مجھے اخبار بینی کا شوق دورِ حفظ ہی سے چڑ گیا تھا۔ شاید یہ شوق ہمارے گھر کے ماحول سے پیدا ہوا۔ چلاس میں ہمارے ہاں اخبارِ جہاں اور روزنامہ ڈان آتے تھے۔ تایا ابو، عذر خان صاحب، اردو اور انگلش دونوں اخبارات کے باقاعدہ قاری تھے۔ ہم بچوں کا تعلق اخبارات سے اس وقت جڑتا جب ہم کتابوں کے لیے جلد تیار کرتے۔ کارٹن کی موٹی جلد کے اوپر اخبار کے صفحے چسپاں کر دیتے تاکہ کتاب زیادہ جاذبِ نظر لگے۔
حفظِ قرآن کے دنوں میں ہفت روزہ ضربِ مومن اپنے عروج پر تھا۔ تاہم چونکہ یہ ویکلی اخبار تھا، اس لیے میں اپنی روزانہ کی پیاس اشرف العلوم کورنگی کے باہر ایک ہوٹل میں بیٹھ کر روزنامہ عوام سے بجھایا کرتا۔ پھر جب تکمیل حفظ کے لیے جامعہ تحفیظ القرآن، صفورا گوٹھ، گلستانِ جوہر منتقل ہوا تو ایک نئی دنیا سامنے کھل گئی۔ روز عصر کے بعد ہوٹل پر چائے کے ساتھ جنگ کا ادارتی صفحہ میرے ہاتھ میں ہوتا۔ نذیر ناجی اور عطا الحق قاسمی کے کالم تبھی سے میری نظر کا حصہ بن گئے تھے۔ وہیں سے جاوید چوہدری کے کالموں سے بھی پہچان پیدا ہوئی۔
اس کے بعد جب جامعہ فاروقیہ میں داخلہ لیا تو اخبار سے رشتہ مزید گہرا ہوگیا۔ روزنامہ ایکسپریس، اسلام، جنگ اور امت کے کالم باقاعدگی سے پڑھتا۔ ہفت روزہ القلم اور ضربِ مومن تو فاروقیہ کے پورے زمانے میں ایک دفعہ بھی نہیں چھوٹے، جمعرات کی رات اذان فجر تک تمام کالم باالاستیعاب پڑھتا۔ علاوالدین کی کینٹین پر جب اخبارات کے ادارتی صفحے میز پر بچھے ہوتے تو میں ان میں ڈوب جاتا۔ گھنٹوں کالمز پڑھتا رہتا۔ استاد حبیب زکریا صاحب جب مجھے اس عالم میں دیکھتے تو سخت اور غصیلی نگاہوں سے گھور کر آگے بڑھ جاتے۔ وجہ یہ تھی کہ ادارتی صفحات ان کی بھی کمزوری تھی، مگر میں کہاں تھا جو وہ صفحہ ان کو دے دیتا۔ کچھ چمچوں نے بارہا مجھے سمجھایا کہ استاد جی کو صفحہ دے دیا کرو، مگر میں اپنی ضد پر اڑا رہتا۔ استاد جی نے کبھی زبان سے نہیں کہا، لیکن ان کی آنکھیں بار بار یہی تقاضا کرتی رہتیں۔ یہ درجہ ثانیہ اور ثالثہ کی بات ہے۔
پھر وقت نے پلٹا کھایا۔ میں وہی استاد جی کا "چمچہ خاص” بن گیا۔ خود کالم لکھنے کا آغاز کیا، اپنے اخباری کالم کی مکمل اصلاح انہی سے لینے لگا۔ میرے ابتدائی کالم گلگت کے ہفتہ روزہ چٹان اخبار میں چھپتے۔ استاد حبیب زکریا حفظہ اللہ مجھے اسی مناسبت سے "چٹان” کہا کرتے تھے۔ آج بھی وہی مجھے اسی نام سے پکارتے ہیں۔
یوں دو ہزار سے اخبار سے جڑنے والا تعلق دو ہزار پچیس تک قائم و دائم ہے۔ آج بھی میری نظر سب سے پہلے ادارتی صفحے پر جاتی ہے۔ درجہ ثانیہ ہی میں میں نے اپنے دل میں یہ عہد باندھ لیا تھا کہ کالم نگار بننا ہے۔ تب سے اب تک اسی ہدف پر ڈٹا ہوا ہوں۔ ہدف اتنا بڑا ہے کہ آسانی سے مکمل کہاں ہوتا ہے۔ لیکن میں آج بھی اسی سفر کا مسافر ہوں، اور اسی راہ کا دیوانہ۔