پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم: شخصیت، فن اور علمی میراث

برصغیر کی علمی و ادبی فضا میں کچھ شخصیات ایسی بھی جلوہ گر ہوتی ہیں جو اپنی فکر و فن کی روشنی سے صدیوں تک دلوں کو منور رکھتی ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر نذیر تبسم انہی درخشاں ستاروں میں سے ایک ہیں جنہوں نے شاعر کی لطافت، محقق کی جستجو، نقاد کی بصیرت اور استاد کی شفقت کو اپنی ذات میں یکجا کر کے ایک لازوال میراث چھوڑی۔ ان کی شخصیت عاجزی اور انکساری کا پیکر تھی، مگر ساتھ ہی تخلیقی توانائیوں کا سرچشمہ بھی تھی جو ہر محفل کو اجال دیتی۔ ان کا تخلص "تبسم” ان کی ذات کا آئینہ تھا، جو مسکراہٹوں اور خوشبو سے معمور ایک دائمی حوالہ بن گیا۔ آج بھی ان کا نام برصغیر کی ادبی تاریخ میں روشنی کا چراغ ہے جو آنے والی نسلوں کو فکر و جمالیات کا درس دیتا رہے گا۔

نذیر احمد 4 جنوری 1950 کو پشاور کی علمی و ثقافتی فضا میں پیدا ہوئے اور بعد ازاں اپنے قلمی نام "نذیر تبسم” سے دنیائے ادب میں پہچانے گئے۔ ابتدائی تعلیم انہوں نے پشاور کے قدیم محلے ماچی ہٹہ سے حاصل کی، جہاں بچپن ہی سے مطالعے کا شوق ان کے دل میں جاگزین تھا اور والدین نے اس شوق کو بھرپور انداز میں پروان چڑھایا۔ علم و ادب کی اس جستجو نے انہیں 1974 میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے ایم اے اردو کی ڈگری دلائی، جو ان کے علمی سفر کا پہلا سنگِ میل ثابت ہوا۔ وقت کے ساتھ ساتھ ان کی تحقیق اور تنقیدی بصیرت مزید نکھرتی گئی اور بالآخر 2003 میں انہوں نے اسی جامعہ سے پی ایچ ڈی کی سند حاصل کی۔ ان کا تحقیقی مقالہ "قیامِ پاکستان کے بعد سرحد کے اردو غزل گو شاعر” نہ صرف ایک علمی کارنامہ تھا بلکہ اردو ادب میں ایک مستند کتاب کی صورت میں قیمتی سرمایہ بن گیا۔ یہ کتاب ان کی محنت، بصیرت اور اردو غزل کے ساتھ گہری وابستگی کا روشن ثبوت ہے۔ یوں نذیر تبسم نے اپنی علمی و ادبی خدمات کے ذریعے ایک ایسا چراغ روشن کیا جو آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہے گا۔

ڈاکٹر نذیر تبسم ان اساتذہ میں شامل ہیں جنہوں نے تدریس کو محض پیشہ نہیں بلکہ عبادت سمجھا اور شاگردوں کی تربیت کو اپنی زندگی کا مقصد بنایا۔ انہوں نے اپنے تدریسی سفر کا آغاز فیڈرل گورنمنٹ کالج اسلام آباد سے کیا، پھر اسلامیہ کالج پشاور میں علم کے چراغ روشن کیے، اور بالآخر 1978 میں پشاور یونیورسٹی کے شعبہ اردو سے وابستہ ہو کر 2010 تک وہاں علم و ادب کی خدمت کرتے رہے۔

ان کی موجودگی شعبہ اردو کے لیے ایک تحریک تھی، ایک ایسی روشنی جو دلوں کو منور کرتی رہی اور ذہنوں کو جلا بخشتی رہی۔ ڈاکٹر اسحاق وردگ نے بجا طور پر کہا کہ "مجھے فخر ہے کہ میں نے ایم اے اور ڈاکٹریٹ کی ڈگریاں ڈاکٹر نذیر تبسم کی رہنمائی میں حاصل کیں”۔ ان کے شاگرد آج پاکستان کے گوشے گوشے میں علم و ادب کے فروغ میں مصروف ہیں، جو ان کی عظمت کی زندہ دلیل ہے۔ وہ استاد بھی تھے اور رہنما بھی، جن کی مسکراہٹ شاگردوں کے دلوں میں امید جگاتی تھی اور ان کی باتوں میں ایک ایسا سحر تھا جو دلوں کو مسخر کر لیتا تھا۔ یوں وہ ایک ایسا چراغ تھے جو بجھنے کے بعد بھی اپنی روشنی سے زمانے کو منور رکھتا ہے اور ایک ایسی خوشبو تھے جو وقت کی گرد میں بھی مدھم نہیں ہوتی۔

ڈاکٹر نذیر تبسم نے اردو ادب کو اپنی ہمہ جہتی شخصیت سے ایک نئی تابندگی بخشی۔ وہ شاعر بھی تھے، محقق بھی، نقاد بھی اور ڈراما نویس و کالم نگار بھی، جنہوں نے جدید تقاضوں کو اپناتے ہوئے کلاسیکی روایت کو زندہ رکھا۔ ان کے کلام میں محبت کی لطافت، غم کی گہرائی اور سماجی مسائل کی سچائی اس انداز میں جلوہ گر ہے کہ ہر شعر دل کی دھڑکن بن جاتا ہے۔ یوں وہ لفظوں کے ایسے جادوگر تھے جنہوں نے اردو ادب کو فکر و جمالیات کی دائمی خوشبو عطا کی۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کے تین شعری مجموعے شائع ہوئے

تم اُداس مت ہونا
یہ مجموعہ غزل اور نظم کی صورت میں دلوں کو چھو لینے والی کیفیتوں کا آئینہ ہے۔ ہر شعر میں محبت کی لطافت اور غم کی گہرائی یوں گھل مل جاتی ہے جیسے خوشبو ہوا میں پھیلتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو امید اور احساس کی روشنی عطا کرتی ہے۔

کیسے راہ گاں ہوئے ہم
یہ مجموعہ انسانی جذبات کی بھرپور ترجمانی کرتا ہے، جہاں خوشی اور غم ایک ہی دھڑکن میں سمٹ آتے ہیں۔ اشعار میں تنہائی کی بازگشت اور محبت کی سرگوشی قاری کو اپنی گرفت میں لے لیتی ہے۔ یہ کتاب دل کے زخموں پر لفظوں کا مرہم رکھتی ہے۔

موسم ابھی نہیں بدلا
یہ مجموعہ وقت کی ناقابلِ تغیر کیفیتوں اور انسانی تجربات کا آئینہ ہے۔ اس میں زندگی کے بدلتے موسموں کے باوجود ایک مستقل درد اور سچائی کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔ یہ کتاب قاری کو سوچنے، محسوس کرنے اور اپنے وجود کو نئے زاویوں سے دیکھنے پر مجبور کرتی ہے۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کا پی ایچ ڈی تھیسس قیامِ پاکستان کے بعد سرحد کے اردو غزل گو شاعر علمی حلقوں میں غیر معمولی پذیرائی کا باعث بنا اور انہیں ایک سنجیدہ محقق کے طور پر متعارف کرایا۔ اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے تحقیقی مقالات اور تنقیدی مضامین بھی تحریر کیے جو ملک کے معتبر جرائد میں شائع ہو کر علمی دنیا میں ان کی شناخت کو مزید مستحکم کرتے رہے۔

اردو کے ساتھ ساتھ انہوں نے اپنی مادری زبان ہندکو میں بھی شاعری کی، جس نے انہیں مقامی سطح پر مقبولیت بخشی اور ہندکو ادب کے فروغ میں ان کا کردار نمایاں ہوا۔ یوں وہ نہ صرف اردو بلکہ ہندکو ادبی روایت کے بھی ایک اہم ستون ثابت ہوئے۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کئی اہم ادبی تنظیموں سے وابستہ رہے جن میں بزمِ سخن، حلقہ اربابِ ذوق، اور ترقی پسند مصنفین کی انجمن شامل ہیں ۔ وہ ان محفلوں کی جان ہوتے تھے اور ان کی شیریں بیانی اور خوش گفتاری نے کئی ادبی نشستوں کو چار چاند لگائے۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کی وفات بھی ان کی زندگی کی طرح ادب سے منسلک رہی۔ 30 اگست 2025 کی شب وہ پشاور میں ایک مشاعرے میں شرکت کر رہے تھے کہ اچانک دل کا دورہ پڑنے سے وہ خالقِ حقیقی سے جا ملے ۔ یہ وہی مشاعرہ تھا جہاں ان کا شعر "ایک درویش ہوں میں ایک دن اچانک ہی” پڑھنے کے بعد وہ ہمیشہ کے لیے خاموش ہو گئے۔

ڈاکٹر نذیر تبسم کے انتقال پر مختلف شخصیات، ادبی تنظیموں اور اخبارات نے ان کی شخصیت اور خدمات کو یوں یاد کیا اور خراجِ عقیدت پیش کیا .

مشتاق شباب نے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر نظیر تبسم ایک ممتاز اردو شاعر، عالم اور ماہرِ تعلیم تھے، جو اردو ادب میں اپنی گراں قدر خدمات کے لیے جانے جاتے تھے۔

بشریٰ فرخ نے کہا کہ نذیر تبسم اردو اور ہندکو ادب کے ستون تھے، ان کی تحقیقی اور تخلیقی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی۔

عزیز اعجاز نے انہیں ایک روشن چراغ قرار دیا جس کی روشنی آنے والی نسلوں کو منور کرتی رہے گی۔

پروفیسر ملک ارشد حسین نے کہا کہ وہ محقق، استاد اور شاعر تینوں حیثیتوں میں نمایاں تھے، اور یہی ان کی اصل عظمت تھی۔

ڈاکٹر صدف امبرین نے کہا کہ ان کی شخصیت میں وقار، محبت اور علم کا امتزاج تھا، اور وہ اپنے شاگردوں کے لیے ہمیشہ رہنما رہیں گے۔

پروفیسر خالد سہیل ملک نے ان کی علمی بصیرت اور تدریسی خدمات کو ناقابلِ فراموش قرار دیا۔

ڈاکٹر خادم حسین ابراہیم نے کہا کہ نذیر تبسم نے اردو اور ہندکو ادب کو نئی جہتیں عطا کیں اور ان کی شخصیت ہمہ جہت تھی۔

ڈاکٹر اسحاق وردگ نے انہیں ایک ہمہ پہلو ادیب اور نقاد قرار دیا جن کی کمی ہمیشہ محسوس کی جائے گی۔

ڈاکٹر فصیح الدین اشرف نے کہا کہ نذیر تبسم کی وفات ادبی دنیا کا ناقابلِ تلافی نقصان ہے، مگر ان کا کلام اور فکر ہمیشہ زندہ رہے گا۔

ڈاکٹر عبدالصمد (سیکریٹری کلچر خیبر پختونخوا) نے کہا کہ قوم ان کے علمی ورثے کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت، اورنگزیب خان کھچی نے کہا کہ ان کی شاعری، تحقیق اور تنقیدی تحریریں آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ رہیں گی۔

روزنامہ ڈان نے انہیں ایک ہمہ جہت شخصیت قرار دیا جو شاعر، افسانہ نگار، ڈرامہ نگار، نقاد اور محقق کی حیثیت سے نمایاں مقام رکھتے تھے۔

ٹاک اینڈ ٹرینڈ نے لکھا کہ وہ ایک ممتاز محقق، استاد اور شاعر تھے جنہوں نے اپنی زندگی اردو ادب اور تعلیم کے فروغ کے لیے وقف کر دی۔

ان کے بیٹے وجاہت نذیر تبسم نے والد کی یاد میں منعقدہ تقریبات میں شرکت کرکے ان کی ادبی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کیا .

ڈاکٹر نذیر تبسم کی وفات کے بعد مختلف علمی و ادبی حلقوں نے ان کی یاد میں تقریبات منعقد کیں جن میں انہیں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ حلقہ اربابِ ذوق نے ڈوسٹی ہال پشاور میں ایک نشست کا اہتمام کیا جس میں مشتاق شباب، پروفیسر ناصر علی سید، عزیز اعجاز اور پروفیسر سہیل احمد شریک ہوئے، جبکہ اباسین آرٹس کونسل نے بھی ان کی یاد میں تقریب منعقد کی۔ اسی طرح ان کی 76ویں سالگرہ کے موقع پر "دبستانِ خیبر پختونخوا” کے زیرِ اہتمام ایک کثیر لسانی مشاعرہ ہوا جس میں ڈاکٹر فصیح الدین اشرف، پروفیسر خالد سہیل ملک، ڈاکٹر خادم حسین اور دیگر اہلِ قلم نے شرکت کی۔

ان کی علمی و ادبی خدمات اردو ادب کی تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہیں گی۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، انہیں جوارِ رحمت میں جگہ عطا کرے اور ان کی قبر کو نور سے منور کرے، آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے