پشتون دانش، پشتو، پشتونولی، "قصے اور افسانے

کتاب کے مصنف نور الامین یوسفزے

یہ 1992 کی بات ہے، میں بیکے گاؤں گیا تھا۔ سڑک کنارے ٹانگے کھڑے تھے۔ ایک بزرگ کوچوان سے بات ہوئی اور میں ٹانگے میں بیٹھ گیا۔ راستے میں اس کوچوان نے مجھ سے پوچھا: "جوان! کس گاؤں کے ہو؟”
میں نے کہا: "شاہ منصور کا ہوں۔”

شاہ منصور کا نام سنتے ہی کوچوان کے کاکا کے چہرے پر ایک خاص قسم کی خوشی ظاہر ہوئی۔ پھر اُس نے پوچھا: "کیا تمہیں شاہ منصور کے گاؤں کے اول خان بابا کا پتہ ہے؟”
میں نے کہا: "جی ہاں، دیکھا ہے۔”

اس نے کہا: "ہمارے گاؤں ماڼکی میں ایک پرانی دشمنی تھی۔ دونوں طرف طاقتور لوگ تھے۔ دونوں طرف سے کئی جانیں ضائع ہوئیں۔ جب صلح کا وقت آیا تو ایک طرف کی قیادت اول خان بابا کر رہے تھے۔ جب صلح میں ‘سوره’ کی بات آئی تو اول خان بابا نے مجمع میں اعلان کیا: ‘میں سوره نہیں لوں گا، باقی اُن کی مرضی۔’

اس اعلان پر بزرگوں نے فیصلہ کیا کہ سوره کی شرط ختم کی جائے۔ صلح ہوگئی، اور سوره نہ لی گئی۔ صلح کے بعد اُس گروہ میں ایک تیز مزاج نوجوان تھا جسے لوگ "ملنگ” کے نام سے جانتے تھے۔ اس نے بابا سے پوچھا: ‘آپ نے مجمع میں اعلان کیا کہ میں سوره نہیں لوں گا، اس کی وجہ کیا تھی؟ اگر مخالفین سوره دیتے تو ہم کیا کرتے؟’

بابا نے جواب دیا: ‘بس یہ بات چھوڑو۔ اللہ پر میرا یقین تھا کہ صلح بغیر سوره کے ہوگی۔ اور میں نے سوره اس لیے رد کی کہ میرا خیال ہے جو کسی لڑائی کے بدلے لڑکی دے یا لے، وہ میرے نزدیک نکاح نہیں بلکہ اپنے مرنے والے کے ساتھ زنا ہے۔’

یہ سن کر ملنگ خاموش ہوگیا اور پھر کچھ نہ بولا۔

یہ واقعہ محترم نورالامین یوسفزئی کی بیسویں کتاب "پشتون دانش” سے ایک یادداشت ہے۔ اس میں قصہ بھی ہے، ماحول بھی ہے، کردار بھی ہیں، تجسس بھی ہے، مقصدیت بھی ہے اور کلائمکس بھی۔ یہ ایسی تحریریں ہیں جو کسی قوم کی زبان میں اُس کی اجتماعی دانش کا عکس ہوتی ہیں۔

زبان محض گوشت کا ٹکڑا نہیں ہے۔ زبان میں ایک قوم کی نفسیات، سماجیات، تاریخ، فلسفہ، عقیدہ اور ثقافت محفوظ ہوتے ہیں۔ یہ سب علوم زبان کے "فوک لور” میں جمع ہوتے ہیں۔ فوک لور میں ٹپے، گیت، قصے، داستانیں، محاورے، کھیل، دعائیں، گالیاں، یادیں اور رسومات شامل ہیں۔ زندہ قومیں انہیں تحریر میں محفوظ کرتی ہیں اور دنیا کو اپنی اجتماعی دانش دکھاتی ہیں۔

اگر کوئی قوم علم میں کمزور ہو، تو اُس کے اسی زبانی ادب پر نوآبادیاتی یا استحصالی قوم کے اہل قلم تحقیق کرتے ہیں اور اپنی آسانیوں کے لیے راستے نکالتے ہیں۔ جبکہ اگر اُس قوم میں رسول حمزہ توف جیسے دانشور ہوں تو وہ اسے "زما داغستان” جیسی کتاب میں محفوظ کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حمزہ توف کی کتاب آج دنیا کی اکثریت زبانوں میں ترجمہ ہوچکی ہے۔

محترم نورالامین یوسفزئی بنیادی طور پر پشتو فکشن رائٹر ہیں۔ انہوں نے پشتو افسانے کو پانچ کتابیں عطا کیں، اور اب 2025 میں اُن کے افسانوں کا چھٹا مجموعہ "قصے اور افسانے” (کلیات) شائع ہوا ہے۔ یوسفزئی صاحب علامتی افسانے کے پہلے صف کے نمائندہ افسانہ نگار ہیں۔ ان کا اسلوب اُنہیں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کرتا ہے۔

یوسفزئی صاحب کے پندرہ سے زائد دیگر کتابوں میں کچھ پشتو زبان، کلچر اور فوک لور پر بھی ہیں۔ اُن کی اردو کتاب "پختو، پختون اور پختونولی” ایک جامع تعارف ہے جسے پاکستان کی دیگر زبانوں کے اہل علم کو پڑھنا چاہیے۔ ناشرین کو اس کتاب کو عام کرنا چاہیے اور یوسفزئی صاحب کو اسے انگریزی میں بھی شائع کرنا چاہیے۔

ان کی کتاب "فوک لور” میں فوک لور کی اہمیت اور اس کے اجزاء تفصیل سے بیان کیے گئے ہیں۔ اسی طرح "پشتون دانش” کے دو حصے شائع ہوچکے ہیں (پہلا جلد 2024 میں اور دوسرا 2025 میں)۔ ان میں یادداشتیں، قصے اور فوک لور کو مقامی لہجے میں محفوظ کیا گیا ہے۔ پشتو ادب جدت اور روایت پشتو زبان اور خوشحال و اقبال کے فکری مشترکات پر مبنی اردو زبان میں شائع کتاب ہے ۔

نورالامین یوسفزئی صاحب ایک عالمانہ، بردبار اور درویش صفت شخصیت ہیں۔ وہ غصہ نہیں کرتے بلکہ اختلاف کو علمی انداز میں دلیل و منطق سے بیان کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں عزت سے لوگ "بابا” کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔

اُن کی کتاب "پشتون دانش” دراصل پشتونیت کے روایتوں کو محفوظ کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔ نقاد ڈاکٹر فیصل فاران کے مطابق یہ حوالہ جات منفرد اور اجتماعی دونوں ہیں، جو قومی حافظے کو زندہ رکھنے کی کاوش ہیں۔
میری نظر میں نورالامین یوسفزئی صاحب کے یہ سب کام پشتو ادب اور فکشن کے لیے بڑی اہمیت رکھتے ہیں۔ میں ذاتی طور پر انہیں پشتونوں کا رسول حمزہ توف کہتا ہوں۔

محترم نورالامین یوسفزئی کے افسانوی مجموعے "ڈډې ونې” پر جناب سلیم راز صاحب نے لکھا ہے کہ "دوستویفسکی نے انسانی رویوں، زندگی کی جدوجہد، جبر اور استحصال کی تصویریں اپنے افسانوں میں پیش کی ہیں اور ساتھ ہی انسان کی داخلی دنیا کی منظر کشی بھی کی ہے۔ نورالامین یوسفزئی کے افسانوں میں بھی یہی نکتہ اور یہی سمت موجود ہے۔ فنی پختگی اور تخلیقی مہارت میں فرق ضرور ہے، طریقہ اور انداز بھی مختلف ہے، مگر مواد، سماجی رویوں اور کسی حد تک ادبی اسلوب کے حوالے سے یکسانیت ملتی ہے۔”

"ڈډې ونې” یوسفزئی صاحب کے افسانوں کا دوسرا مجموعہ ہے جو 1994 میں شائع ہوا تھا۔ آج 2025 میں اُن کے افسانوں کا کلیات "قصے اور افسانے” چھٹی کتاب کی صورت میں منظر عام پر آیا ہے۔ اس کلیات کی تمہید میں ڈاکٹر فیصل فاران لکھتے ہیں:

"رمزیت نورالامین یوسفزئی کے اسلوب کی سب سے بڑی خوبی ہے۔ ہر بڑے افسانہ نگار کے اسلوب میں یہ وصف ہوتا ہے۔ بغیر رمزیت کے اچھا اسلوب ممکن ہی نہیں۔ اس اقتباس میں بھی یہ رمزیت جھلکتی ہے:

دھندلی لفافہ، چھوٹے بچے کا بستر، اور سہ پہر کی گرمی میں ڈگمگاتا وقت۔ دھندلا رنگ جبر اور آمریت کا رنگ ہے، جو ریاستی ٹھیکیداروں اور جماعتوں پر قابض عناصر کی نمائندگی کرتا ہے۔ چھوٹے کارکنوں کے خلاف شوکاز نوٹس اور ذاتی پسند نا پسند کے فیصلے اسی جبر کی عکاسی ہیں۔ بستر کا ڈولنا انقلابی کارکن کی سماجی حیثیت کی گمشدگی کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ معصوم بچے کی حرارت اور سچائی انقلابی رومانویت کی علامت ہے جو اُس بھاری گرمی میں ایستادہ ہے۔”

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے