کوئٹہ میں ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم مرحوم سے آخری ملاقات، سبز سوٹ پر پرچم کا بیج اور “یومِ برداشت” کا پیغام۔ اللہ مغفرت فرمائے آمین
ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کے انتقال کی خبر سن کر دل پر ایک خاموش سا بوجھ اتر آیا۔ بعض لوگ آپ سے بظاہر قریب نہیں ہوتے مگر ان کی شخصیت کی کشش ایسی ہوتی ہے کہ ملاقات مختصر بھی ہو تو یاد طویل تر ہو جاتی ہے۔ میں نے ان کے بارے میں بہت سنا تھا، محبت، وقار، سلیقہ، خود اعتمادی اور ایک خاص پاکستانیانہ رنگ کی وہ باتیں جو شہروں سے آگے نکل کر دلوں تک پہنچتی ہیں۔ پھر کوئٹہ میں گزشتہ نومبر بین الاقوامی اقبال کانفرنس میں ان سے روبرو ملاقات ہوئی اور وہی ملاقات آخری ثابت ہوئی۔
پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم ۱۹۵۵ء میں سرگودھا میں پیدا ہوئے۔ وہ تحقیق و تنقید کے شعبے میں خصوصی مہارت رکھتے تھے اور اقبالیات کے میدان میں ان کی خدمات نمایاں ہیں۔ ان کی دو سو کے قریب کتابیں منظر عام پر آ چکی ہیں جن میں پچاس سے زائد علامہ محمد اقبال کی فکر و فن سے متعلق ہیں، جب کہ نصابی کتب بھی ان کے علمی سرمایہ میں شامل ہیں۔ ان کی متعدد تصانیف کو ادبی ایوارڈز سے نوازا گیا، جو ان کے علمی وقار اور مسلسل محنت کی روشن دلیل ہے۔

کوئٹہ میں میرے مادر علمی تعمیرِ نو کالج میں رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین کلب اور اقبال اکیڈمی کے زیر اہتمام ہونے والی یہ یادگار کانفرنس بہت سی شاندار شخصیات سے ملاقات کا بہانہ بن گئی۔ برادر عزیز حافظ محمد طاہر نے جو قومی رحمۃ للعالمین و خاتم النبیین اتھارٹی بلوچستان چیپٹر کے ذمہ دار بھی ہیں ملک کے مختلف حصوں کے ساتھ ساتھ سات دیگر ممالک سے بھی اقبال شناس شخصیات کو مدعو کیا تھا۔ اس کانفرنس کے کلیدی سیشن میں میں نے نظامت کے فرائض سر انجام دیے اور ڈاکٹر صاحب بطور پینلسٹ موجود تھے ۔ ان کے ہمراہ پینل میں محترم سمیع اللہ ملک اور ڈاکٹر نجیبہ عارف بھی تھیں۔ نشست طویل تھی، گفتگو گہری تھی، پھر میں نے آخر میں کارروائی کا خلاصہ پیش کیا۔ میں نے اپنی گزارشات پیش کیں اور پاکستان کے لیے فلک شگاف نعرے لگوائے۔ابھی ان نعروں کی گونج تھمی بھی نہ تھی کہ ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم اپنی مخصوص شگفتگی کے ساتھ روسٹرم کے قریب آئے، مجھے بھرپور خلوص کے ساتھ سراہا۔ وہ سبز سوٹ میں ملبوس تھے اور دل کے قریب پاکستانی پرچم کا بیج یوں لگا تھا جیسے یہ محض ایک نشان نہیں بلکہ ان کی شناخت اور وابستگی کا اعلان ہو۔ ان کی گفتگو میں بھی یہی پاکستانیّت بولتی تھی، ایک صاف، محبت بھرا اور ذمہ دارانہ وطن دوست شعور۔
انہوں نے مسکراتے ہوئےمجھے ایک لاکھ پیسہ یعنی ایک ہزار روپے کا نوٹ تھمایا۔ یہ کوئی رسمی انعام نہیں تھا، یہ ان کی شفقت، زندہ دلی اور انسان دوستی کا وہ خفیف سا اشارہ تھا جس نے اس لمحے کو ایک ایسی یاد بنا دیا جو ہمیشہ خوشبو بکھیرتی رہے گی ۔ اس نوٹ کے ساتھ انہوں نے “عالمی یومِ برداشت” کا حوالہ دیا اور اس نوٹ کو میری برداشت کا انعام قرار دیا ۔ شاید یہ برداشت ہی ہےآج ہمیں جس کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ میں نے اس لمحے محسوس کیا کہ ڈاکٹر صاحب کے ہاں وطن سے محبت صرف نعرہ نہیں تھی، یہ کردار میں ڈھلا ہوا پیغام تھا: اختلاف کے باوجود احترام، گفتگو کے ساتھ گنجائش، اور سماج میں نفرت کے مقابلے میں برداشت۔

ڈاکٹر صاحب کی شخصیت کئی جہات رکھتی تھی۔ وہ علمی حلقوں میں جانے پہچانے جاتے تھے، مگر ان کا کمال یہ تھا کہ علم کے ساتھ انسانیت بھی رکھتے تھے۔ وہ مجلس کے وقار کو بھی جانتے تھے اور مسکراہٹ کی تاثیر کو بھی۔ وہ گفتگو کی سنجیدگی کو بھی نبھاتے تھے اور دل کی گرہ کھول دینے والا لطیف انداز بھی رکھتے تھے۔ اور سب سے بڑھ کر یہ کہ وہ برداشت کی بات محض تقریر میں نہیں کرتے تھے، اسے اپنے انداز اور برتاؤ میں زندہ رکھتے تھے۔ آج جب معاشرہ عدم برداشت، نفرت اور تقسیم کے دباؤ میں ہے، “برداشت” واقعی وہی چیز ہے جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
اس سیشن کے بعد کے دو دن بھی ان کی رفاقت میسر رہی اور ان سے بہے کچھ سیکھنے کو ملا۔ وہ بارہا اس بات پر فکر مند تھے کہ ہم آج کے بچوں اور نوجوانوں کو اپنی بات اس قدر ثقیل انداز میں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ سیکھنے کی بجائے بیزاری کا شکار ہو جاتے ہیں۔ انھوں نے رحمۃ للعالمین اتھارٹی کی جانب سے کردار سازی کی حکمت عملی کے اجرا کی خبر سن کر بھرپور مسرت کا اظہار کیا اور شاباش بھی دی۔
اللہ تعالی پروفیسر ڈاکٹر ہارون الرشید تبسم کی مغفرت فرمائے، ان کی قبر کو نور سے بھر دے، ان کے درجات بلند کرے اور لواحقین کو صبر جمیل عطا کرے۔ سرگودھا ہو یا کوئٹہ یا ملک عزیز کے خوبصورت شہر و دیہات، علمی دنیا ہو یا محبت کرنے والے دل، بہت سے لوگ انہیں اپنے اپنے انداز میں یاد کریں گے۔ میں انہیں اس شخص کے طور پر یاد رکھوں گا جو ایک طویل سیشن کے اختتام پر بھی لوگوں کے چہروں پر تازگی لوٹا سکتا تھا، جو دل کے قریب پرچم بھی رکھتا تھا اور دل کے اندر برداشت بھی، اور جو عزت دینا بھی جانتا تھا اور خوشی بانٹنا بھی۔