انسان چاہے جتنا بھی کہے کہ وہ مغرور نہیں یا جتنا بھی خود کو عاجز سمجھے، اس کے اندر کہیں نہ کہیں غرور ضرور ہوتا ہے۔ جوانی کی بھرپور طاقت، جسم کی توانائی، اور نہ ختم ہونے والی خواہشات اکثر اسے زندگی کے مختلف پہلوؤں میں اپنی برتری جتانے پر اُکساتے ہیں۔ اگر کسی کے پاس معاشرتی حیثیت ہو تو وہ اس پر اکڑتا ہے، زمین پر غرور سے چلتا ہے، اور یہ سمجھتا ہے کہ یہ وقت ہمیشہ ایسا ہی رہے گا. میرا عہدہ، میری جوانی، میری طاقت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ لیکن ابنِ آدم کی فطرت یہ ہے کہ اس کا پیٹ قبر کی مٹی کے سوا کسی چیز سے نہیں بھرتا۔
زندگی میں ہمیں ایسے کئی تجربات ہوتے ہیں جو یہ سکھاتے ہیں کہ غرور کو توڑنے کے لیے صرف موت یا بڑھاپا ہی نہیں آتا، بلکہ ایک اور شے بھی ہے جو انسان کو عاجز بنا دیتی ہے .بیماری ایسی کیفیت ہے جہاں انسان کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچتا، صرف ایک ہی راستہ ہوتا ہے: اس حقیقت کو مان لینا کہ وہ کمزور ہو چکا ہے۔ اس لمحے سارے راز کھلنے لگتے ہیں، سارے پچھتاوے ابھر آتے ہیں، مگر اکثر تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
جب انسان بیمار ہوتا ہے، اس کا جسم کمزور ہو جاتا ہے، طاقت ختم ہو جاتی ہے، خواہشات کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے۔ اس وقت دنیا کی کوئی چیز، کوئی لذت، کوئی آسائش دل کو نہیں لبھاتی۔ آپ کے سارے مقاصد اور خواب پیچھے رہ جاتے ہیں۔ بہترین کھانا بھی سامنے رکھ دیا جائے تو وہ آپ کو بے ذائقہ لگے گا، کیونکہ آپ کا جسمانی نظام اس سے لطف نہیں اُٹھا سکتا۔
یہ سب مل کر ایک حقیقت بتاتے ہیں کہ صحت ایک ایسی "اینٹ” ہے جو کسی مضبوط اور باشعور معاشرے کی بنیادی اکائی ہے۔ ہر صحت مند فرد مل کر ایک صحت مند معاشرہ بناتا ہے۔ لیکن انسان کو اس نعمت کا اصل احساس تب ہوتا ہے جب وہ اسے کھو بیٹھتا ہے یا کھونے کے قریب ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآنِ مجید میں فرماتے ہیں:
وَجَعَلْنَا لَكُمُ السَّمْعَ وَالْأَبْصَارَ وَالْأَفْئِدَةَ قَلِيلًا مَا تَشْكُرُونَ” (المؤمنون: 78)
"اور ہم نے تمہیں کان، آنکھیں اور دل دیے، مگر تم کم ہی شکر کرتے ہو۔”
یہ آیت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمارے جسم کے ہر عضو کی حفاظت شکر گزاری کا حصہ ہے۔ اگر آپ کسی نعمت کی حفاظت چاہتے ہیں تو سب سے پہلے اس کی قدر کرنی پڑتی ہے، ورنہ وہ تباہ ہو جاتی ہے اور فائدے کے بجائے نقصان دینے لگتی ہے۔
بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کی اکثریت اپنی صحت کی قدر نہیں کر رہی۔ ہم میں سے زیادہ تر لوگ سمجھتے ہیں کہ جیسے یہ کبھی ختم نہیں ہوگی، جیسے اس پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ خاص طور پر نوجوان طبقہ اپنی صحت کے ساتھ بہت ظلم کرتا ہے۔ نتیجتاً وقت سے پہلے بڑھاپا اور وہ بیماریاں سامنے آتی ہیں جو ایک صحت مند طرزِ زندگی سے روکی جا سکتی تھیں۔ آج پاکستان ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں نوجوانوں میں دل کے دورے، ہائی بلڈ پریشر، شوگر، ہارمونی عدم توازن، خون کی کمی عام ہو چکی ہے۔ یہ سب بیماریوں کی جڑ ہمارے غیر متوازن کھانے کے اوقات، نیند کی کمی، سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال، بازاری کھانے، کولڈ ڈرنکس، سگریٹ نوشی اور میٹھی اشیاء کی زیادتی میں ہے۔
اللہ تعالیٰ نے نیند کو سکون کا ذریعہ بنایا ہے۔ جب یہ سکون چھن جاتا ہے تو ذہن اور جسم دونوں کمزور پڑ جاتے ہیں۔ نیند کی کمی، غیر متوازن خوراک، اور آلودہ طرزِ زندگی نہ صرف جسمانی اعضاء کو کمزور کرتی ہے بلکہ پورے معاشرے کی بنیاد کو کھوکھلا کر دیتی ہے۔
اب ذرا سوچیں، آپ کا دل جو ہر دن تقریباً ایک لاکھ بار دھڑکتا ہے اور پورے جسم میں خون پہنچاتا ہے، اگر یہ رک جائے تو پوری دنیا کی دولت بھی آپ کو ایک دھڑکن واپس نہیں دے سکتی۔ آپ کے پھیپھڑے جو ہر سانس کے ساتھ آکسیجن فراہم کرتے ہیں، اگر یہ کام بند کر دیں تو چند منٹوں میں زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ آپ کا دماغ جو یادداشت، فیصلے اور شعور دیتا ہے، اگر اس کی رگوں میں خون کی روانی رُک جائے تو انسان زندہ ہو کر بھی "زندہ” نہیں رہتا۔ جگر جو خون صاف کرتا ہے، اگر فیل ہو جائے تو مصنوعی ڈائیلاسس مشینیں بھی اصل کارکردگی کا متبادل نہیں۔ گردے جو جسم کا فالتو مواد صاف کرتے ہیں، ان کے بغیر زندگی ڈرپ اور مشینوں پر قید ہو جاتی ہے۔
انسان جب صحت مند ہوتا ہے تو یہ سب اعضا خاموشی سے اپنا کام کر رہے ہوتے ہیں، اور ہم ان کی اہمیت نہیں سمجھتے۔ لیکن جب کوئی عضو بیمار ہو جاتا ہے اور ڈاکٹر مصنوعی پرزے یا مشین تجویز کرتا ہے، تب احساس ہوتا ہے کہ قدرتی نظام کتنی عظیم نعمت تھا۔ تب ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ خریدا ہوا دل، مصنوعی گردہ یا سانس لینے کی مشین کتنی "مصنوعی” اور کتنی کمزور ہے اصل کے مقابلے میں۔
صحت مند دماغ اور جسم ایک دوسرے سے جڑے ہیں جب جسم تھکاوٹ اور بیماری کا شکار ہوتا ہے، تو دماغ میں فیصلہ سازی، یادداشت اور تخلیقی صلاحیت کمزور پڑ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں صحت صرف ذاتی نہیں بلکہ قومی اثاثہ بن جاتی ہے۔
جب ہم یہ کہتے ہیں کہ “انسان صحت کے بغیر کسی مقصد کو حاصل نہیں کر سکتا” تو یہ صرف ایک عام سا جملہ نہیں، بلکہ ایک گہرا سائنسی اور سماجی اصول ہے۔ صحت محض بیماری نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ جسمانی توانائی، ذہنی سکون، اور جذباتی توازن کا مجموعہ ہے۔ سوشیالوجی کے نقطۂ نظر سے دیکھا جائے تو کسی معاشرے کی ترقی اس کے افراد کی صحت سے براہِ راست جڑی ہوتی ہے۔ اگر ایک فرد کمزور ہے، تو وہ اپنی صلاحیت کو مکمل طور پر استعمال نہیں کر پاتا، اور جب ایسے افراد کی تعداد بڑھ جائے تو پورا معاشرہ پیداواری صلاحیت کھو دیتا ہے۔
صحت اللہ کی وہ نعمت ہے جو ہر دوسری نعمت سے جڑی ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو دنیا کا کوئی خزانہ کام نہیں آتا۔ اس لیے جب تک یہ ہمارے پاس ہے، اس کی قدر کریں، اور اپنی زندگی کے ہر فیصلے میں اسے ترجیح دیں . ورنہ کل کو شاید ہمارے پاس صرف پچھتاوا رہ جائے۔