احادیث کی کتابوں میں ایک روایت ہے کہ اللہ تعالیٰ جنت میں ایک مجلس لگائیں گے۔ پہلے حضرت داؤد علیہ السلام جو اپنی خوش آوازی کے لیے مشہور ہیں ان سے تلاوت فرمائیں گے۔ پھر نبی کریم ﷺ تلاوت فرمائیں گے اور آخر میں اللہ کریم کی ذاتِ مبارک خود قرآن کریم کی تلاوت کریں گے۔ ذرا سوچیے پھر سوچیے اور تخیل میں لائیے ایسی مجلس اور سنیے تلاوتِ قرآن پاک۔ کیا ہی بات ہوگی اور کیا ہی سماں ہوگا۔ (حوالہ: تفسیرِ قرطبی، کنز العمال: 39321)
2015 تک مجھے صحیح طریقے سے قرآن کریم کی تلاوت کرنی نہیں آتی تھی۔ بڑا کڑھتا تھا اندر سے۔ اکثر دل سے دعا نکلتی کاش وہ وقت آجائے کہ میں اکیلے بیٹھ کر بغیر غلطیوں کے ٹھیک تلفظ کے ساتھ قرآن کریم پڑھ سکوں۔ والدہ صاحبہ کے فوت ہونے کے بعد عمرے پہ جانے کا اتفاق ہوا۔ وہاں قرآن کریم پڑھنے کی کوشش کرتا لیکن ناکام ہو جاتا۔ اعتکاف کے دن تھے۔ کعبہ شریف میں سعودی اور عرب امنڈ آئے تھے۔ جس کو جہاں جگہ ملتی وہاں بیٹھ جاتا۔ زیادہ رش بیسمنٹ میں ہوتا۔ بنیادی وجہ وہاں پہ اے سی کی ٹھنڈک اور باہر چار اور آٹھ نمبر حمام کی طرف نزدیک راستہ تھا۔ جو کلاک ٹاور کے عین سامنے تھے۔ میں بھی وہاں بیٹھ گیا۔
اس دوران عربی ایک دوسرے سے سورہ فاتحہ اور آخری 4 سورتوں کی تلاوت سنتے ہوئے دکھائی دیے۔ آپ کو بسا اوقات حرمین شریفین میں اس طرح کی مجالس نظر آئیں گی۔ لوگ ایک دوسرے کو قرآن کریم سکھاتے ہیں اور سیکھتے ہیں۔ حلقے لگتے ہیں۔ روح پرور مناظر ہوتے ہیں اور ایسا ماحول بنا ہوتا ہے کہ جس میں دل خوش ہوتا ہے۔
میں نے بھی تلاوت شروع کی آواز میری اچھی تھی لیکن تلفظ میں اتنی ہی غلطیاں اور تصحیح کی گنجائش بھی۔ جو عربی میری تلاوت کی سماعت فرما رہے تھے بار بار مجھے روک کر تصحیح کرتے۔ میں شرماتا جاتا مگر پڑھتا جاتا۔ آخر میں ایک اور سعودی نے کہا کہ شیخ یہ جملہ یاد رکھو "أنا أقرأ وأنت تسمع وتصحح” یعنی میں قرأت یا تلاوت کروں گا اور آپ سنیں اور تصحیح کریں۔
یہ بات رٹ لے۔ ہم پاکستانیوں کو رٹنے میں دنیا کا کوئی شخص نہیں ہرا سکتا۔ میں بھی رٹا لگانے میں ماہر ہوں۔ میٹرک کلاس میں میتھ کی ایکویشنز اور تھیورمز کو رٹا لگا لیا تھا۔ پورے 83 مارکس آئے تھے 100 میں سے۔ آبجیکٹیو میں 3 نمبر کیونکہ ذہن نہیں چلتا تھا اور سبجیکٹیو میں 80 نمبر۔ سب رٹا لگایا تھا۔
بہر حال وہ جملہ تو میرا پسندیدہ جملہ بن گیا۔ حرم شریف میں قرآن کریم ہاتھوں میں لیے پھرتا۔ جس شخص پہ بھی شک گزرتا کہ یہ عرب ہے، بس ساتھ بیٹھ جاتا سلام کرتا اور وہ جملہ "أنا أقرأ وأنت تسمع وتصحح” کہتا۔ آگے وہ کیا کہتے یہ سمجھ میں نہ آتا نہ کبھی غور کرتا بس قرآن کریم پڑھنا شروع کرتا۔ اللہ خوش رکھے ان عربیوں کو بس سنتے جاتے اور ٹھیک ٹھاک غلطیاں نکال کر مجھے قرآن کریم سمجھاتے رہتے۔ میں بھی تھوڑا جذباتی تھا۔ قرآن سیکھنے کے شوق میں بھول جاتا کہ اگلا بندہ بھی کسی مصروفیت میں ہو سکتا ہے، بس سناتا رہتا۔
کبھی کبھی یوں ہوتا کہ سامنے ایسا عربی ہوتا کہ ایک رکوع یا چند آیات پڑھنے میں گھنٹے لگ جاتے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی کہ وہ تلفظ کے ساتھ پڑھنے پہ زور دیتے۔ میں ناواقف آدمی تھا۔ مجھے یہ نہیں پتہ تھا کہ قرآن کے الفاظ کو ترتیل کے ساتھ کیسے پڑھنا ہوتا ہے (وَرَتِّلِ الْقُرْآنَ تَرْتِيلًا – سورہ المزمل: 4)۔ یا ساتھ مختلف طریقوں سے قرآن کریم کے الفاظ کی ادائیگی ہو سکتی ہے۔ مصری کسی اور انداز میں مغربی کسی اور انداز میں اور عرب و عجم کسی اور انداز سے تلاوتِ کلامِ پاک کی قرأت کرتے ہیں۔
یقین جانیے جب پتہ چلا کہ تجوید ایک پوری سائنس ہے تو لگا کہ گانا بجانا تو ویسے ہی وقت کا ضیاع ہے۔ موسیقی تو اصل میں قرآن کریم کی ادائیگی میں ہے۔ چونکہ اللہ پاک نے اصل ذکر قرآنِ کریم کو قرار فرمایا ہے جبکہ دوسرے نمبر پر نماز کو۔ ہم نے دونوں کو طاقچے پہ رکھ کر وظائف پہ توجہ مرکوز کر دی ہے۔ اور وظائف بھی بہت باکمال مگر ذکرِ قرآن اور صلاۃ سے بڑھ کر تو نہیں ہو سکتا۔
جانے انجانے میں قرآن کریم کی تلاوت کر کر کے عجیب سا لطف اٹھانے لگا۔ عراقی، مصری، یمنی، سعودی، اماراتی، مغربی کسی عجم اور عرب کو حرمین میں نہیں چھوڑا۔ سب کو قرآن سنایا۔ اور آہستہ آہستہ اللہ پاک نے خود تلاوتِ قرآنِ پاک خود سے پڑھنے کی صلاحیت دینا شروع کر دی۔ ظاہر ہے انسان کی کوئی دعا رد نہیں ہوتی۔ اللہ پاک یا تو دنیا میں قبول فرماتا ہے یا آخرت کے لیے چھوڑ دیتا ہے یا ان سے بلائیں ٹال دیتا ہے۔ ہم گناہ گاروں کی بھی سن لی گئی اور تلاوتِ قرآنِ پاک شروع کر دیا۔ میں چونکہ بچپن سے گانے سنتا اور رٹا لگا کر گاتا رہتا اس لیے آواز خوشنما تھی مگر تجوید کے ساتھ قرآنِ پاک پڑھنے کا جو سرور ہے وہ گانے بجانے میں کہاں۔
یہ سلسلہ چلتا رہا اور پاکستان آکر بھی حفاظِ قرآن کو اللہ کا کلام سنانے کی ٹھانی اور اس کے بعد برسا برس تقریباً 30 سے زائد مرتبہ عمروں اور حج کے دوران میں یہ ریاضت جاری رکھی۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں قرآن کریم کو جب انسان چھوڑ دیتا ہے تو یہ اونٹنی کی طرح بھاگ جاتا ہے (صحیح بخاری: 5033)۔ اس لیے تسلسل ضروری ہے۔ اللہ خود بھی قرآن کریم کو ترتیل کے ساتھ پڑھنے کی تاکید کرتا ہے۔ قرآن کریم کے ساتھ یہ سلسلہ الحمدللہ جاری و ساری ہے۔ اور اس پہ کبھی کمپرومائز نہیں کیا۔
2021 کی بات ہے۔ ایم فل (M.Phil) کمپریٹیو ریلیجنز کا تھیسس مکمل ہوا۔ توفیق باللہ سے جب بورڈ نے کلیئر کیا اور ڈگری لینے کی باری آئی تو پتا چلا 26-27 پارہ حفظ کرنا ضروری ہے حصولِ سند کے لیے۔ حیرت میں پڑ گیا مگر کیا کرتا یاد تو کرنے تھے۔ رٹے لگانے کا وقت آن پہنچا تھا۔ مسجد میں قاری صاحب سے پوچھا۔ بولے تمہاری عمر کے حساب سے نوے دن لگیں گے۔
دفتر سے چھٹی لی اور سیدھا پہنچا مصر قاہرہ۔ میں نے سوچا ڈگری کے لیے اتنی تگ و دو کی ہے۔ اب اللہ کی کتاب کا کچھ حصہ حفظ کرنا ہے تو سب سے بہترین مسجد میں کیا جائے۔ قاہرہ میں مسجدِ ازہر کو چنا۔ پہنچنے پر غلطی سے جامعہ ازہر داخل ہونا چاہا۔ گارڈ نے کہا جاؤ یہاں سے اور دھکا دے کر باہر نکال دیا۔ حیرت میں مبتلا ہوا مگر جیسے ہی آگے گیا وہاں مسجدِ ازہر کھلا تھا۔ ظہر کا وقت تھا۔ نماز پڑھی۔ سوٹڈ بوٹڈ تھا مسجد کو دیکھ کر حیرت میں تھا کہ اتنے میں وہاں کا پروٹوکول آفیسر آیا اور میں نے جلدی سے سارا ماجرا سنایا۔ اس نے کہا بھائی آپ مسجدِ ازہر کے بجائے ازہر یونیورسٹی چلے گئے تھے۔ اب اس کووڈ کے دنوں میں انہوں نے خوش آمدید تھوڑی نہ کہنا تھا۔
میں نے حصولِ سند کے لیے سپارے حفظ کا بتایا اور کہا کہ پاکستان سے آیا ہوں تو پہلے اس نے خوشگوار حیرت سے دیکھا اور پھر سیدھا مسجدِ ازہر کے گرینڈ امام کے پاس گیا۔ ان امام صاحب کو پوری تفصیل بتائی تو انہوں نے ذمہ لیا کہ وہ مجھے سپارے حفظ کرنے میں مدد کریں گے۔ اور یہ بھی حکم صادر کیا کہ کووڈ کی بندش کے باوجود مجھے سارا دن مسجد میں بیٹھ کر حفظ کرنے کی اجازت دی جائے۔
پھر کیا اگلے دن سے میں جامعہ ازہر روانہ ہوا۔ نماز کے بعد مسجد بند ہو جاتی اور میں اکیلا مسجد میں بیٹھ کر سورہ ذاریات، پھر نجم، پھر طور، قمر، رحمن اور سورہ واقعہ رٹتا رہتا۔ امام صاحب آتے مجھ سے سورتیں سنتے۔ ساتھ عربی میں کچھ کہتے جو مجھے سمجھ نا آتا لیکن روحانی خوشی ہوتی۔ 1100 سال پرانی مسجد میں قرآن کی برکت سے میں اکیلا اللہ کی کتاب لیے بیٹھا رہتا۔
کھانے کا وقت آتا تو مسجدِ ازہر کے ساتھ بنے چھوٹے ریسٹورنٹ سے رز بلبن کھاتا۔ فجر میں ایک بابا لوبیا میں ابلا ہوا انڈا اور مصری روٹی دیتا۔ اس کے ساتھ سرکے اور سلاد، نیز سرخ چائے کا اپنا ہی مزہ تھا۔ وقتاً فوقتاً مسجدِ ازہر بھی جاتا۔ قرآن کی برکت سے اللہ نے وہ کچھ دکھایا کھلایا اور پلایا جس کا کبھی سوچا بھی نہیں تھا۔ اللہ کے نبی ﷺ فرماتے ہیں حافظ کو کہا جائے گا قرآن پڑھتے جاؤ اور جنت کے منزل طے کرتے جاؤ (جامع ترمذی: 2914)۔
مسجد کے امام نے کہا رٹا لگاؤ مگر سمجھو بھی۔ تو ساتھ ساتھ یوٹیوب پہ ڈاکٹر اسرار صاحب کے تفصیلی لیکچرز بھی سنتا۔ اب جب کہ اسرار صاحب کی کافی ویڈیوز ڈیلیٹ ہو چکی ہیں مگر پھر بھی اتنا کچھ ہے یوٹیوب پر کہ مجھ جیسے طالبِ قرآن اپنی اصلاح کر سکے۔ قرآن میں کیا کچھ نہیں ہے۔ ایک آیت "اذا الشمس کورت” (سورہ التکویر: 1) میں اللہ پوری کاسمولوجی سمجھا دیتے ہیں۔ ایک آیت میں بیالوجیکل پراسیس (سورہ المؤمنون: 12-14) سمجھا دیتے ہیں۔ ہر چیز کھول کر بتا دیتے ہیں۔ زمین و آسمان کے بیچ کی تفصیلات بتا دیتے ہیں۔ افسوس ہم نے اس کو فقط ثواب اور رٹنے کا ذریعہ بنایا ہوا ہے۔ میں بھی اگر ڈگری نہ لینی ہوتی تو شاید اس طرف دھیان نہ دیتا۔ قرآن کو سیکھنا اور سکھانا ہمارا دینی فریضہ ہے۔ ہم نے منہ موڑ لیا ہے۔
اللہ کہتا ہے کدھر جا رہے ہو اے میرے بندے (فَأَيْنَ تَذْهَبُونَ – سورہ التکویر: 26)۔ ہم مڑ کر دیکھنا گوارا نہیں کرتے۔ ایسی کتاب جن سے مسجدیں اور گھر بھرے پڑے ہیں مگر دل و دماغ خالی ہیں۔ قرآنِ کریم اللہ کے نبی ﷺ کا سب سے بڑا معجزہ ہے۔ انسان کی اس سے بڑھ کر اور کیا عزت اور تکریم ہو سکتی ہے کہ اللہ کی ذات اپنی میٹھی میٹھی پیاری نصیحتوں، تنبیہات، اجر و ثواب، قصص و تاریخ کے واقعات، دنیا و آخرت کے عقائد اور ایک مکمل ضابطہ حیات کے تناظر میں انسان سے بذریعہ قرآن مخاطب ہے۔ اس کتاب میں آپ کو سوشیالوجی، اینتھروپولوجی، میتھ میٹکس، ایسٹرو فزکس، کاسمولوجی، بائیولوجی، زبان و ادب، شاعری، سائنس، آرٹس، گریویٹی اور سب سے بڑھ کر انسانی حقوق کی پوری تفصیل ملے گی۔
ٹیکسی میں بیٹھا ہی تھا کہ اندر قرآنِ کریم کی تلاوت نے سماعت پر بہت ہی خوشنما اثر ڈالا۔ میں نے ٹیکسی ڈرائیور سے پوچھا: "بھائی! یہ کن صاحب کی آواز ہے؟ یہ تو دل پر کتنا گہرا اثر کر رہی ہے”۔ ٹیکسی ڈرائیور نے دریائے نیل کے اس پار گاڑی چلاتے ہوئے میری طرف دیکھا اور کہا: "جناب! یہ میری اپنی آواز ہے۔”
میں حیران رہ گیا، اس قدر خوبصورت آواز! ماشاء اللہ، مصر کے لوگ اہل زبان ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے قاری بھی ہیں۔ مزید گفتگو ہوئی تو ڈرائیور نے کہا: "پہلے میں عیسائی تھا۔ ایک دن نبی کریم ﷺ کو خواب میں دیکھا، انہوں نے مجھے بیٹے کی بشارت دی اور اللہ نے مجھے بیٹے سے نوازا۔ میں اسلام لایا تو گھر والوں نے گھر سے نکال دیا۔ اب آج کل ٹیکسی چلا کر گزر بسر کرتا ہوں۔”
سچ ہے کہ اللہ جس کا دل دین اور قرآن کی طرف موڑ دے، تو پھر کوئی بھی طاقت اس کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔
اللہ ہم سب کو قرآن سیکھنے اور اس ہدایت لینے کی توفیق عطا فرمائے۔ وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین