چین میں ہر سال منعقد ہونے والے “دو اجلاس” یعنی قومی عوامی کانگریس اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس صرف رسمی پارلیمانی سرگرمیاں نہیں ہوتیں بلکہ یہ پورے معاشرے کی آواز کو پالیسی سازی کا حصہ بنانے کا ایک منظم اور مؤثر طریقہ ہیں۔ چین کی چودہویں قومی عوامی کانگریس کا چوتھا اجلاس 5 مارچ 2026 اور چینی عوامی سیاسی مشاورتی کانفرنس کی چودہویں قومی کمیٹی کا چوتھا اجلاس 4 مارچ 2026 کو بیجنگ میں شروع ہوگا۔ انہیں اجلاسوں میں ملک کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین، صنعت کار، اساتذہ، سائنس دان اور سماجی نمائندے اپنے تجربات اور تجاویز کے ساتھ شریک ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ چین کا نظامِ حکمرانی محض نظری گفتگو تک محدود نہیں رہتا بلکہ عملی میدان میں نتائج پیدا کرتا ہے۔
حال ہی میں ایک مثال نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا۔ یانگ جیان چینگ جو چائنیز اکیڈمی آف سائنسز کے انسٹی ٹیوٹ آف ماڈرن فزکس سے وابستہ ہیں، نہ صرف ایک ممتاز سائنس دان ہیں بلکہ وہ مشاورتی ادارے کے رکن کی حیثیت سے دو اجلاسوں میں بھی شریک ہوتے ہیں۔ ان کی توجہ چین میں کینسر کے علاج کے لیے تیار کیے گئے چینی ساختہ ہیوی آئن میڈیکل ایکسیلیریٹر پر ہے۔ یہ وہ جدید ٹیکنالوجی ہے جسے آج دنیا میں ریڈیوتھراپی کا ایک اعلیٰ ترین طریقہ سمجھا جاتا ہے۔
چین نے 1993 میں ہیوی آئنز کو کینسر کے علاج میں استعمال کرنے پر تحقیق شروع کی تھی۔ تقریباً تیس برس کی مسلسل محنت کے بعد مارچ 2020 میں شمال مغربی صوبے گانسو کے شہر وووے میں پہلا خود تیار کردہ ہیوی آئن میڈیکل ایکسیلیریٹر نظام باقاعدہ کلینیکل استعمال میں لایا گیا۔ اس کامیابی کے ساتھ چین دنیا کا چوتھا ملک بن گیا جو اس ٹیکنالوجی کو خود تیار کرنے اور استعمال کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ پیش رفت محض سائنسی کامیابی نہیں بلکہ پالیسی، تحقیق اور عوامی ضرورت کے درمیان ہم آہنگی کی ایک مثال ہے۔
آج چین کے مختلف شہروں، مثلاً ہوئی ژو، لانژو، ہانگژو اور پوتیان میں ایک درجن سے زائد ہیوی آئن میڈیکل ایکسیلیریٹر قائم کیے جا چکے ہیں۔ ان مراکز میں اب تک تقریباً 3600 کینسر کے مریضوں کو نہایت درست اور مؤثر علاج فراہم کیا گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا ثبوت ہیں کہ سائنسی تحقیق جب قومی ترجیح بن جائے اور اسے حکومتی سرپرستی حاصل ہو تو وہ براہِ راست عوامی زندگی پر مثبت اثر ڈالتی ہے۔
دو اجلاسوں کی خاص بات یہ ہے کہ یہاں صرف حکومتی نمائندے ہی نہیں بولتے بلکہ میدانِ عمل سے جڑے لوگ بھی اپنی رائے پیش کرتے ہیں۔ یانگ جیان چینگ نے اپنے حالیہ مشاورتی نوٹس میں اس بات پر زور دیا کہ اگرچہ اس ٹیکنالوجی کی افادیت بہت زیادہ ہے، لیکن چین جیسے بڑے ملک میں درست اور معیاری ریڈیوتھراپی کی طلب اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان بڑے سائنسی منصوبوں کی تحقیق و ترقی کو مزید تیز کیا جائے، ان آلات کو زیادہ کمپیکٹ اور کم لاگت بنایا جائے، اور علاج کی قیمت کو عام آدمی کی پہنچ میں لایا جائے۔
یہی وہ نکتہ ہے جہاں چین کا نظام منفرد دکھائی دیتا ہے۔ یہاں پالیسی سازی محض کاغذی منصوبہ نہیں رہتی بلکہ سائنسی ماہرین کی عملی تجاویز کو قومی حکمتِ عملی کا حصہ بنایا جاتا ہے۔ بڑی سائنسی تنصیبات کو صرف تحقیق کے مراکز نہیں سمجھا جاتا بلکہ انہیں نئی معیاری پیداواری قوتوں کا محرک قرار دیا جاتا ہے۔ یعنی جو ٹیکنالوجی لیبارٹری میں تیار ہوتی ہے، وہ صنعت، معیشت اور صحت عامہ میں نئی جان ڈالتی ہے۔
یانگ کے مطابق مصنوعی ذہانت، سکس جی ور روبوٹکس جیسی نئی ٹیکنالوجیز بھی ہیوی آئن ایکسیلیریٹر کی ترقی کو تیز کریں گی۔ اس سے نہ صرف علاج زیادہ درست ہوگا بلکہ آپریشنل لاگت میں بھی کمی آئے گی۔ جب حکومتی سطح پر سازگار پالیسیاں، سائنسی مہارت اور عوامی ضرورت ایک ساتھ مل جائیں تو ترقی کا عمل خود بخود تیز ہو جاتا ہے۔
چین کے دو اجلاس دراصل ایک ایسا پلیٹ فارم ہیں جہاں عوامی مفاد کے منصوبے بحث، مشاورت اور تجاویز کے بعد عملی شکل اختیار کرتے ہیں۔ ایک سائنس دان کا مشورہ قومی پالیسی کا حصہ بن سکتا ہے، ایک ڈاکٹر کی آواز صحت کے نظام میں اصلاحات لا سکتی ہے، اور ایک انجینئر کی تجویز صنعتی جدت کو نئی سمت دے سکتی ہے۔ یہی اشتراکی مشاورت کا وہ ماڈل ہے جس نے چین کو قلیل عرصے میں ٹیکنالوجی، معیشت اور صحت کے میدان میں نمایاں مقام دیاہے۔
ہیوی آئن میڈیکل ایکسیلیریٹر کی کہانی دراصل چین کے اس نظام کی عکاسی کرتی ہے جس میں تحقیق، ریاستی سرپرستی اور عوامی خدمت ایک ہی دھارے میں بہتے ہیں۔ جب قومی ترقی کا مرکز انسان کی فلاح ہو اور اس کے لیے سائنسی جدت کو ترجیح دی جائے تو نتائج بھی دیرپا اور ہمہ گیر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دو اجلاس محض سیاسی تقریبات نہیں بلکہ عوامی شمولیت اور عملی ترقی کی علامت بن چکے ہیں۔