عالمی دن، انسانی حقوق اور دنیا کا دوغلا معیار

بین الاقوامی سطح پر بے شمار عالمی دن منائے جاتے ہیں جنہیں مختلف نام دیے جاتے ہیں۔ ان دنوں کا مقصد مختلف رشتوں، طبقات اور انسانی حقوق کے حوالے سے محبت، خلوص، برابری اور آگاہی کو فروغ دینا بتایا جاتا ہے۔

دنیا بھر میں خواتین، بچوں، صحافیوں، انسانی حقوق اور امن کے نام پر تقاریب منعقد کی جاتی ہیں تاکہ معاشرے میں شعور پیدا ہو اور مظلوم طبقات کے حقوق کے لیے آواز بلند کی جا سکے۔ مگر بدقسمتی سے جدید دور میں حقیقت اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے۔ ہم دن تو منا رہے ہیں، مگر انسانیت کو فراموش کرتے جا رہے ہیں۔

دن منانے کا اصل مقصد لوگوں میں شعور بیدار کرنا اور مظلوم طبقات کے حقوق کے تحفظ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہونا چاہیے لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمیں ان لوگوں کی یاد نہیں آتی جو آج بھی دنیا کے مختلف خطوں میں ظلم، جبر اور ناانصافی کا شکار ہیں؟ کیا عالمی سطح پر منائے جانے والے یہ دن صرف مخصوص طبقوں تک محدود ہو کر رہ گئے ہیں؟

سچ بولنا اور حقیقت کو دنیا تک پہنچانا ہمیشہ سے ایک مشکل اور حوصلے کا کام رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حق کی آواز بلند کرنے والے صحافی اور انسانیت دوست افراد معاشرے میں ایک اہم مقام رکھتے ہیں۔ مگر اگر فلسطین کی صورتحال دیکھی جائے تو وہاں صحافیوں پر ہونے والا ظلم، ان کی شہادتیں اور پھر انہی کے بچوں کا اپنے والدین کے مشن کو آگے بڑھانا ایک بہت بڑا المیہ ہے۔

ایسے معاشرے میں جہاں دنیا خاموش تماشائی بنی بیٹھی ہو وہاں انسانیت خود سوالیہ نشان بن جاتی ہے۔ہم خواتین کا عالمی دن بھی مناتے ہیں مگر فلسطینی خواتین پر ہونے والے ظلم و ستم پر ہماری خاموشی کیا ظاہر کرتی ہے؟ اگر عالمی دن واقعی انسانیت، حقوق اور شعور کے لیے ہیں تو پھر یہ احساس ہر مظلوم انسان کے لیے یکساں ہونا چاہیے چاہے اس کا تعلق کسی بھی مذہب، نسل یا خطے سے ہو۔

عالمی سطح پر ہم بچوں کے حقوق کی بات کرتے ہیں اور انہیں بہتر معاشرہ فراہم کرنے کے لیے مختلف قسم کے نظریات، قوانین اور تقاریب کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے۔ ہر سال بچوں کے تحفظ، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کے حوالے سے عالمی دن منائے جاتے ہیں تاکہ دنیا کو یہ باور کروایا جا سکے کہ بچے کسی بھی قوم کا مستقبل ہوتے ہیں۔

مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ شاید فلسطین میں بسنے والے بچوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو دنیا کے دیگر بچوں کے لیے ضروری سمجھے جاتے ہیں۔

وہاں بچوں کا بچپن صرف چھینا ہی نہیں جا رہا بلکہ انہیں خوف، جنگ اور تباہی کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔ معصوم بچے جسمانی معذوری، ذہنی صدمات اور مسلسل خوف کا شکار ہو رہے ہیں جس سے ان کی پوری زندگی متاثر ہو رہی ہے۔ یہ صورتحال صرف ایک جنگ نہیں بلکہ انسانیت کے ضمیر کے لیے ایک بہت بڑا امتحان بن چکی ہے جہاں بنیادی انسانی اقدار پسِ پشت ڈال دی گئی ہیں۔

عالمی سطح پر بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے بے شمار تنظیمیں اور ادارے قائم کیے گئے ہیں جو ہر سال بچوں کی فلاح و بہبود، تعلیم، صحت اور تحفظ کے حوالے سے بڑے بڑے دعوے اور اعلانات کرتے ہیں۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب دنیا کے مختلف خطوں، خصوصاً فلسطین میں معصوم بچے مسلسل ظلم، خوف اور جنگ کا شکار ہیں تو ان تنظیموں نے عملی طور پر کیا کردار ادا کیا ہے؟

اگر یہ ادارے واقعی انسانی حقوق کے محافظ ہیں تو پھر مظلوم بچوں کی چیخیں، ان کا تباہ شدہ مستقبل اور ان کے بنیادی حقوق کی پامالی کیوں نظر انداز کی جا رہی ہے؟

ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تنظیمیں صرف مخصوص مقاصد اور چند خاص طبقات کے حقوق کے تحفظ تک محدود ہو چکی ہیں جبکہ دنیا کے بے شمار مظلوم بچے آج بھی انصاف اور تحفظ کے منتظر ہیں۔ اگر انسانی حقوق صرف مخصوص قوموں، علاقوں یا نظریات تک محدود کر دیے جائیں تو پھر عالمی انصاف اور برابری کے دعوے اپنی حیثیت کھو دیتے ہیں۔ کیونکہ حقیقی انسانیت وہی ہے جو ہر مظلوم بچے کے درد کو یکساں محسوس کرے اور اس کے حق کے لیے بلا تفریق آواز بلند کرے۔

آج کا نوجوان محض نعروں، تقریبات یا چند رسمی دنوں سے متاثر نہیں ہوتا۔ یہ وہ دور ہے جہاں لوگ خود سوچنے اور سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ہر باشعور انسان یہ سوال ضرور کرے گا کہ اگر عالمی دن صرف چند مخصوص لوگوں کے لیے ہیں تو پھر انہیں “عالمی” کہنے کا مقصد کیا ہے؟

دن منانے کا مقصد اگر صرف نمائشی آگاہی ہے تو پھر دنیا میں ظلم و جبر کی ہولناک مثالیں کيوں قائم ہو رہی ہیں یقینا یہ ایک دوغلا معیار ہے۔

آج بین الاقوامی قوانین کو مسلسل پامال کیا جا رہا ہےمگر طاقتور عناصر کے خلاف عملی اقدامات نظر نہیں آتے۔ ظالم کو اسلحہ فراہم کیا جاتا ہےاس کی پشت پناہی کی جاتی ہے جبکہ مظلوم کے حق میں آواز بلند کرنے والوں کو دبایا جاتا ہے۔

عالمی دن منانے کا مقصد لوگوں کو برابری، انصاف اور انسانی حقوق کا شعور دینا ہوتا ہے مگر اگر یہ برابری صرف نعروں، تقریروں اور رسمی تقریبات تک محدود ہو جائے تو پھر ایسے دن اپنی اصل اہمیت کھو دیتے ہیں۔ اگر معاشرے میں موجود مظلوم طبقہ ہمیشہ ظلم، جبر اور ناانصافی کا شکار رہے اور اس کے حق میں آواز بلند نہ کی جائےتو پھر یہ سوال پیدا ہونا فطری ہے کہ ایسے عالمی دن منانے کا حقیقی فائدہ کیا ہے؟

اگر دنیا میں انسانی حقوق صرف چند مخصوص لوگوں تک محدود کر دیے جائیں اور باقی انسانوں کو ان حقوق کا مستحق نہ سمجھا جائے تو یہ ایک کھلا دوغلا معیار ہے۔

ایسے حالات میں خاموش رہنے کے بجائے اس منافقت اور ناانصافی کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے۔ کیونکہ انسانیت صرف نعروں سے زندہ نہیں رہتی بلکہ عملی انصاف، مساوات اور مظلوم کے ساتھ کھڑے ہونے سے قائم رہتی ہے۔

اسی لیے اگر عالمی دن صرف نمائشی سرگرمیوں اور مخصوص طبقات تک محدود رہیں جبکہ دنیا کے بے شمار مظلوم انسان مسلسل ظلم سہتے رہیں تو پھر ایسے دنوں کو منانے کے بجائے ان کے مقصد پر سوال اٹھانا اور ان کے دوغلے معیار کے خلاف احتجاج کرنا ہر باشعور انسان کا حق ہے۔

یہی وہ حقیقت ہے جو دنیا کے ضمیر پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ جب انسانیت کے نام پر قائم ادارے بھی خاموش ہو جائیں تو پھر دنیا میں انصاف کی امید کمزور پڑنے لگتی ہے۔ فلسطینی عوام پر ہونے والا ظلم صرف ایک خطے کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری انسانیت کا امتحان ہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ عالمی دن محض رسمی تقریبات تک محدود نہ رہیں بلکہ ان کا مقصد حقیقی معنوں میں انسانیت، انصاف، برابری اور مظلوم کی حمایت بنے۔ کیونکہ جب تک دنیا ہر انسان کے حق کو برابر اہمیت نہیں دے گی تب تک انسانیت کا دعویٰ ادھورا رہے گا۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے