شروع کرتا ہوں اللہ سبحان و کریم کی حمد و ثنا سے، اس کی بزرگی سے۔ وہ اپنے جاہ و جلال اور قدرت و حکمت میں بے مثال ہے۔ اپنے بندوں پر بے انتہا شفقت اور نعمتوں و رحمتوں کے نزول کا سبب اور اختیار مند ہے۔ اپنوں کی جدائی پہ صبر کا صلہ اسی کے پاس ہے۔ عربی کہاوت ہے کہ جدائی موت سے بدتر ہے اور جب جدائی ہو ہی موت کی تو پھر ملنے کے لیے قیامت کا انتظار ہے، جو کب آئے اس کا کون جانتا ہے۔
دل بہت غمگین ہے۔ مسلمانوں کے ملک میں بنے اڈوں سے مسلمانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور یہود و نصاریٰ فیصلہ کر رہے ہیں کہ کون دہشت گرد ہے اور کون ٹھیک۔ کیسے ہیرے جیسے لوگ، جید علماء شہید ہو رہے ہیں، یہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا کہ ہم ان حالات سے پہلے پیدا ہوئے ہوتے اور اب تک "خاک نشین” ہو کر منوں مٹی تلے آرام دہ ہو چکے ہوتے۔ روز و شب کا یہ کرب کب تلک؟
گفت کسی کہ ’امین‘ بمرد، این سخنِ گزاف نیست
مرگِ چنیں فرشتے، کارِ صواب نیست (مولانا رومی)
(ترجمہ: کسی نے کہا کہ ’امین‘ وفات پا گئے، یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے؛ ایسی فرشتہ صفت ہستی کی موت (ہمارے لیے) برداشت کرنا آسان نہیں ہے۔
سید علی حسین خامنہ ای کی جدائی نے بہت غمگین کر دیا ہے، جیسے کوئی گھر کا فرد چھوڑ کر چلا گیا ہو۔ آپ کی بہادری کو مسلم دنیا رو رہی ہے اور روتی رہے گی۔ ایک آدھ "کوفیوں” کو چھوڑ کر شاید ہی کوئی دل ہو جس کو امتِ مسلمہ کے اس 86 سالہ بزرگ کی شہادت پر رنج اور تکلیف نہ ہوئی ہو۔
سیاست ایک طرف رکھیں، وہ اس دور کے بہت بڑے پائے کے معلم، مجتہد، پہنچے ہوئے شاعر، ادیب اور وقت شناس انسان تھے۔ آپ کے چہرے کے ساتھ ایسی شناسائی ہو گئی تھی جیسے گھر کے کسی بزرگ کے ساتھ ہوتی ہے۔
بات یہ ہے کہ آپ تو چلے گئے ہیں اور شہادت کے اعلیٰ ترین رتبوں پر فائز ہو گئے ہیں، مگر بہت سارے اپنے آپ کو روحانی اور علمی طور پر یتیم سمجھ رہے ہیں جو بالکل بجا ہے۔ احادیث کی کتب میں آتا ہے کہ اللہ کے نبی ﷺ نے فرمایا:
"یقیناً اللہ علم کو اس طرح نہیں اٹھائے گا کہ اسے بندوں کے سینوں سے کھینچ لے، بلکہ وہ علم کو علماء کی موت کے ذریعے اٹھائے گا۔” (ترمذی)
میں اکثر آپ کے ریکارڈ شدہ لیکچرز کی ویڈیو ریلز دیکھتا ہوں۔ مجھے ایران کی سیاست پر نہیں، آپ کی جدائی پر بات کرنی ہے۔ یقین جانیے آپ نے تو حسین علیہ السلام کی طرح پورے خاندان کی قربانی دی ہے۔ آپ کا چہرہ کتنا روحانی تھا، آواز کتنی بھاری اور شائستہ شخصیت کے مالک تھے آپ۔ چہرے پر سفید داڑھی اور سر پر پگڑی آپ کی شخصیت کو مزید نکھارتی تھی۔
میں اسلامی روایات سے دلی لگاؤ رکھتا ہوں۔ امام ابن الجوزی کی "المنتظم” میں درج وہ واقعہ جس میں ایک سید زادی کو ایک زرتشت نے پناہ دی، ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سادات کی خدمت اور ان سے وابستگی کی کیا برکت ہے۔ نبی ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر فرمایا تھا:
"میں تمہارے درمیان دو بھاری چیزیں چھوڑ رہا ہوں: ایک اللہ کی کتاب اور دوسری میری عترت یعنی میرے اہل بیت۔” (صحیح مسلم)
آیت اللہ سید علی حسینی خامنہ ای کی شہادت رنگ لائے گی، اس میں کوئی شک نہیں۔ وہ سادات میں سے تھے اور ان کا نسب امام زین العابدین علیہ السلام سے ملتا ہے۔ انہوں نے اپنی زندگی کے 20 سال سے زیادہ خالص دینی تعلیم میں گزارے اور ‘اجتہاد’ کے اس درجے پر فائز ہوئے جہاں وہ قرآن و سنت سے مسائل کا حل نکالتے تھے۔ :
ان کی لکھی ہوئی کتابوں میں "صلحِ امام حسنؑ” کا ترجمہ بہت اہم ہے، جس میں انہوں نے ثابت کیا کہ امام عالی مقام کی صلح دراصل "اسلامی تاریخ کا سب سے شاندار نرم انقلاب” (Soft Revolution) تھا۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں جہاں ڈس انفارمیشن کے ذریعے اتنے بڑے عالم کی شہادت کو متنازع بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے، ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ان کا جانا ایک بہت بڑا روحانی نقصان ہے۔
سید علی خامنہ ائی کی شہادت کے واقعے نے خطے کی سیاست اور ماحول کو زبردست اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے نہ جانے آگے کیا کچھ پیش آئے گا اور اور اس سے مختلف ممالک پر کیا اثرات مرتب ہوں گے یہ سب سوچ کر تو ذہن عجیب پریشانی میں چلا جاتا ہے۔ ہم اللہ تعالیٰ کی ذات سے خیر، امن، سلامتی اور استحکام کے امید رکھتے اور دعا کرتے ہیں جو قادر مطلق ہے اور سب کچھ کر گزرنے والی ہستی بھی۔
قافلہِ شوق کے رہبر نے کیا ہے ردِ عمل
رفتہ رفتہ اٹھ گئے دنیا سے دانائے اجل
ہم کہاں کھڑے ہیں اور کس کے ساتھ کھڑے ہیں، اس پہ ہمیں ضرور سوچنا پڑے گا۔ سید آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت حقیقت میں ایک بہت بڑا صدمہ ہے۔ اللہ ان کے درجات بلند فرمائے۔
ایک محفل میں سید آیت اللہ حسین خامنہ ای صدرِ کرسی پر براجمان ہوتے ہیں۔ ایک نوجوان کوئی شعر پڑھنا چاہتا ہے مگر کہتا ہے: "بھول گیا ہوں”۔
آیت اللہ صاحب (اللہ ان کی مغفرت فرمائے) فارسی کا وہ شعر پڑھتے ہیں کہ:
غافل دادیم دل به دستت
ما را یاد و تو را فراموش…؟
غافل دے دیا اپنا دل تمہارے ہاتھوں میں
ہمیں یاد رہا اور تم بھول گئے…؟۔
پتا نہیں یہ شعر ان کی زبان سے ایسی مٹھاس سے ادا ہوتا ہے کہ دل بنا آنسو بہائے رک نہیں پاتا۔
جنگیں ہوتی ہیں، لوگ قربانیاں دیتے ہیں، مگر جس بے دردی اور جس بے شرمی سے امریکہ اور اسرائیل مسلمانوں کو بیت المقدس، مشہد، ایران اور جگہ جگہ کبھی خود اور کبھی اپنے کارندوں سے کاٹ رہا ہے، یہ غلط ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ایک دفعہ ہم نے ذرا سے اتفاق کا مظاہرہ کیا تو یہ کچھ نہ کر پائیں گے۔ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور ہو کر وہی رہتا ہے جو زمین و آسمان کا قادرِ مطلق ہے