تاریخ بڑی بے رحم ہوتی ہے، یہ ان بتوں کو سب سے پہلے توڑتی ہے جن کی پوجا برسوں ’تزویراتی گہرائی‘ کے نام پر کی گئی ہو۔ کل تک جنہیں ہم اپنا ’اثاثہ‘ اور نظریاتی سرحدوں کا محافظ سمجھتے تھے، آج ان کے دسترخوان پر دہلی کا نمک ہے اور دفاعی مشوروں میں تل ابیب کی خوشبو۔ کابل کے سنگلاخ پہاڑوں سے نکلنے والی بادِ شمال اب ٹھنڈی نہیں رہی، بلکہ اس میں اس نئے گٹھ جوڑ کی تپش محسوس کی جا سکتی ہے جو پاکستان کو ایک بار پھر تاریخ کے کٹہرے میں کھڑا کر رہا ہے۔
افغان طالبان، جن کی فتح پر کبھی ہمارے ہاں مٹھائیاں بانٹی گئی تھیں، آج ایک نئی حقیقت کا ادراک کر چکے ہیں۔ وہ حقیقت ہے ’بقا‘۔ اور اس بقا کے لیے انہیں پاکستان کے روایتی حریف بھارت سے ہاتھ ملانے میں اب کوئی عار نہیں۔ دہلی نے کابل میں اپنی ’ٹیکنیکل ٹیم‘ کے نام پر جو بساط بچھائی تھی، وہ اب مکمل سفارتی اور معاشی گرفت میں بدل چکی ہے۔ بھارت کے اربوں ڈالرز اب کابل کے حکمرانوں کے لیے وہ آکسیجن ہیں جس کے بدلے میں وہ پاکستان کے خلاف اپنی سرزمین کے استعمال پر ’چشم پوشی‘ کا ٹیکس وصول کر رہے ہیں۔
اس تصویر میں اب ’صہیونی رنگ‘ بھی بھرے جا رہے ہیں۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کا دورہ بھارت اور اس کے نتیجے میں سامنے آنے والا ’ہیکساگون آف الائنسز‘ دراصل پاکستان کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا ایک جدید منصوبہ ہے۔ اسرائیل کی ڈرون ٹیکنالوجی، جاسوسی کے آلات اور بھارت کا پیسہ جب افغان سرزمین کے راستے دہشت گرد مہروں کے ہاتھ لگتا ہے، تو ریاستِ پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی بج جاتی ہے۔
جب ریاست کی برداشت کا پیمانہ لبریز ہوا اور تزویراتی گہرائی کے خوابوں نے سرحد پار سے لہو اگلنا شروع کیا، تو جواب دینا محض ضرورت نہیں بلکہ بقا کا مسئلہ بن گیا۔ ’آپریشن غضب للحق‘ اسی بدلے ہوئے بیانیے کا عنوان ہے۔ یہ محض ایک فوجی کارروائی نہیں تھی، بلکہ کابل کے اربابِ اختیار کے لیے ایک تلخ پیغام تھا کہ اگر آپ کی زمین پر دہلی کی شہ اور اسرائیل کی تکنیکی معاونت سے پاکستان کے خلاف ’ہائبرڈ جنگ‘ لڑی جائے گی، تو پھر اس کا جواب بھی اسی شدت سے دیا جائے گا۔ ’غضب للحق‘ نے جہاں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو زمین بوس کیا، وہیں اس تریمرک اتحاد کے اس تکبر کو بھی خاک میں ملایا جو یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ پاکستان اپنی مغربی سرحد پر صرف دفاعی پوزیشن تک محدود رہے گا۔
حیرت تو ان دانشوروں پر ہے جو اب بھی کابل سے ’اسلامی اخوت‘ کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بین الاقوامی سیاست میں نہ کوئی مستقل امام ہوتا ہے اور نہ ہی مستقل مقتدی؛ یہاں صرف مفادات کا کلمہ پڑھا جاتا ہے۔ افغان طالبان کی کشمیر اور غزہ پر معنی خیز خاموشی اور بھارت کے ساتھ بڑھتا ہوا معاشقہ اس بات کی گواہی ہے کہ وہ اب کسی نظریاتی بیانیے کے نہیں بلکہ اس تزویراتی محاصرے کے اسیر ہو چکے ہیں جس کا ہدف پاکستان کو مفلوج کرنا ہے۔
ہمیں اب یہ مان لینا چاہیے کہ تزویراتی گہرائی کا خواب اب ایک ڈراؤنی حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑا ہے۔ جب تک ہم اپنی خارجہ پالیسی کو جذباتیت کے غلاف سے نکال کر زمینی حقائق کے مطابق استوار نہیں کریں گے، تب تک ہم اسی طرح اپنوں کی بے وفائی اور دشمنوں کی چالاکیوں کا مرثیہ لکھتے رہیں گے۔ وقت آ گیا ہے کہ ہم دہلی، کابل اور تل ابیب کے اس نئے ’نکاح‘ کو محض ایک اتفاق سمجھنے کی غلطی نہ کریں، بلکہ ’غضب للحق‘ جیسے پختہ ارادوں کے ساتھ اس محاصرے کو توڑنے کی تیاری کریں۔
*مصنف سیاسی و سماجی امور پر لکھتے ہیں اور کالمسٹ کونسل آف پاکستان (سی سی پی) کے مرکزی صدرکے طورپرذمہ داریاں نبھا رہے ہیں *