ایران پر تیسری فوجی کارروائی کی تیاری، نئی قیادت بھی نشانے پر: ڈونلڈ ٹرمپ کا بڑا دعویٰ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ابتدائی کارروائیوں میں ایران کی اعلیٰ قیادت اور عسکری صلاحیتوں کو شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے اور اب امریکا ایران کے خلاف فوجی حملوں کی ’تیسری لہر‘ شروع کرنے جا رہا ہے۔

اوول آفس میں جرمن چانسلر کے ساتھ ملاقات سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایران کا بحری بیڑا، فضائیہ، ریڈار سسٹم اور فضائی نگرانی کا نظام تقریباً مکمل طور پر تباہ کر دیا گیا ہے۔

ان کے مطابق پہلے حملے میں 49 افراد شہید ہوئے جبکہ نئی قیادت کے انتخاب کے لیے ہونے والے اجلاس کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا ہے کہ جن لوگوں کو ہم ممکنہ طور پر نئی قیادت سمجھ رہے تھے، ان میں سے زیادہ تر مارے (شہید) جا چکے ہیں اور نئی قیادت بھی حملوں کی زد میں آ سکتی ہے۔

واضح رہے کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائی کا مقصد ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنا اور موجودہ نظام کو کمزور کرنا ہے۔

دوسری جانب ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے بحرین، کویت اور متحدہ عرب امارات میں امریکی فوجی اڈوں اور ریاض میں امریکی سفارت خانے کو نشانہ بنایا ہے۔

ادھر حزب اللّٰہ بھی ایران کی حمایت میں اسرائیل پر حملوں میں شامل ہو گئی ہے۔

جنگ کی وجوہات پر امریکی حکومت کے بیانات میں تضاد بھی سامنے آیا ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ نے کہا ہے کہ کارروائی اسرائیل کے ممکنہ حملے کے بعد کی گئی تاہم ٹرمپ نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ امریکا نے ایران کے متوقع حملے کو روکنے کے لیے پہلے قدم اٹھایا ہے۔

اس سے قبل ٹرمپ کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ مجھے لگا ایران پہلے حملہ کرنے والا تھا، اس لیے ہم نے پیشگی کارروائی کی اور ممکن ہے کہ ہم نے اسرائیل کو بھی قدم اٹھانے پر مجبور کیا ہو۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے