ایک عہد ساز شخصیت ؛ ملک محمد ایوب خان مرحوم

دیہات کی سرزمین ہمیشہ ایسی شخصیات کو جنم دیتی رہی ہے جو اپنے کردار، تدبر اور خلوص سے تاریخ کا حصہ بن جاتی ہیں۔ ملک محمد ایوب خان بھی انہیں نابغہ روزگار لوگوں میں سے تھے، جو محض ایک فرد نہیں بلکہ ایک عہد کی علامت تھے۔ گاؤں ڈھوک ایوب خان کے باسیوں کے لیے وہ باپ جیسی شفقت، بزرگ جیسا وقار اور رہنما جیسی بصیرت رکھتے تھے۔ روایت ہے کہ یہ بستی پہلے "ڈھیدھاری” کے نام سے جانی جاتی تھی، مگر بعد ازاں ان کی خدمات اور اثر و رسوخ کے باعث انہی کے نام سے موسوم ہوئی۔

نمّل ویلی کے طول و عرض میں ان کا نام عزت اور احترام سے لیا جاتا تھا۔ ان کی شخصیت میں وجاہت بھی تھی اور جلال بھی، مگر اس کے ساتھ ایک گہری شفقت اور انسان دوستی بھی شامل تھی۔ ان کا روزمرہ معمول اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ وہ قیادت کو محض اختیار نہیں بلکہ ذمہ داری سمجھتے تھے۔ وہ روزانہ گاؤں کے گھروں کا دورہ کرتے، بچوں کی خیریت دریافت کرتے، ان کے کھانے پینے اور صحت کے بارے میں پوچھتے۔ یہ عمل محض رسمی نہیں تھا بلکہ ایک ایسے دل کی آواز تھا جو اپنی بستی کے ہر فرد کے لیے دھڑکتا تھا۔

گاؤں میں آنے والے ہر نئے چہرے پر ان کی نظر ہوتی۔ وہ تسلی کرتے کہ آنے والا شخص حقیقی اور قابلِ اعتماد ہے۔ یوں وہ نہ صرف سماجی ہم آہنگی بلکہ گاؤں کی سکیورٹی کو بھی یقینی بناتے۔ نوجوانوں کی تربیت اور کردار سازی پر ان کی خصوصی توجہ اس بات کا ثبوت تھی کہ وہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو سنوارنے کے خواہاں تھے۔ ان کے نزدیک مضبوط معاشرہ مضبوط کردار سے تشکیل پاتا ہے۔

گھروں کے دورے کے بعد وہ اپنی مخصوص نشست، جسے عرفِ عام میں "مارکہ” کہا جاتا تھا، پر بیٹھتے۔ یہی مقام مقامی سطح پر ایک غیر رسمی عدالت کی حیثیت رکھتا تھا، جہاں مختلف تنازعات نہایت حکمت اور انصاف کے ساتھ حل کیے جاتے۔ ان کے فیصلے دیانت، تجربے اور روایتی دانش کا حسین امتزاج ہوتے، جنہیں لوگ دل سے قبول کرتے۔

ایسی شخصیات وقت کے ساتھ رخصت تو ہو جاتی ہیں، مگر ان کی یادیں، روایات اور اقدار معاشرے کی روح میں ہمیشہ زندہ رہتی ہیں۔ ملک محمد ایوب خان کی زندگی ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ اصل قیادت خدمت، نگرانی اور انصاف کے جذبے سے عبارت ہوتی ہے، نہ کہ محض عہدے اور اختیار سے۔

اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ ان کی آخرت آسان فرمائے، انہیں جنت الفردوس کے اعلیٰ درجات عطا کرے اور ان کی نیکیوں کو ان کے لیے صدقۂ جاریہ بنا دے۔ آمین۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے