ہم مڈل کلاس لوگوں کے سینکڑوں المیے ہوتے ہیں۔ ہم انہیں المیوں میں زندگی گزار کر ایک دن موت کا رزق بن جاتے ہیں۔
ہم جب پیدا ہوتے ہیں تو ہمارے والدین کو چار پانچ سال تک یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ بچے کو اچھا سوٹ، اچھی دوا اور مناسب صحت کے لیے کیا کیا جائے۔ ایک عام گھر کے والدین کے لیے بچے کی معمولی سی بیماری بھی پریشانیوں کا ایک نیا باب کھول دیتی ہے۔ وہ اپنی محدود آمدنی کے باوجود یہ چاہتے ہیں کہ ان کا بچہ صحت مند، صاف ستھرا اور خوش حال نظر آئے۔
پھر پانچ سال کی عمر آتے ہی ایک اور فکر ان کے دل و دماغ پر قابض ہو جاتی ہے۔
بچے کی بہتر سے بہتر تعلیم کا بندوبست کیسے کیا جائے؟
انہیں غموں میں ہم جیسے لوگوں کے والدین کڑھ کڑھ کر جی رہے ہوتے ہیں۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ ان کے بچے بہترین سکولوں اور کالجوں میں تعلیم حاصل کریں، وہ بھی کسی بڑے شہر کے کسی معیاری ادارے میں پڑھیں، لیکن حالات، وسائل اور مجبوریوں کی زنجیریں انہیں ایسا کرنے سے روک دیتی ہیں۔
یوں وقت گزرتا ہے اور یہی بچے جب جوان ہوتے ہیں تو انہیں اچھے روزگار اور اچھے رشتے کی فکر لاحق ہو جاتی ہے۔ یہ فکر صرف ان نوجوانوں ہی کو نہیں بلکہ ان کے والدین کو بھی مسلسل بے چین رکھتی ہے۔ کئی سال اسی کشمکش میں گزر جاتے ہیں۔ نوجوان اچھی ملازمت کے لیے تیاری کرنا چاہتے ہیں، امتحانات دینا چاہتے ہیں، آگے بڑھنا چاہتے ہیں، مگر حالات ایسے ہوتے ہیں کہ وہ پوری طرح تیاری بھی نہیں کر پاتے۔
اگر وہ کاروبار کرنے کا ارادہ کریں تو سرمایہ آڑے آجاتا ہے، تجربہ کم پڑ جاتا ہے، اور معاشرے کے پیچیدہ نظام کی دیواریں ان کے راستے میں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ کبھی قرض کا بوجھ، کبھی مہنگائی کا طوفان، اور کبھی قسمت کی بے رخی ان کے حوصلوں کو آزمانے لگتی ہے۔
پھر اگر کسی طرح تھوڑا بہت کاروبار چل پڑے یا کوئی معمولی سی ملازمت مل جائے تو یہی نوجوان آہستہ آہستہ اپنے والدین کی طرح اسی دائرے میں گھومنے لگتے ہیں۔ زندگی کا پہیہ وہیں آکر رک سا جاتا ہے جہاں سے ان کے والدین نے سفر شروع کیا تھا۔
ہم اچھی سی گاڑی خریدنا چاہتے ہیں لیکن لالے پڑ جاتے ہیں۔ مکان بنانے کا خواب دیکھتے ہیں تو وسائل کا کچومر نکل جاتا ہے۔ معاشرے کے بالائی طبقے کے ساتھ قدم ملانے کی کوشش کرتے ہیں مگر ہمارے قدم بار بار لڑکھڑا جاتے ہیں۔
ہم دنیا دنیا گھومناچاہتے ہیں لیکن عملا ایسا مشکل ہوجاتا ہے۔ ہم اپنی فیلڈ میں کارنامہ انجام دینا چاہتے ہیں لیکن کوئی راہ سجھائی نہیں دیتی، ہم لوگ اگر کسی طرح کسی اچھی منزل پر پہنچ جائیں تو اپنے ہی لوگوں یعنی ماتحت اور مڈل کلاس لوگوں کا استحصال شروع کر دیتے ہیں۔
اعلیٰ تعلیم کا سوچیں تو دس طرح کی رکاوٹیں سامنے آ کھڑی ہوتی ہیں۔ کوئی بڑا وژنری کام کرنے کا خیال آئے تو راستہ کہیں نہ کہیں رک سا جاتا ہے۔ ہم دین کا کام بھی کرنا چاہتے ہیں، مذہب ہمارے مزاج کا حصہ بھی بنتا ہے، مگر وہاں بھی ہمیں خاطر خواہ جگہ نہیں ملتی۔
یوں محسوس ہوتا ہے کہ ہم جیسے لوگ زندگی کے ایک ایسے دائرے میں بند ہیں جس سے باہر نکلنے کے دروازے بہت کم اور بہت تنگ ہیں۔ ہم خواب بھی دیکھتے ہیں، جدوجہد بھی کرتے ہیں، لیکن اکثر ہمارے خواب محدود وسائل اور سخت زمینی حقیقتوں کے درمیان کہیں الجھ کر رہ جاتے ہیں۔ ہم دوسروں کو خوش کرتے کرتے خود اتنا ناخوش ہوجاتے ہیں کہ زندگی معمہ سی بن جاتی ہے۔ اور پھر کڑی سچ یہ ہے کہ ہم سے کوئی خوش بھی نہیں ہوتا، ہم اپنی خواہشات اور خوشیوں کے لیے اپنی مال و دولت، عہدہ و طاقت اور علم و ہنر کا بھی بے دریغ استعمال کرتے ہیں لیکن ہماری خواہشات اور خوشیاں مکمل نہیں ہوپاتی۔
غرض ہم جیسے لوگوں کو پچاس ساٹھ سال اسی طرح کولہو کے بیل کی طرح گزارنے ہوتے ہیں۔ صبح سے شام تک محنت، فکر، امید اور مایوسی کے درمیان جھولتے رہتے ہیں۔ ہم المیوں میں ززندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ ہماری خوشیاں بھی المیوں کی نذر ہوجاتی ہیں۔ ہم عہدہ اور دولت بھی انجوائے نہیں کرسکتے، ہماری شادی بیاہ اور گھریلو زندگی بھی انہی المیوں کا شکار ہوجاتی ہیں۔
ہم sober بننے کی ایکٹنگ ضرور کرتے ہیں لیکن ایسا ممکن نہیں ہوتا ہے۔ متانت اور سنجیدگی ہمارے دور سے بھی نہیں گزرتی ، جو لوگ بظاہر اس کا ایکٹنگ کرتے ہیں، بخدا اندر سے وہ بہت کھوکھلے ہوتے ہیں، ان کی ساری سنجیدگی آرٹفیشل ہوتی ہے، وہ اسی مصنوعی پن میں کڑھ کڑھ کر جی رہے ہوتے ہیں اور مزید المیے جنم دیتے ہیں۔ اور سب سے بڑی سچ یہ ہے کہ ہم اپنے بارے سچ جاننا ، بتانا اور سننا پسند بھی نہیں کرتے۔
پھر ایک دن اچانک زندگی کی یہ مشقت بھری دوڑ ختم ہو جاتی ہے اور وہی ہوتا ہے جو عموماً ہوتا ہے۔ ہم خاموشی سے اس دنیا سے رخصت ہو جاتے ہیں، اپنے پیچھے وہی ادھورے خواب، وہی فکر اور وہی مڈل کلاس زندگی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چھوڑ کر۔ بہت کم لوگ، ہزاروں میں ایک، کڑھتے کڑھتے ان المیوں سے نکل بھی جاتے ہیں، لیکن نکلتے نکلتے جسم سے جان بھی نکل جاتی ہے۔ بس ہم ایسے ہی ہوتے ہیں۔
ہم مڈل کلاس لوگوں کی زندگی میں بے شمار فکری، معاشی اور سماجی اور گھریلو مسائل ہوتے ہیں۔ محدود وسائل، بڑھتی ضروریات، ذمہ داریوں کا بوجھ اور مستقبل کی بے یقینی اکثر ہمیں پریشانی اور اضطراب میں مبتلا کر دیتی ہے۔ ایسے حالات میں قرآن کریم ہمیں امید، صبر اور توکل کا راستہ دکھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں "وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا، وَيَرْزُقْهُ مِنْ حَيْثُ لَا يَحْتَسِبُ” (سورۃالطلاق: 2-3)
یعنی جو شخص اللہ کے لیے تقویٰ اختیار کرتا ہے اللہ اس کے لیے مشکلات اور المیوں سے نکلنے کا راستہ پیدا کر دیتا ہے اور اسے ایسی جگہ سے رزق حلال عطا کرتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔ اللہ کے اس فرمان میں واضح پیغام ہے کہ تقویٰ، صبر اور اللہ پر بھروسہ انسان کے بڑے سے بڑے مسائل کا حل پیدا کر دیتا ہے۔
رسول اللہ کی پوری زندگی ہمارے لیے مشعل راہ ہے، آپ صل اللہ علیہ والہ سلم کا فرمان ملاحظہ کیجئے،
"وَمَنْ يَتَصَبَّرْ يُصَبِّرْهُ اللَّهُ، وَمَا أُعْطِيَ أَحَدٌ عَطَاءً خَيْرًا وَأَوْسَعَ مِنَ الصَّبْرِ” (بخاری، 1469)
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، جو شخص صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے اللہ اسے صبر عطا فرما دیتا ہے، اور کسی شخص کو صبر سے بہتر اور وسیع تر عطیہ نہیں دیا گیا۔
رسول اللہ کا یہ فرمان خاص طور پر معاشی تنگی، ذمہ داریوں اور زندگی کے دباؤ کا سامنا کرنے والے ہم جیسے کروڈوں لوگوں کے لیے بڑی رہنمائی فراہم کرتا ہے۔
طمانیت ملتی ہے اور ناامیدی ٹوٹ جاتی ہے اور زندگی جینے کا دل کرتا ہے۔
حدیث کی مشہور کتاب صحیح مسلم میں آتا ہے "عجبًا لأمر المؤمن إن أمره كله له خير” (حدیث:2999) یعنی مومن کا معاملہ عجیب ہے کہ اس کا ہر حال اس کے لیے خیر ہی خیر ہے، اگر اسے خوشحالی ملے تو شکر کرتا ہے اور اگر مصیبت آئے تو صبر کرتا ہے، اور یہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں۔
گویا قرآن و سنت ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ زندگی کی تنگیوں اور المیوں کا اصل حل اللہ سے تعلق مضبوط کرنے، صبر، شکر، محنت و جہد مسلسل اور توکل اختیار کرنے میں ہے۔