کینیڈا کی یادیں: قسط نمبر 3

کینیڈا میں مجھے محض 6 سے 7 دن گزارنے کا موقع ملا مگر دیکھنے کو بہت کچھ تھا۔ میرا قیام میسیساگا (Mississauga) میں تھا جہاں بہت سے پاکستانی مقیم ہیں۔ الحمدللہ، ایک دن بھی ایسا نہیں گزرا جہاں میرے دفتری معاملات کے علاوہ کوئی دوست مجھے لینے نہ آیا ہو اور ٹورنٹو یا آس پاس کے علاقوں میں گھومنے کا موقع نہ ملا ہو۔

یہاں، جیسا کہ پچھلی قسط میں تذکرہ ہوا تھا، میں اشفاق احمد کا ذکرِ خیر کرنا چاہوں گا۔ لمبا قد، سانولا رنگ اور انتہائی قابل و ٹیلنٹڈ صحافی۔ میں کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ اگر ہمارے ملک میں سہولیات اور بنیادی ضروریات کی کمی نہ ہو، تو واللہ ایسے قابل لوگ کبھی بھی اپنے ملک اور وطن کو چھوڑ کر باہر نہ جائیں۔

اشفاق احمد کے ساتھ میری جان پہچان اور بھائی چارہ تقریباً 20 سال پر محیط ہے۔ وہ خیبر ٹی وی میں مجھ سے کچھ ہی عرصہ قبل آئے تھے۔ اپنی محنت اور شب و روز تسلسل کے ساتھ کام کرنے کی بنیاد پر وہ خیبر نیوز میں نہ صرف ایک فرض شناس پروڈیوسر مانے گئے بلکہ ایک جاندار پشتو نیوز اینکر بھی۔ ان کی پشتو نیوز کی پیشکش میں سب سے جاندار بات ان کی بھاری آواز اور صاف ادائیگی تھی، جو یوسفزئی پشتو لہجے کو خوبصورتی اور روانی بخشتی تھی۔ مزید برآں، انہوں نے بے شمار دستاویزی فلمیں (Documentaries) اور کرنٹ افئیرز کے پروگرامز کیے۔ میرے خیال میں کسی بھی نیوز چینل سے منسلک شاید ہی کوئی ایسا شعبہ ہو جہاں انہوں نے اپنے پن کا لوہا نہ منوایا ہو۔

اللہ خیبر نیوز کو آباد رکھے، جو مجھ جیسے نالائق اور اشفاق احمد جیسے قابل ترین لوگوں کے لیے ایک اکیڈمی کی صورت رہا ہے۔ اشفاق احمد ماشاءاللہ ان چند صحافیوں میں سے ہیں جنہوں نے کینیڈا میں بھی اپنے کیریئر کو دوام بخشا۔ وہاں بھی وہ مختلف سماجی، فلاح و بہبود اور خبروں پر مبنی میڈیا آؤٹ لیٹس کے ساتھ محوِ سفر رہے ہیں۔

وہ کینیڈا میں پختون شنواری کے قریب ہی رہتے ہیں۔ جب انہیں میرے آنے کا پتہ چلا تو اسی دن تشریف لائے اور مجھے اپنے ساتھ پشتون کمیونٹی کے دوستوں کے پاس لے گئے۔ مجھے پردیس میں لسانی اور قومی بنیاد پر مبنی اوورسیز کے یہ گروپس بہت متاثر کرتے ہیں کیونکہ یہ آپ کو کسی طرح بھی دیارِ غیر میں ہونے کا احساس نہیں ہونے دیتے اور ایک اپنا سا ماحول بنا رہتا ہے۔ اشفاق احمد نے چند ہی سالوں میں وہاں کی پاکستانی اور ایشیائی کمیونٹی میں اچھا خاصا نام پیدا کیا ہے۔ اپنے دوست کو اس طرح کامیاب دیکھ کر دل خوش ہو جاتا ہے۔

یقین جانیے، جن لوگوں کے ساتھ مالی مشکلات والے ادوار میں وقت بیتا ہو، چاہے وہ بعد میں امیر ہو جائیں یا متوسط طبقے میں رہیں، ان سے کبھی دل جدا نہیں ہوتے۔ یہی بات اشفاق احمد میں نمایاں تھی۔ وہ اپنی کامیابی کے باوجود اپنا محنت سے بھرپور ماضی نہیں بھولے تھے۔

ایک دن میں اور اشفاق ٹورنٹو میں جھیل کے کنارے گپ شپ میں مصروف تھے کہ اچانک اشفاق نے ایک ایسی بات کہی جو اب تک میرے دل و دماغ پر نقش ہے۔ انہوں نے کہا:

"رحیم شاہ، ایک دن کینیڈا میں اتنی سردی تھی کہ میں اپنی خصوصی عینک پہننا بھول گیا اور میری آنکھوں کی پلکیں اس وقت تک بند نہیں ہو پا رہی تھیں جب تک میں نے قریبی کسی ریسٹورنٹ یا عمارت میں پناہ نہیں لی۔”

شاید یہ بات کینیڈا کے موسم کے حوالے سے بہت عام ہو، مگر میرے لیے یہ اس لیے اہم تھی کہ لوگ سمجھتے ہیں کینیڈا میں رہنے والا بس درختوں پر اگتے ہوئے ڈالرز کما رہا ہے۔ وہ اس بات سے ناواقف ہیں کہ یہ پیسہ "پل صراط” کے اس پار ہے جہاں تپتی آگ اور ‘سقر’ کی سردی دونوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اللہ پاک ہمارے اوورسیز بھائیوں کو ہمت دے جن کی کمائی سے پورا ملک چلتا ہے۔

اشفاق احمد کی شخصیت خود ایک مکمل فلم کی طرح رواں دواں ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ انہوں نے جتنا وقت مجھے دیا، اس میں بھرپور کوشش کی کہ مجھے کینیڈا دکھا سکیں اور اپنے دل کی باتیں بتا سکیں۔ کسی بھی شخص کے لیے زندگی کا آدھا حصہ پاکستان میں گزارنے کے بعد دیارِ غیر میں "صفر” سے آغاز کرنا بہت مشکل کام ہے، یہ صرف اللہ جانتا ہے یا اشفاق جیسے ہنرمند، جو ہمارے لیے باعثِ افتخار ہیں۔

ایک شام گھر میں بیٹھے تھے تو کہنے لگے: "چلیں رحیم شاہ، آپ کو قریب ہی ایک خوبصورت پہاڑ دکھاتا ہوں۔” شاید میں بار بار میدانی علاقوں کی سردی کی بات کر رہا تھا، اسی لیے وہ مجھے رات کے وقت پہاڑ کی جانب لے گئے۔ اگرچہ رات تھی، مگر روشنیوں نے برف کی خوبصورتی میں اضافہ کر رکھا تھا۔ کچھ لمحے وہ خوبصورت نظارہ آنکھوں میں بسایا اور پھر واپس میسیساگا آ گئے۔

الحمدللہ، دن گزرنے کے ساتھ میری طبیعت بھی بہتر ہو رہی تھی اور اشفاق و دیگر پشتون دوستوں کے ساتھ ہنسی مذاق نے رونق بڑھا دی تھی۔ جب فیملیز اکٹھی ہوئیں تو ہم بچوں اور خواتین سے ہٹ کر باہر صحن میں جا بیٹھے اور وہاں ہم دونوں اتنا ہنسے کہ ہنسی ختم ہونے کا نام نہ لیتی تھی۔

اب اشفاق احمد سے براہِ راست ملاقات تو نہیں ہوتی لیکن فون اور فیس بک پر ایک دوسرے کا حال احوال پوچھتے رہتے ہیں۔ یار دوست جہاں بھی رہیں، خوش رہیں اور امن و سلامتی سے رہیں۔

ملتے ہیں کینیڈا کی اگلی قسط میں، کچھ مزید دلچسپ یادوں اور دوستوں کے تذکرے کے ساتھ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے