جوہر میر زندگی، صحافت اور ادب کا حسین امتزاج

جوہر میر کا شمار اُن ممتاز صحافیوں، دانشوروں اور شاعروں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی تحریروں، تجزیوں اور فکر و فن کے ذریعے پاکستان کے علمی، ادبی اور سیاسی منظرنامے پر انمٹ نقوش چھوڑے۔ وہ نہ صرف ادبی دنیا میں اپنی بصیرت اور شعری جمالیات کے لیے جانے جاتے ہیں بلکہ سیاسی شعور اور عوامی مسائل پر بے باک اظہار کے باعث بھی نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ وہ ایک ایسی شخصیت تھے جن کی شناخت کئی جہتوں پر محیط تھی۔ ایک طرف وہ صحافت کے میدان میں سچائی اور آزادیٔ اظہار کے علمبردار تھے تو دوسری طرف شاعری میں انسانی کرب، شناخت اور جلاوطنی کے موضوعات کو نہایت خوبصورتی سے بیان کرتے تھے۔ ان کی زندگی الفاظ کی طاقت کا منہ بولتا ثبوت تھی، خواہ وہ الفاظ خبر کی صورت میں ہوں یا شعر کی شکل میں۔

جوہر میر، جن کا اصل نام میر قربان علی تھا، 1938ء میں پشاور کی سرزمین پر پیدا ہوئے۔ وہ اُس دبستانِ پشاور کے فرزند تھے جس نے اردو ادب کو احمد فراز، محسن احسان اور خاطر غزنوی جیسے درخشاں ستارے عطا کیے۔ فارغ بخاری، رضا ہمندانی اور ضیاء جعفری جیسے اساتذہ کی رہنمائی نے ان کے اندر انقلابی فکر اور شعری جمالیات کو پروان چڑھایا۔ یوں جوہر میر نے اپنے عہد کے دکھوں اور خوابوں کو لفظوں میں ڈھال کر ایک ایسی میراث چھوڑی جو آج بھی ادب اور سیاست دونوں میں روشنی کا چراغ ہے۔

جوہر میر کا خاندان محبت اور ہم آہنگی کی ایک خوبصورت تصویر ہے۔ اس سب کے مرکز میں ان کی شریکِ حیات وزیر فاطمہ ہیں، جن کی موجودگی گھر کو محبت اور سکون کا گہوارہ بناتی ہے۔ ان کے بڑے صاحبزادے میر عرفان علی ذمہ داری کے ساتھ گھر کی رہنمائی کرتے ہیں، جبکہ چھوٹے صاحبزادے میر رضوان علی اپنی خوش مزاجی سے ماحول کو روشن رکھتے ہیں۔ بیٹی معصومہ میر اپنی نرمی اور محبت سے خاندان میں حسن کا اضافہ کرتی ہیں۔

جوہر میر نے اپنا صحافتی سفر اُس دور میں شروع کیا جب پاکستان میں آزاد صحافت کو شدید مشکلات کا سامنا تھا۔ انہوں نے ابتدا میں ڈیلی انجم اور بعد ازاں جنگ گروپ جیسے معتبر اداروں میں کام کیا، جہاں ان کی صلاحیتیں نمایاں ہو کر سامنے آئیں۔ بعد ازاں وہ کشمیر کے معروف انگریزی اخبار گریٹر کشمیر سے بطور سینئر ایڈیٹر وابستہ رہے، جہاں ان کے کالم اور مضامین حکومتی پالیسیوں اور علاقائی امور پر گہرے تجزیے پیش کرتے تھے۔ ان کی صحافت کی سب سے بڑی خوبی ان کا متوازن اور غیر جانبدارانہ انداز تھا، جو حقائق پر مبنی تجزیے کے ساتھ عوامی شعور کو بیدار کرنے کا ذریعہ بنتا۔ وہ مسلسل مساوات، الفلاح اور اخبارِ جہاں جیسے معتبر جرائد میں سیاسی موضوعات پر لکھتے رہے، اور ان کی تحریریں نہ صرف حالاتِ حاضرہ کی گہری بصیرت کی عکاس تھیں بلکہ معاشرتی انصاف کے تقاضوں کو بھی اجاگر کرتی تھیں۔ اخباری صحافت کے ساتھ ساتھ وہ الیکٹرانک میڈیا میں بھی متحرک رہے، جہاں ٹیلی ویژن مباحثوں میں ان کا سوال کرنے والا مگر شائستہ انداز نمایاں ہوتا تھا۔ ان کے مضامین میں سیاسی تجزیہ، سماجی تنقید اور ادبی جمالیات کا حسین امتزاج ملتا ہے، جو قارئین کو تاریخ اور سیاست کے باہمی ربط کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

جنرل ضیاء الحق کے مارشل لا کے سیاہ دور میں، جب صحافت پر پابندیاں عائد کی گئیں اور اختلافی آوازوں کو خاموش کرنے کی کوشش کی گئی، تو جوہر میر جیسے بے باک اور حق گو دانشوروں کے لیے وطن کی فضائیں تنگ ہو گئیں۔ ایسے میں انہوں نے ہجرت کا کٹھن فیصلہ کیا اور امریکہ جا بسے، جہاں نیویارک ان کا مسکن بنا۔ یہ جلاوطنی بظاہر مصائب اور تنہائی کا سبب تھی، مگر دراصل اس نے ان کی شخصیت کو ایک نئی جہت عطا کی۔ پردیس کی زمین پر وہ ایک بین الاقوامی دانشور کے طور پر ابھرے، جن کی تحریروں میں وطن کی یاد، انسانی کرب اور سیاسی شعور کی گونج اور بھی گہری ہو گئی۔ ان کی ہجرت محض جغرافیائی تبدیلی نہ تھی، بلکہ ایک فکری سفر تھا جس نے ان کے قلم کو مزید تیز اور ان کے کلام کو مزید اثر انگیز بنا دیا۔

جنرل ضیاء الحق کی موت پر لکھی گئی ان کی نظم ان کے مزاحمتی ادب کی عمدہ مثال ہے

اور جہاز اُس کے گناہوں کا بوجھ اٹھا نہ سکا،

فضا میں لرزتے پرچم نے خاموشی سے کہا۔

زمین نے سسکی لی، آسمان نے آنکھیں بند کر لیں،

تاریخ کے اوراق نے ایک باب کو دفن کر لیا۔

اقتدار کے زینے پر چڑھنے والے قدم،

انجام کے صحرا میں تنہا رہ گئے۔

جہاز کی راہ میں صرف دھواں باقی رہا،

اور وقت نے اعلان کیا

گناہوں کا بوجھ کبھی پرواز نہیں کر سکتا۔

جنرل ضیاء الحق کی موت پر جوہر میر کی لکھی گئی نظم ان کے مزاحمتی ادب کی ایک درخشاں مثال ہے، جس میں جہاز کے حادثے کو ظلم اور اقتدار کی ناپائیداری کا استعارہ بنایا گیا۔ نظم کے ہر مصرعے میں احتجاج، انصاف کی طلب اور وقت کے بے رحم فیصلے کی بازگشت سنائی دیتی ہے، اور یوں یہ محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک علامتی بیانیہ بن جاتی ہے جو یہ پیغام دیتی ہے کہ ظلم اور گناہ کبھی دیرپا نہیں ہوتے اور وقت کی عدالت میں ہر طاقتور کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔ یہ نظم نہ صرف ایک تاریخی لمحے کی یادگار ہے بلکہ مزاحمتی ادب کی روایت میں سنگِ میل کی حیثیت رکھتی ہے، جو آنے والی نسلوں کو یہ سبق دیتی ہے کہ سچائی اور انصاف کی آواز کبھی خاموش نہیں کی جا سکتی۔

جوہر میر کی ادبی خدمات زیادہ تر مضامین، کالموں اور ادبی نشستوں کی صورت میں سامنے آئیں، جو معتبر جرائد میں شائع ہوتے رہے اور فکری گہرائی و سیاسی بصیرت کا آئینہ دار بنے۔ وہ محض ایک صحافی نہیں تھے بلکہ ایک حساس شاعر اور گہرے دانشور بھی تھے، جن کی شخصیت کئی جہتوں پر محیط تھی۔ جلاوطنی نے ان کی فکر کو ایک نئی جہت عطا کی اور انہیں ایک بین الاقوامی دانشور کے طور پر ابھارا۔ نیویارک میں انہوں نے نہ صرف اردو ادب اور صحافت کو فروغ دیا بلکہ 1996 میں حلقۂ اربابِ ذوق کی بنیاد رکھ کر اردو زبان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے میں سنگِ میل کردار ادا کیا؛ اس پلیٹ فارم کے تحت مشاعرے، عالمی اردو فیسٹیول اور ادبی نشستیں منعقد ہوئیں جنہوں نے دنیا بھر کے شعرا اور ادیبوں کو یکجا کیا۔ ان کی شاعری میں جلاوطنی، شناخت اور انسانی وجود کے سوالات نمایاں ہیں، جہاں مشرق و مغرب کے تجربات نے ایک نئی جمالیات کو جنم دیا، اور ان کے کلام میں درد، محبت اور تلاشِ معنی کی جھلک ملتی ہے۔ ساتھ ہی وہ معتبر جرائد میں سیاسی تجزیے اور سماجی انصاف پر مبنی مضامین لکھتے رہے، جن میں ظلم کے خلاف احتجاج، عوامی شعور کی بیداری اور ادبی جمالیات کا حسین امتزاج ملتا ہے۔ یوں جوہر میر کی زندگی اور قلم اس یقین کا زندہ ثبوت رہے کہ لفظ، چاہے نثر میں ہوں یا نظم میں، دنیا کو بدلنے کی طاقت رکھتے ہیں۔

ماہنامہ زاویہ ایک معتبر ادبی و فکری رسالہ تھا جس کی ادارت جوہر میر کے پاس تھی۔ یہ رسالہ اردو ادب اور فکری مباحث کے لیے ایک نیا پلیٹ فارم ثابت ہوا، جہاں ادبی جمالیات اور سیاسی شعور کو یکجا کیا گیا۔ زاویہ کی مجلسِ مشاورت میں شوکت صدیقی، منو بھائی، شباب قازمی، ڈاکٹر امجد حسین اور صوفی مشتاق جیسے نامور ادیب شامل تھے، جنہوں نے اس کے فکری رخ کو متعین کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ نائب مدیر کے فرائض اشرف میاں نے انجام دیے، جبکہ کمپوزنگ اور ڈیزائننگ فوکس کمپوزنگ سینٹر کراچی کے ذمے تھی۔ نیویارک سے زاویہ پبلی کیشنز کے تحت اس کی اشاعت جاری رہی، اور یوں یہ رسالہ محض ایک ادبی جریدہ نہیں بلکہ ایک تحریک کی صورت اختیار کر گیا، جس نے اردو زبان کو عالمی سطح پر متعارف کرانے اور فکری مباحث کو زندہ رکھنے میں سنگِ میل کردار ادا کیا۔

دسمبر 2004ء میں نیویارک میں جوہر میر کا انتقال ہوا، وہ پھیپھڑوں کے کینسر میں مبتلا تھے۔ اپنی وصیت کے مطابق ان کی میت کو پشاور لے جایا گیا جہاں انہیں سپردِ خاک کیا گیا، اور یوں ان کی زندگی کا سفر وطن کی مٹی میں مکمل ہوا۔ ان کی وفات پر صحافتی اور ادبی حلقوں میں غم کی لہر دوڑ گئی، مگر ان کی یاد اور خدمات آج بھی زندہ ہیں۔جوہر میر کے الفاظ آج بھی یہ یاد دلاتے ہیں کہ لفظوں کی طاقت کو کبھی کم نہ سمجھا جائے، کیونکہ یہی الفاظ معاشروں کی تشکیل کرتے ہیں اور تہذیبوں کو زندہ رکھتے ہیں۔

اللہ تعالیٰ جوہر میر کی مغفرت فرمائے، ان کے درجات بلند کرے اور ان کی ادبی و صحافتی میراث کو آنے والی نسلوں کے لیے روشنی کا چراغ بنائے۔

خراجِ تحسین (نظم)

وہ ایک نام ہے جوہر میر کا

روشنی ہے سخن کے تقدیر کا

قلم سے لکھی انقلاب کی داستان

نہ ڈرے کبھی طوفاں سے طوفان میں

کشمیر کی دھرتی نے جنم دیا

پہاڑوں جیسا استقامت دیا

نیویارک کی سرزمین پہ بھی

وہی بوئے وطن، وہی تھی خوشبو

صحافت کو بخشی نئی راہیں

سوالوں سے کھولے کئی گواہیاں

شاعری میں بسائی نئی دنیا

شناخت، کرب اور جلاوطنی کا سفر

وہ چلے گئے تو اداس ہے فضا

مگر زندہ ہے ان کی ہر صدا

جوہر میر تھا اک چراغِ سخن

جلے گا یہ دیپ صدیوں تک، وطن

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے