اسلامی تاریخ کے افق پر کچھ نام ایسے جگمگاتے ہیں کہ صدیوں کی گرد بھی ان کی تابانی کو مدھم نہیں کر سکتی۔
امُّ المؤمنین خدیجہ بنت خویلد رضی اللہ عنہا کا نام انہیں درخشاں ستاروں میں شامل ہے۔ یومِ وصال کا ذکر آتا ہے تو محض ایک تاریخی واقعہ سامنے نہیں آتا بلکہ ابتدائے اسلام کی وہ پوری داستانِ وفا آنکھوں کے سامنے پھرنے لگتی ہے جس میں ایثار، استقامت اور یقین کی خوشبو رچی بسی ہے۔ یہ وہ ہستی ہیں جن کے دامنِ محبت نے نبوت کے ابتدائی اور نازک ترین ایام میں رسالت مآب ﷺ کو وہ سکون، وہ اعتماد اور وہ سہارا فراہم کیا جس کی مثال تاریخِ انسانیت میں کم ہی ملتی ہے۔
حضرت خدیجہؓ قریش کے معزز اور باوقار خاندان سے تعلق رکھتی تھیں۔ مکہ کی سرزمین پر وہ طاہرہ کے لقب سے معروف تھیں۔ تجارت کے میدان میں ان کی دیانت اور معاملہ فہمی ضرب المثل تھی۔ ایک ایسے معاشرے میں جہاں عورت کو عمومی طور پر سماجی اور معاشی آزادی میسر نہ تھی، وہاں ان کا باوقار اور کامیاب تاجر ہونا بذاتِ خود ان کی غیر معمولی بصیرت کا ثبوت تھا۔ انہوں نے جب نوجوان اور امین و صادق شخصیت کے حامل محمد ﷺ کو اپنے تجارتی قافلے کی نگرانی سونپی تو گویا تاریخ کے ایک نئے باب کا آغاز ہو رہا تھا۔ شام کے سفر سے واپسی پر جو دیانت، حسنِ معاملہ اور غیر معمولی اخلاق کا منظر ان کے سامنے آیا، اس نے ان کے دل میں ایک ایسی عظمت کی شمع روشن کر دی جو جلد ہی نکاح کی صورت میں ایک مقدس رشتے میں ڈھل گئی۔
یہ ازدواجی زندگی محض ایک گھریلو تعلق نہ تھی بلکہ یہ وہ رفاقت تھی جس نے آنے والے طوفانوں کا مقابلہ کیا۔
جب غارِ حرا میں پہلی وحی کا نور اترا اور رسالت مآب ﷺ ایک غیر معمولی کیفیت کے ساتھ گھر تشریف لائے تو سب سے پہلے جس ہستی نے آپ کو اپنی آغوشِ تسلی میں لیا وہ حضرت خدیجہؓ تھیں۔ انہوں نے وہ تاریخی الفاظ ادا کیے جو ایمان کی پختگی اور فہم کی گہرائی کا شاہکار ہیں: اللہ کی قسم! اللہ آپ کو ہرگز رسوا نہیں کرے گا، آپ صلہ رحمی کرتے ہیں، سچ بولتے ہیں، کمزوروں کا بوجھ اٹھاتے ہیں اور مہمان نوازی کرتے ہیں۔ یہ الفاظ محض تسلی نہ تھے بلکہ نبوت کی سچائی پر پہلا عملی مہر تھے۔ یوں وہ اسلام قبول کرنے والی پہلی خاتون اور اولین مؤمنہ بنیں، اور یہ اعزاز قیامت تک ان کے نام کے ساتھ وابستہ رہے گا۔
ابتدائے اسلام کی تاریخ آزمائشوں کی تاریخ ہے۔ قریش کی دشمنی، طعن و تشنیع، سماجی مقاطعہ اور شعبِ ابی طالب کی کٹھن گھڑیاں یہ سب کچھ اس عہد میں پیش آیا جب مسلمان تعداد میں کم اور وسائل میں محدود تھے۔
انہیں ایام میں حضرت خدیجہؓ نے اپنا سارا مال و دولت دینِ اسلام کی نصرت میں پیش کر دیا۔ ایک خوشحال اور معزز خاتون نے رضائے الٰہی کے لیے ہر آسائش کو قربان کر دیا۔ شعبِ ابی طالب کے تین سالہ بائیکاٹ میں بھوک اور پیاس کی شدت، بچوں کے رونے کی آوازیں اور راتوں کی بے چینی یہ سب کچھ برداشت کیا گیا، مگر ان کے عزم میں لغزش نہ آئی۔ ان کی قربانیوں کا یہ باب اسلام کی بنیادوں میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
نبوت کے دسویں سال جب رمضان المبارک کی برکتوں سے آسمان منور تھا، اسی مہینے میں حضرت خدیجہؓ کا وصال ہوا۔ اکثر اہلِ سیر کے نزدیک یہ واقعہ ہجرت سے تقریباً تین سال قبل پیش آیا، اور بعض روایات میں دس رمضان کا ذکر بھی ملتا ہے۔ اگرچہ تاریخ کی تعیین میں کچھ اختلاف پایا جاتا ہے، مگر اس بات پر اہلِ تاریخ کا اتفاق ہے کہ یہ سانحہ اسی سال رونما ہوا جس سال حضور اکرم ﷺ کے مشفق چچا ابو طالب کا انتقال ہوا۔ انہی پے در پے صدمات کی بنا پر اس سال کو عام الحزن یعنی غم کا سال کہا گیا۔ یہ نام محض ایک اصطلاح نہیں بلکہ اس کیفیت کا عکاس ہے جو رسولِ اکرم ﷺ کے قلبِ مبارک پر طاری تھی۔
حضرت خدیجہؓ کا وصال رسولِ اکرم ﷺ کے لیے صرف ایک زوجہ کی جدائی نہ تھا بلکہ ایک رفیقۂ کار، ایک مشیر، ایک غمگسار اور ایک سچی محب کا بچھڑ جانا تھا۔ وہ ہستی جس نے ہر مرحلے پر حوصلہ دیا، ہر طعن کے مقابل ڈھال بنی، اور ہر آزمائش میں قدم سے قدم ملا کر چلی، اب اس دنیا میں موجود نہ تھی۔ اس جدائی کا اثر اس قدر گہرا تھا کہ حضور ﷺ نے بعد از وصال بھی ان کا ذکر محبت اور احترام سے کیا۔ حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ میں نے کسی پر اتنا رشک نہیں کیا جتنا حضرت خدیجہؓ پر، حالانکہ میں نے انہیں دیکھا بھی نہ تھا، کیونکہ رسول اللہ ﷺ ان کا کثرت سے ذکر فرمایا کرتے تھے۔ یہ وفا کا وہ معیار ہے جو اسلامی معاشرت کے لیے رہنمائی کا چراغ ہے۔
احادیثِ مبارکہ میں حضرت خدیجہؓ کے فضائل نمایاں طور پر مذکور ہیں۔ جبرئیل علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا سلام ان تک پہنچایا اور جنت میں ایسے محل کی بشارت دی جس میں نہ کوئی شور ہوگا اور نہ کوئی رنج و تعب۔ یہ بشارت ان کے صبر اور اخلاص کا آسمانی اعتراف ہے۔
ان کی گود میں پرورش پانے والی حضرت فاطمہؓ بعد میں سیدۃ نساء العالمین کے مقام پر فائز ہوئیں، جو اس تربیت کی عظمت کا واضح ثبوت ہے۔
یومِ وصال کا ذکر ہمیں محض ایک تاریخی یاد دہانی نہیں دیتا بلکہ یہ ہمارے اندر جھانکنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ آج جب مادیت کا سیلاب رشتوں کی حرارت کو کمزور کر رہا ہے، جب وفا اور ایثار کی قدریں زوال پذیر دکھائی دیتی ہیں، حضرت خدیجہؓ کی سیرت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصل کامیابی ایمان کی پختگی اور کردار کی بلندی میں ہے۔ انہوں نے یہ ثابت کیا کہ عورت اگر ایمان اور بصیرت سے آراستہ ہو تو وہ نہ صرف ایک گھر بلکہ ایک تحریک کی تقدیر سنوار سکتی ہے۔
رمضان المبارک میں ان کا وصال ہمیں یہ بھی سکھاتا ہے کہ قربانی اور صبر کے بغیر کوئی مشن پایۂ تکمیل تک نہیں پہنچتا۔ جس مہینے میں قرآن نازل ہوا، اسی مہینے میں اسلام کی سب سے بڑی محسنہ اس دنیا سے رخصت ہوئیں، گویا یہ پیغام دے گئیں کہ حق کا راستہ آزمائشوں سے خالی نہیں ہوتا، مگر اس کی منزل جنت کی دائمی راحت ہے۔ ان کی زندگی اس بات کی گواہی ہے کہ اخلاص سے کی گئی قربانی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔
آج کے دور کی مسلمان خواتین کے لیے حضرت خدیجہؓ کی سیرت ایک مکمل نمونہ ہے۔ کاروباری میدان میں کامیابی ہو یا گھریلو زندگی کی ذمہ داریاں، دین کی خدمت ہو یا صبر و رضا کی کیفیت—ہر پہلو میں ان کی حیاتِ طیبہ رہنمائی فراہم کرتی ہے۔ اسی طرح مردوں کے لیے بھی یہ سیرت پیغام رکھتی ہے کہ ازدواجی تعلق باہمی اعتماد اور احترام پر قائم ہوتا ہے، اور وفاداری کا تقاضا یہ ہے کہ شریکِ حیات کی خدمات کو زندگی بھر یاد رکھا جائے۔
یومِ وصال ہمیں اس امر کی یاد دہانی کراتا ہے کہ تاریخ کے عظیم کردار جسمانی طور پر دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، مگر ان کی سیرت کے نقوش دلوں میں زندہ رہتے ہیں۔ حضرت خدیجہؓ کا نام ایمان کی تاریخ میں ہمیشہ عزت اور توقیر کے ساتھ لیا جائے گا۔ ان کی قربانیاں اسلام کے ابتدائی دور کی اساس ہیں اور ان کا صبر و وفا ہر دور کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اگر ہم اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں ان کی سیرت کے اصولوں کو اپنالیں تو یقیناً ہمارے گھروں میں سکون، ہماری دعوت میں اثر اور ہمارے معاشرے میں استحکام پیدا ہو سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں امُّ المؤمنین حضرت خدیجہؓ کی سیرتِ طیبہ سے حقیقی سبق لینے، اپنے گھروں کو وفا اور اخلاص کا گہوارہ بنانے اور دینِ اسلام کی خدمت میں اپنی صلاحیتیں وقف کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔
یومِ وصال کا یہ تذکرہ ہمارے دلوں میں ایمان کی حرارت کو تازہ کرے اور ہمیں یاد دلائے کہ قربانی کے بغیر عظمت حاصل نہیں ہوتی، اور وفا کے بغیر کوئی رشتہ پائیدار نہیں رہتا۔ آمین۔