عصرِ حاضر میں بعض تصویریں محض مناظر نہیں ہوتیں، وہ پورے عہد کی تشریح بن جاتی ہیں۔ حالیہ دنوں میں دنیا بھر میں گردش کرنے والی دو تصاویر، ایک پینگوئن کا اپنے غول سے الگ ہو کر برفانی سمندر کی خاموش وسعتوں میں تنہا چل پڑنا، اور ایک ننھے بندر کا ماں کی جدائی کے بعد ایک بے جان کھلونے سے لپٹ کر سکون تلاش کرنا، انسانی سماج کے زوال پذیر جذباتی نقشے کی علامت بن چکی ہیں۔
یہ تصاویر جانوروں کی بے بسی سے زیادہ انسانی معاشروں کی اندرونی ٹوٹ پھوٹ کو ظاہر کرتی ہیں، جہاں تعلق کمزور اور احساس ناپید ہوتا جا رہا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی نے جانوروں کو بھی بے بس اور لاچار کردیا ہے وہ بھی احساس تنہائی، قبولیت سے محرومی اور ظلم و ستم کا شکار نظر آتے ہیں بہرحال یہ ماحول کے ایکو سسٹم کے غیر توازن کا نتیجہ ہے بالکل اسی طرح جیسے انسانی معاشروں میں طاقت اور انصاف غیر متوازن ہوجائیں تو کئی انسانی نفسیاتی المئیے جنم لیتے ہیں۔
تنہائی آج محض ایک ذاتی احساس نہیں رہی، بلکہ ایک اجتماعی نفسیاتی بحران کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ نفسیات کے مطابق سب سے خطرناک تنہائی وہ ہے جو ہجوم کے درمیان محسوس ہو۔ یہی کیفیت آج پاکستانی معاشرے میں، خصوصاً نوجوان نسل میں، تیزی سے پھیل رہی ہے۔ بظاہر خاندانی اقدار، سماجی میل جول اور مذہبی وابستگی رکھنے والا یہ معاشرہ اندر سے جذباتی طور پر منقطع ہو چکا ہے۔ لوگ ایک دوسرے کے قریب رہتے ہیں، مگر ایک دوسرے تک پہنچ نہیں پاتے۔
پاکستانی نوجوان اس بحران کا سب سے نمایاں شکار ہیں۔ بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی عدم استحکام، مہنگائی، اور مستقبل کی غیر یقینی صورتِ حال نے نوجوان ذہنوں کو مسلسل اضطراب میں مبتلا کر رکھا ہے۔ تعلیم، جو کبھی ترقی اور خودمختاری کی علامت سمجھی جاتی تھی، اب کئی نوجوانوں کے لیے مایوسی کا استعارہ بن چکی ہے۔ ڈگریاں موجود ہیں، مگر مواقع نایاب، خواب زندہ ہیں، مگر راستے بند ۔
اسی مایوسی کا ایک نہایت دردناک اظہار جامعات میں طلبہ کی خودکشیوں کی صورت میں سامنے آ رہا ہے۔ یہ واقعات محض انفرادی سانحات نہیں، بلکہ ایک ایسے تعلیمی اور سماجی نظام پر سوالیہ نشان ہیں جو ذہنی صحت کو ثانوی حیثیت دیتا ہے۔ مقابلے کی شدید فضا، نمبروں اور گریڈز کا دباؤ، اساتذہ اور انتظامیہ کی جذباتی دوری، اور خاندانوں کی غیر محسوس مگر مسلسل توقعات، یہ سب مل کر نوجوان کو اس مقام تک لے آتے ہیں جہاں وہ خود کو اکیلا، ناکام اور غیر اہم سمجھنے لگتا ہے۔
یہاں پینگوئن کی مثال محض علامتی نہیں رہتی۔ جب کوئی نوجوان اپنے ہی سماج، اداروں اور رشتوں کے درمیان رہتے ہوئے خود کو الگ تھلگ محسوس کرے اور خاموشی سے پیچھے ہٹنے لگے، تو وہ بھی اسی پینگوئن کی مانند ہوتا ہے جو غول کے ہوتے ہوئے بھی تنہا چل پڑتا ہے۔ اسی طرح ننھا بندر اس بنیادی نفسیاتی ضرورت کی نمائندگی کرتا ہے جسے سوشل فیبرک کہا جاتا ہے جو پاکستانی معاشرے میں بکھرتا ہوا نظر آتا ہے۔ جب یہ تعلق میسر نہ ہو، تو انسان بھی بے جان سہاروں میں زندگی کی حرارت تلاش کرنے لگتا ہے۔
یہ بحران صرف پاکستان تک محدود نہیں۔ دنیا بھر میں نوجوان نسل ایک ایسے عالمی نظام میں سانس لے رہی ہے جہاں کارکردگی کو انسانیت پر فوقیت دی جاتی ہے اور کمزوری کو ناکامی سمجھا جاتا ہے۔ تاہم پاکستان میں یہ صورتِ حال اس لیے زیادہ سنگین ہے کہ یہاں ریاست، تعلیمی ادارے اور معاشرہ تینوں سطحوں پر اعتماد کا رشتہ کمزور پڑ چکا ہے۔ جب نوجوان یہ محسوس کرے کہ اس کی آواز غیر اہم ہے اور اس کا مستقبل غیر محفوظ، تو تنہائی ایک ذہنی کیفیت سے بڑھ کر وجودی مسئلہ بن جاتی ہے۔
انسان ہو یا حیوان، ذہنی سکون کا بنیاد تعلق، تحفظ اور توجہ ہے۔ جب معاشرے یہ بنیادی ضرورتیں فراہم کرنے میں ناکام ہو جائیں، تو تنہائی جنم لیتی ہے، اور تنہائی اگر بروقت سمجھی اور سنبھالی نہ جائے تو جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ اگر ہم نے نوجوانوں کو سنجیدگی سے نہ سنا، اگر تعلیمی اداروں میں ذہنی صحت کو محض رسمی بحث بنائے رکھا، اور اگر سماجی بے حسی کو معمول سمجھتے رہے، تو یہ خاموش المیے بڑھتے رہیں گے۔ پینگوئن اور ننھے بندر کی وہ تصویریں، نوجوان طلبہ کی جامعات میں خودکشیاں، ہمیں متنبہ کر رہی ہیں سوال یہ نہیں کہ مسئلہ موجود ہے یا نہیں، اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی آنکھیں بند رکھیں گے یا سماج سے سوشل فیبرک کو مذید بکھرنے سے بچا سکیں گے ؟