"مطالعہ قرآن حکیم” تعمیری مشن اور فرقہ وارانہ رکاوٹیں

ہمارے معاشرے کا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ یہاں تخریب کے لیے تو ہزاروں ہاتھ اٹھتے ہیں، مگر تعمیر کی کوئی شمع روشن ہو تو اسے بجھانے کے لیے ہر طرف سے آندھیاں چل پڑتی ہیں۔ جو کام ہمارے مختلف مسالک کے شیخ الاسلام، علامہ اور قدم قدم پر موجود مناظرینِ اسلام کو بہت پہلے کر لینا چاہیے تھا، اُس ’’فرضِ کفایہ‘‘ کو خادمِ قرآن ڈاکٹر اسرار احمدؒ کے شاگردِ رشید شیخ شجاع الدین صاحب نے نبھانے کا بیڑا اٹھایا۔ بلاشبہ یہ سعادت محض کوشش سے نہیں بلکہ اللہ کے خاص فضل سے ملتی ہے:

’’ایں سعادت بزورِ بازو نیست‘‘۔

چاہیے تو یہ تھا کہ ہم اس مشن میں ان کا سہارا بنتے، لیکن افسوس کہ فرقہ پرستی کے زہر نے ہمیں اپنوں ہی کے پاؤں کھینچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ برسوں کی محنت سے تیار کردہ نصاب، جو جدید نسل کو قرآن سے جوڑنے کا ذریعہ ہے، اُسے آج سوشل میڈیا پر ببانگِ دہل ’’جعل سازی‘‘ اور ’’فراڈ‘‘ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس یوٹیوبر سے کوئی استفسار کرے کہ کیا تمہیں ذرا بھی خدا کا خوف نہیں آیا؟ کیا تمہیں اس شخصیت کی قربانیوں کا اندازہ بھی ہے جس نے اپنی زندگی اقامتِ دین اور خدمتِ قرآن کے لیے وقف کر دی؟

بہت پہلے یہ اعتراض اٹھایا گیا کہ اس نصاب میں اہلِ تشیع کی کتب کے حوالے موجود ہیں۔ حیرت ہے کہ یہی حوالے برسوں سے سرکاری نصابِ اسلامیات کا حصہ ہیں، وہاں سب خاموش ہیں۔ بطورِ نمونہ یہ مثال لیجیے کہ خیبر پختونخوا میں پڑھائے جانے والے سرکاری نصاب کے جماعت ششم کے اسلامیات لازمی میں ایک حدیث نقل ہے:

’’سچائی نیکی کا راستہ دکھاتی ہے اور نیکی جنت کی طرف لے جاتی ہے۔‘‘

اس کے سامنے حوالہ دیا گیا ہے: (شرح الکافی، ج 1، ص 465)

ویسے ایک سوال ہے: اگر ایک متفقہ بات صحاحِ ستہ میں بھی ہے اور اصولِ کافی یا اہلِ تشیع کی کسی اور کتاب میں بھی ہے، تو اس سے تو بات میں مزید تائید اور وزن پیدا ہوتا ہے۔ آخر اس میں قباحت کیا ہے؟

کیا ہم اتحادِ امت کے نعرے صرف جلسوں کے لیے لگاتے ہیں؟ کیا اسکولوں میں پڑھنے والے اہلِ تشیع طلبہ کا خیال رکھنا ہماری علمی اور اخلاقی ذمہ داری نہیں؟

لیکن اس موقع پر بھی شیخ شجاع الدین صاحب کی ٹیم نے کمالِ ظرف کا مظاہرہ کرتے ہوئے لایعنی ابحاث سے بچنے کے لیے وہ تمام حوالے حذف کر دیے تاکہ اصل مقصد متاثر نہ ہو۔ مگر افسوس کہ فرقہ پرست عناصر اب دوربین لے کر دوبارہ گھات میں بیٹھ گئے ہیں۔

اب اعتراضات کا رخ تشریحات کی طرف موڑ کر عوام کے دلوں میں شکوک پیدا کیے جا رہے ہیں۔ کیا ڈھنگ اور سلیقہ یہ نہیں ہونا چاہیے تھا کہ ادارے کو خط لکھ کر علمی مکالمہ کیا جاتا؟ کیا ہم اپنے مدارس میں تقابلی مطالعہ نہیں پڑھاتے؟ جب ختمِ نبوت کا محاذ ہو، ایم ایم اے کا قیام ہو یا اسلامی نظریاتی کونسل وہاں تو ہم اہلِ تشیع کے ساتھ ایک صف میں کھڑے ہوتے ہیں تو قرآن سکھانے کے معاملے میں یہ تعصب کیوں؟

کاش میں کوئی بہت بڑا قلم کار ہوتا تو اپنے قلم کی کاٹ سے اس سعیِ جمیلہ کا بھرپور دفاع کرتا۔ یہ کتنا جامع نصاب ہے جو عصری علوم کے گریجویٹ کو قرآن کے فہم سے بھی منور کرتا ہے۔ وہ طالب علم جو انگریزی تو فرفر بولتا تھا مگر قرآن کی سمجھ سے ناواقف تھا، اب اس قابل ہو رہا ہے کہ اللہ کے کلام کو براہِ راست سمجھ سکے۔

ممکن ہے یوٹیوبر کی طرف سے مجھ پر الزام لگے کہ شاید میں نے اس ادارے سے ماضی میں کوئی مالی فائدہ اٹھایا ہے اور اسی لیے میں اس کے حق میں یہ سب کچھ لکھ رہا ہوں۔ میں رمضان المبارک کے اس مقدس مہینے میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا اس ادارے سے کوئی مالی مفاد وابستہ نہیں، بلکہ میں اسے اپنا دینی فریضہ سمجھتا ہوں۔

سوشل میڈیا ایک شترِ بے مہار بن چکا ہے جہاں غیر ذمہ دارانہ گفتگو سے عوام کو گمراہ کیا جا رہا ہے۔ میری تمام قارئین سے التماس ہے کہ مسلکی تعصب سے بالاتر ہو کر ’’مطالعۂ قرآنِ حکیم‘‘ کے نصاب کے ساتھ کھڑے ہوں۔

اگر آج ہم نے اس خیر کے کام کا ساتھ نہ دیا تو تاریخ ہمیں کبھی معاف نہیں کرے گی۔ یاد رکھیے، یہ شیخ شجاع الدین صاحب یا دی علم فاؤنڈیشن کا ساتھ نہیں، بلکہ قرآن کا ساتھ ہے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے