بیٹی کی پیدائش ہماری زندگی میں زحمت کیوں سمجھ لی جاتی ہے؟

ہمارا معاشرہ آج بھی اُس ذہنی پسماندگی کا شکار ہے جہاں بیٹی کی پیدائش پر گھر کا ماحول بوجھل ہو جاتا ہے۔ کئی گھروں میں تو بیٹی پیدا ہونے کی خبر بھی دنوں تک چھپائی جاتی ہے، جیسے کوئی جرم ہو گیا ہو۔

وہ بیٹی جسے اسلام نے رحمت قرار دیا ہے، جو گھر میں خوشیوں کی صورت جنت بکھیرتی ہے، جو باپ کی آنکھوں کا تارا اور ماں کے دل کا سکون ہوتی ہے.جب وہی بیٹی پیدا ہوتی ہے تو بعض دلوں پر بوجھ کیوں بن جاتی ہے؟

کیا بیٹی کی پرورش میں بیٹے سے زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں؟

پھر یہ خوف کیوں؟ یہ بوجھ کیوں؟

ہمارے معاشرے میں بیٹے کی خواہش میں بیٹیوں کی لائنیں لگ جاتی ہیں۔ افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ اکثر مائیں خود بیٹیاں ہونے کے باوجود بیٹی کی پیدائش پر فکرمند ہو جاتی ہیں۔

حالانکہ حضور ﷺ کا ارشادِ گرامی ہے:

“جس شخص کے گھر بچی پیدا ہوئی، اس نے اسے زندہ دفن نہ کیا، نہ اسے حقیر سمجھا، اور نہ لڑکوں کو اس پر ترجیح دی.اللہ اسے جنت میں داخل کرے گا۔”

معاشرتی سیٹ اپ یہ ہے کہ جس گھر میں صرف بیٹیاں ہوں، اسے غیر محفوظ سمجھا جاتا ہے۔ بیٹوں کو بڑھاپے کا سہارا سمجھا جاتا ہے، حالانکہ ہم سب کے سامنے بے شمار مثالیں ہیں جہاں بیٹے شادی کے بعد والدین سے الگ ہو کر اپنی زندگیوں میں مصروف ہو جاتے ہیں اور والدین تنہا بڑھاپا گزارتے ہیں۔

اس کے برعکس بیٹیاں اکثر زیادہ خیال رکھنے والی اور وفادار ثابت ہوتی ہیں۔

ہمارے ہاں یہ بھی سوچ موجود ہے کہ بیٹا ہوگا تو کمائے گا، بہنوں کا مان بنے گا، اور گھر کا محافظ ہوگا۔
جبکہ بیٹی کو “پرائی” سمجھ کر وہ مقام دیے ہی نہیں جاتے جو اس کا حق ہے۔

کچھ گھروں میں لڑکیوں کی پیداٸش اس لیے خوشگوار نہیں سمجھی جاتی کہ وہ جاٸیداد میں حصہ رکھتی ہیں، اور “پراٸے گھر” میں چلی جائے گی۔ یہ ظلم اتنا بڑھا کہ کہیں کہیں لڑکیوں کی شادیاں قرآن سے اس لیے کر دی جاتی ہیں کہ جائیداد باہر نہ جائے۔ اور بعض اوقات صرف “وارث بیٹا” پیدا کرنے کے لیے دوسری تیسری شادیاں بھی کر لی جاتی ہیں۔

مڈل کلاس کے لیے بیٹیاں اس وجہ سے بھی پریشانی کا باعث سمجھی جاتی ہیں کہ ان کے پیدا ہوتے ہی جہیز جمع کرنے اور اچھے رشتے کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ آج کے دور میں بھی لڑکے والوں کے مطالبات آسمان کو چھو رہے ہیں، اور جن گھروں میں صرف بیٹیاں ہوں وہاں ماں باپ کی پریشانیاں دوچند ہو جاتی ہیں۔

یہ ہمارے معاشرے کے تلخ حقائق ہیں جو رحمت کو زحمت بنا دیتے ہیں۔

اس حوالے سے کہ بیٹے ہی کی خواہش کیوں کی جاتی ہے اور بیٹی کی پیدائش غم کا لمحہ کیوں سمجھا جاتا ہے، مختلف لوگوں کی رائے لی گئی، جن کے مطابق یہ سب معاشرتی رویوں، فرسودہ سوچ اور غلط ترجیحات کا نتیجہ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے