تصدیقی تعصب: شعور کا سراب اور فکری قیدِ تنہائی

انسانی ذہن قدرت کا سب سے پیچیدہ اور حیرت انگیز شاہکار ہے، لیکن اس کی ایک بنیادی کمزوری یہ ہے کہ یہ حقیقت کا ادراک کرنے کے بجائے اکثر اپنی ہی تخلیق کردہ دنیا میں رہنا پسند کرتا ہے۔ "تصدیقی تعصب” یا Confirmation Bias وہ ذہنی عمل ہے جس کے تحت انسان صرف ایسی معلومات کو قبول کرتا ہے، یاد رکھتا ہے اور اہمیت دیتا ہے جو اس کے پہلے سے موجود عقائد، نظریات یا مفروضوں کی تائید کرتی ہوں۔

اس کے برعکس، وہ ہر اس حقیقت یا دلیل کو رد کر دیتا ہے جو اس کے بنے بنائے ذہنی ڈھانچے کو چیلنج کرے۔ فلسفیانہ نکتہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ رویہ ہمیں "حق کی تلاش” سے روک کر "خود پسندی” کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔ ہم سچائی کے مسافر نہیں رہتے، بلکہ اپنی انا کے وکیل بن جاتے ہیں۔ یہ تعصب ہمیں ایک ایسے فکری خول میں بند کر دیتا ہے جہاں کائنات کی وسعتیں سمٹ کر صرف ہمارے اپنے نظریات تک محدود ہو جاتی ہیں۔ جب ہم کسی بات کو سچ مان لیتے ہیں، تو ہمارا دماغ ایک فلٹر کی طرح کام کرنے لگتا ہے جو مخالف روشنی کو روک دیتا ہے اور صرف وہی رنگ اندر آنے دیتا ہے جسے ہم دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہ انسانی جبلت کا وہ تاریک پہلو ہے جو ہمیں ارتقاء کے راستے پر آگے بڑھنے سے روکتا ہے کیونکہ ارتقاء کا پہلا قدم پرانے خیالات کی نفی اور نئے حقائق کی قبولیت ہے۔

تاریخِ فلسفہ میں اس رویے کی جڑیں بہت گہری ہیں۔ عظیم جرمن مفکر فرائیڈرک نطشے (Friedrich Nietzsche) نے اس انسانی رویے کو بڑی بے رحمی سے بے نقاب کیا ہے۔ نطشے کے نزدیک "کوئی معروضی حقائق نہیں ہوتے، صرف تشریحات ہوتی ہیں” ("There are no facts, only interpretations”). اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کبھی بھی کائنات کو ویسا نہیں دیکھتا جیسی وہ اصل میں ہے، بلکہ وہ اسے اپنی ضرورتوں، اپنی طاقت کی خواہش اور اپنے خوف کے لینز سے دیکھتا ہے۔

نطشے کا تصورِ Perspectivism (منظر نامہیت) یہ واضح کرتا ہے کہ ہر انسان ایک مخصوص زاویے سے دنیا کو دیکھ رہا ہے اور اس زاویے کی تشکیل اس کے ماحول، پرورش اور ذاتی مفادات نے کی ہے۔ جب ہمیں کوئی ایسی بات معلوم ہوتی ہے جو ہمارے "منظر نامے” سے مطابقت نہیں رکھتی، تو ہمارا "ارادہِ طاقت” (Will to Power) اسے مسترد کر دیتا ہے کیونکہ وہ تبدیلی سے ڈرتا ہے۔ نطشے کے بقول، "ایمان لانے کا مطلب سچائی کو جاننے کی خواہش کا خاتمہ ہے”۔ جب ہم کسی نظریے پر پختہ یقین کر لیتے ہیں، تو ہم شعوری طور پر اندھے ہو جاتے ہیں تاکہ ہمارے اندر کا سکون برباد نہ ہو۔ یہ فکری جمود ہی وہ سب سے بڑی رکاوٹ ہے جو انسان کو "فوق البشر” (Ubermensch) بننے سے روکتی ہے، کیونکہ فوق البشر وہی ہے جو اپنے ہی بتوں کو توڑنے کی ہمت رکھتا ہو۔

سترہویں صدی کے برطانوی فلسفی فرانسس بیکن (Francis Bacon) نے علم کے حصول میں حائل رکاوٹوں کو "ذہن کے بت” (Idols of the Mind) قرار دیا تھا۔ ان میں سے سب سے خطرناک "قبیلے کے بت” (Idols of the Tribe) ہیں، جو انسانی فطرت میں رچے بسے تعصبات ہیں۔ بیکن کا کہنا تھا کہ انسانی سمجھ بوجھ ایک ناہموار آئینے کی طرح ہے جو شعاعوں کو اپنی شکل کے مطابق موڑ دیتا ہے اور حقیقت کو مسخ کر دیتا ہے۔

جب انسان ایک بار کسی رائے کو قائم کر لیتا ہے، تو وہ ہر چیز کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کرتا ہے۔ اگر اسے اپنے نظریے کے خلاف لاکھوں شواہد بھی مل جائیں، تو وہ انہیں اتفاق کہہ کر نظر انداز کر دے گا یا ان میں کیڑے نکالے گا، لیکن اپنی اس ایک دلیل کو نہیں چھوڑے گا جو اس کے حق میں ہو۔ بیکن کے مطابق، یہ تعصب ہمیں سائنس اور منطق سے دور لے جاتا ہے کیونکہ ہم مشاہدے سے نتیجہ اخذ کرنے کے بجائے، پہلے سے طے شدہ نتیجے کے لیے مشاہدات تراشتے ہیں۔ یہ ذہنی رویہ ہمیں ایک ایسی خیالی جنت میں رکھتا ہے جہاں ہم ہمیشہ درست ہوتے ہیں، لیکن یہ درستگی دراصل ایک فکری موت ہے جہاں سیکھنے کا عمل رک جاتا ہے۔

تصدیقی تعصب کا ایک اور گہرا پہلو وجودی فلسفے (Existentialism) میں ملتا ہے۔ ژاں پال سارتر (Jean-Paul Sartre) نے اسے "بد دیانتی” (Bad Faith) کا نام دیا۔ سارتر کے نزدیک انسان اپنی آزادی سے ڈرتا ہے اور اس ذمہ داری سے بھاگتا ہے جو سچ کی تلاش کے ساتھ آتی ہے۔ جب ہم تصدیقی تعصب کا شکار ہوتے ہیں، تو ہم دراصل اپنے آپ سے جھوٹ بول رہے ہوتے ہیں۔ ہم سچائی کو اس لیے رد کرتے ہیں کیونکہ وہ ہمیں اپنی زندگی کے طریقوں، اپنے گروہی مفادات یا اپنی اخلاقی ترجیحات کو بدلنے پر مجبور کر سکتی ہے۔ یہ "بد دیانتی” ہمیں ایک مصنوعی اطمینان تو دیتی ہے لیکن ہمیں ایک مستند (Authentic) زندگی گزارنے سے محروم کر دیتی ہے۔ ہم بھیڑوں کے ریوڑ کی طرح وہی سوچتے ہیں جو ہمارا گروہ سوچتا ہے، کیونکہ الگ سوچنا تنہائی لاتا ہے۔ تصدیقی تعصب ہمیں اسی گروہی فکر (Groupthink) میں جکڑے رکھتا ہے، جہاں ہم اپنے مخالفین کو جاہل یا برا سمجھتے ہیں، محض اس لیے کہ وہ ہمارے آئینے میں اپنا عکس نہیں دیکھتے۔ یہ رویہ معاشروں میں نفرت، فرقہ واریت اور سیاسی پولرائزیشن کی اصل بنیاد ہے۔

آج کے ڈیجیٹل دور میں تصدیقی تعصب ایک وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ سوشل میڈیا کے الگورتھم ہمارے اس تعصب کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ فیس بک، ٹویٹر اور یوٹیوب ہمیں وہی مواد دکھاتے ہیں جو ہماری سابقہ پسند و ناپسند سے میل کھاتا ہو۔ اس طرح ہم ایک "گونجتے ہوئے کمرے” (Echo Chamber) میں بند ہو جاتے ہیں جہاں ہمیں صرف اپنی ہی آواز سنائی دیتی ہے۔ جب ہم مسلسل وہی باتیں سنتے ہیں جو ہم سننا چاہتے ہیں، تو ہمارا یہ وہم پختہ ہو جاتا ہے کہ ہم ہی حق پر ہیں اور باقی دنیا گمراہ ہے۔ یہ ٹیکنالوجی اور انسانی نفسیات کا وہ خطرناک ملاپ ہے جس نے مکالمے کی گنجائش ختم کر دی ہے۔ ہم اب بحث اس لیے نہیں کرتے کہ دوسرے کا نکتہ نظر سمجھ سکیں، بلکہ اس لیے کرتے ہیں کہ اسے نیچا دکھا سکیں اور اپنے تعصب کی جیت کا جشن منا سکیں۔ علم جو کبھی روشنی کا ذریعہ تھا، اب ایک ڈھال بن گیا ہے جسے ہم اپنی انا کی حفاظت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

اس فکری قید سے نجات کا راستہ کیا ہے؟ اس کا جواب قدیم یونانی فلسفی سقراط (Socrates) کی اس بات میں چھپا ہے کہ "میں صرف یہ جانتا ہوں کہ میں کچھ نہیں جانتا”۔ تصدیقی تعصب کا توڑ "فکری عاجزی” (Intellectual Humility) میں ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ ہمارا ادراک محدود ہے اور ہمارا سچ "مکمل سچ” نہیں بلکہ محض ایک "منظر نامہ” ہے۔ ہمیں ان لوگوں کی صحبت اختیار کرنی چاہیے جو ہم سے مختلف سوچتے ہیں اور ایسی کتابیں پڑھنی چاہئیں جو ہمارے اعصاب پر گراں گزریں۔ نطشے نے کہا تھا کہ "سانپ جو اپنی کیچلی نہیں بدل سکتا، وہ مر جاتا ہے؛ اسی طرح وہ ذہن جو اپنے خیالات بدلنے کی سکت نہیں رکھتے، وہ ذہن نہیں رہتے”۔ سچی دانشوری یہ نہیں ہے کہ آپ کے پاس کتنی دلیلیں ہیں، بلکہ یہ ہے کہ آپ اپنے ہی نظریات کو کتنی بے رحمی سے پرکھ سکتے ہیں۔ جب ہم اپنے آپ کو "درست ہونے کی ضرورت” سے آزاد کر لیتے ہیں، تو پہلی بار سچائی کی جھلک دیکھ پاتے ہیں۔ تصدیقی تعصب سے لڑنا دراصل اپنی انا سے لڑنا ہے، اور یہی وہ سب سے بڑی جنگ ہے جو ایک انسان کو لڑنی چاہیے تاکہ وہ شعور کی بلندیوں کو چھو سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے