سیٹی بجاتی

ریل سے عشق ہمارا پرانا ہے۔ ہماری پرانی فلموں اور ڈراموں میں ٹرین لازمی حصہ ہوا کرتی تھی۔ عید ٹرین کے نام سے پی ٹی وی کا ایک ڈرامہ اور اس میں معین اختر کی لازوال اداکاری آج بھی یادوں میں تازہ ہے۔ ہندوستانی اور پاکستانی فلموں میں ٹرین کے مناظر پر فلمائے گئے رومانوی گیت تو جیسے اس سفر کو خواب ناک بنا دیتے تھے۔

بچپن میں اکثر و بیشتر ہمارا سفر ٹرین ہی پر ہوتا۔ صبح سویرے امی اور بھائیوں کے ساتھ اسٹیشن پہنچنا، پلیٹ فارم پر بیٹھ کر ٹرین کا انتظار کرنا، اور پھر بھاگم بھاگ اپنی نشست سنبھالنا یہ سب آج بھی ذہن کے پردے پر محفوظ ہے۔ سیٹی کی آواز کے ساتھ چھک چھک کرتی ریل کا چل پڑنا، اچھل کر برتھ پر چڑھ جانا، ہر ٹوکری والے سے ضد کرکے کچھ نہ کچھ خریدنا، سرنگ آتے ہی سانس روک لینا اور کھڑکی سے باہر جھانکنا دور سےنظر آنے والا روشنی کا ہیولہ ۔۔یہ سب بچپن کی حسین یادیں ہیں۔ موڑ کاٹتے وقت آگے پیچھے کے ڈبے گننا، ہر اسٹیشن کا نام یاد رکھنا ٹرین کا سفر اپنے اندر ایک مکمل دنیا سموئے ہوتا تھا۔

پھر وقت بدلا۔ ہم نے ترقی تو کی، موٹرویز بن گئیں، مگر ٹرین جیسے نظرِ بد کا شکار ہو گئی۔ شعور آیا تو معلوم ہوا کہ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت ٹرینوں کے اوقات ایسے رکھے گئے کہ بس مافیا کو فائدہ پہنچے۔ آٹھ آٹھ، دس دس گھنٹے کی تاخیر نے عوام کو مجبور کر دیا کہ وہ بسوں کے ذریعے سفر کریں۔ حالانکہ سہولت، سکون اور لطف جو ٹرین کے سفر میں ہے، وہ بس میں کہاں؟

ایک وفد کے ہمراہ چین جانے کا موقع ملا تو وہاں ہائی اسپیڈ ریل میں سفر نے حیرت میں ڈال دیا۔ جدید ترین ریلوے اسٹیشن، میزائل جیسی شکل کی برق رفتار ٹرین، آرام دہ نشستیں، نہ سیٹی کی آواز، نہ چھک چھک بس خاموشی سے ہوا کو چیرتی رفتار۔ ساڑھے تین سو سے چار سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار، اور وہ بھی بغیر کسی جھٹکے کے۔ دل ہی دل میں اپنے ملک کے ریلوے نظام سے موازنہ ہوتا رہا۔
ہمیں بتایا گیا کہ پورا چین ہائی اسپیڈ ریل کے جال سے جُڑا ہوا ہے، اور یہی وجہ ہے کہ چینی عوام ہوائی سفر کے بجائے ریل کو ترجیح دیتے ہیں۔ مسافر ٹرینوں کے ساتھ ساتھ جدید ترین مال گاڑیاں بھی ملک بھر میں رواں دواں ہیں، جو معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کر رہی ہیں۔ یہ جان کر شدید حیرت ہوئی کہ چین سے روزانہ درجنوں مال گاڑیاں یورپ جاتی ہیں اور یہ سفر محض دس دن میں مکمل ہوتا ہے—پہاڑ، صحرا، برفستان اور دریا سب اس راستے میں آتے ہیں، مگر بہترین منصوبہ بندی نے سب کو ممکن بنا دیا ہے۔

دل میں ایک معصوم سی خواہش جاگی کہ کاش ہمارے وطن میں بھی ایسا ہی نظام ہو۔ اور پھر جیسے یہ دعا قبول ہو گئی۔ چین پاکستان اقتصادی راہداری کے تحت ایم ایل ون ایک عظیم ریلوے انفراسٹرکچر منصوبہ ہے، جو کراچی سے پشاور تک ریلوے لائن کو جدید بنانے کا خواب ہے۔ اس منصوبے کے تحت ٹیکسلا تا حویلیاں اور حیدرآباد تا ملتان کے حصے بھی اپ گریڈ کیے جائیں گے۔ کراچی–روہڑی سیکشن کا سنگِ بنیاد جولائی 2026 میں رکھا جانا متوقع ہے۔

ایم ایل ون دراصل پاکستان کی معاشی شہ رگ ہے۔ یہ منصوبہ لاگت کم کرے گا، صنعتوں کو بندرگاہوں، منڈیوں اور سرحدی راستوں سے جوڑے گا، سڑکوں پر بوجھ کم کرے گا، اور مال برداری کے نظام کو جدید بنائے گا۔ 24 گھنٹوں کا سفر محض سات گھنٹوں میں مکمل ہو سکے گا۔ روزگار کے ہزاروں مواقع پیدا ہوں گے، اور ماحولیات پر منفی اثرات میں نمایاں کمی آئے گی۔
جب ایم ایل ون ٹریک پر روزانہ 136 ٹرینیں چلیں گی تو سڑکوں پر دوڑتے بڑے بڑے ٹرک اور کنٹینرز ریل پر منتقل ہو جائیں گے۔ اس سے نہ صرف ریلوے کی آمدن بڑھے گی بلکہ ٹریفک، حادثات اور آلودگی میں بھی کمی آئے گی۔

ان شاء اللہ وہ دن دور نہیں جب ہم جدید ترین ٹرین میں سفر کر رہے ہوں گے، اور ہمارے بچپن کا خواب سیٹی بجاتی ریل ایک بار پھر حقیقت بن جائے گا۔ اس خواب کی تعبیر میں ہمارے دوست چین کا کردار ناقابلِ فراموش ہے، جو نہ صرف جدید ٹیکنالوجی فراہم کرے گا بلکہ اپنے ماہر انجینیئرز کے ذریعے اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچائے گا۔پاکستان کو جدید ترین ٹرینیں بھی مہیا کرے گا ۔
پاک چین دوستی زندہ باد
ناز پروین معروف کالم نگار دو کتابوں کی مصنفہ پشاور میں قائم چینی ثقافتی مرکز چائنہ ونڈو کی ڈائریکٹر ہیں ۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے