دیتے ہیں۔ کوئی کہتا ہے یہ دیوبندی مدارس میں ہوتا ہے، کوئی کہتا ہے بریلوی مدارس میں۔ یوں اصل مسئلہ یعنی انسانیت کی تذلیل، بچوں کی تباہی، اور اداروں کی ناکامی نظروں سے اوجھل ہو جاتا ہے۔

اس بحران میں ایک اور انتہائی اہم اور خطرناک پہلو ہے جو اکثر نظروں سے چھپ جاتا ہے، اور وہ ہے ظاہری حلیے پر ضرورت سے زیادہ زور دینا۔ بعض مدارس میں تعلیم و تربیت کا سارا زور صرف ظاہری ہلیے پر ہوتا ہے کہ پائنچے ٹخنوں سے اوپر ہوں، داڑھی اتنی لمبی ہو، عبایا پہننا فرض ہو، نقاب ضروری ہو۔

ظاہری حلیہ یقینی طور پر اسلام کی ایک پہچان ہے، اور دین اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اس حلیے کو اپناتا ہے تو اسے یہ بھی تسلیم کرنا ہو گا کہ اس کا ہر عمل، ہر رویہ، اس حلیے کی نمائندگی کرے گا۔ اگر آپ اس ظاہری حلیے کو اپناتے ہیں تو پھر یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ کا کردار، اخلاق، اور طرزِ عمل بھی اسی کے مطابق ہو۔ کیونکہ جب یہی حلیہ رکھنے والا کوئی شخص کسی جرم، زیادتی، یا بدسلوکی میں ملوث ہوتا ہے، تو اس کا منفی اثر صرف اس شخص پر نہیں، بلکہ اس پورے حلیے اور اس سے جڑی مذہبی شناخت پر پڑتا ہے۔

اسی لیے اگر آپ اس ظاہری نمائندگی کے بوجھ کو نبھا نہیں سکتے تو بہتر ہے کہ اسے اپنائیں ہی نہ کیونکہ معاشرے میں آپ کا یہی روپ فتنہ بن سکتا ہے، اور آپ کی کمزوری دین کے چہرے کو داغ دار کر سکتی ہے۔
ان مدارس میں ایک اور المیہ یہ ہے کہ بچوں کو صرف مخصوص فقہی نقطہ نظر سکھایا جاتا ہے، ان سے سوال کرنے، سوچنے، یا کچھ نیا کہنے کا حق چھین لیا جاتا ہے۔ حالیہ تحقیق میں مدارس کے بچوں سے ان کی اپنی تعلیم کے متعلق سوالات کیے گئے تو ان کے چہروں پر صرف خوف اور مایوسی دکھائی دی۔ نہ ان کے پاس سوال تھے، نہ جوابات، نہ سوچ۔ ان کی بصیرت کو دبا دیا گیا، ان کے اندر سوال اٹھانے کا حوصلہ ختم کر دیا گیا۔

اس المیے کی جڑ صرف مدارس میں نہیں، بلکہ گھروں میں بھی ہے۔ ہمارے معاشرے میں جنسی تربیت ایک ایسا موضوع ہے جسے "فحش” قرار دے کر خاموش کروا دیا جاتا ہے۔ والدین بچوں کو جسمانی اور ذہنی تبدیلیوں کے بارے میں نہ کچھ بتاتے ہیں، نہ سننا چاہتے ہیں۔ اگر کبھی کوئی بچہ پوچھ بھی لے، تو اسے خاموش کرا دیا جاتا ہے کہ "یہ غلط باتیں ہیں۔

ایسے میں اگر کوئی بدفطرت شخص بچے کا استحصال کرے، تو بچہ خاموش رہتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ گناہ ہے، شرم کی بات ہے، اور اسے کسی کو بتانا نہیں چاہیے۔ یہی خاموشی اُس کو عمر بھر کے عذاب میں مبتلا کر دیتی ہے۔
اگر والدین نے بروقت بچوں سے کھل کر بات کی ہوتی، تو شاید وہ خود کو بچا سکتے۔ اگر بچوں کو تعلیم کے ساتھ شعور، تربیت، اور اعتماد دیا جاتا تو وہ کبھی شکار نہ بنتے۔

اب سوال یہ ہے: کیا ہمیں یہی معاشرہ چاہیے؟ کیا ہم صرف یہ کہہ کر بچ سکتے ہیں کہ "ہم سب ایسے نہیں ہیں؟” اگر ایک بھی ادارہ بچوں کو ذہنی، جسمانی، یا جنسی تشدد کا شکار بنا رہا ہے، تو پوری قوم کو جاگنا ہو گا۔

ہمیں یہ تسلیم کرنا ہو گا کہ اولاد کو صرف پیدا کرنا کافی نہیں۔ ان کی تربیت، تحفظ، اور شعوری نشوونما ہماری بنیادی ذمہ داری ہے۔ ہمیں چاہیے کہ کسی بھی ادارے میں بچے کو داخل کرنے سے پہلے اس کے ماحول، اساتذہ، اور نظام کا تفصیلی جائزہ لیں۔ ہمیں چاہیے کہ اپنے بچوں کو مہذب انداز میں جنسی تربیت دیں، ان کے ساتھ بات کریں، ان کے بدلتے رویوں کو سمجھیں، اور ان کی ذہنی صحت کا خیال رکھیں۔

اگر ہم نے آج یہ قدم نہ اٹھایا، تو آنے والا کل صرف افسوس اور خالی قبرستان چھوڑے گا — جن میں وہ معصوم دفن ہوں گے جنہیں ہم نے خود ایسے اداروں کے سپرد کیا تھا۔

خدارا، اپنی آنکھیں کھولیے۔ تعلیم کے ان اداروں کی اصلاح کیجیے۔ تاکہ وہ واقعی علم، تربیت، کردار، اور روشنی کے مینار بن سکیں. نہ کہ ایک ایسے اندھیرے کا حصہ، جو صرف بگاڑ، خوف، اور خاموش تباہی کو جنم دیتا ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے