ایپسٹین فائلز، ایران جنگ اور بدلتی عالمی سیاست

ٹرمپ کو امریکی عوام نے امریکہ کی ترقی اور استحکام کے لیے منتخب کیا تھا لیکن ایپسٹین فائلز منظرِ عام پر آنے کے بعد ٹرمپ کا ایک مکروہ چہرہ دنیا کے سامنے آ گیا۔ ایسے وقت میں ایران کے خلاف جنگ کو بعض حلقے ٹرمپ کی سیاسی مشکلات سے توجہ ہٹانے کی کوشش بھی قرار دے رہے ہیں۔ ناقدین کے مطابق جب داخلی دباؤ بڑھتا ہے تو بڑی طاقتیں اکثر بیرونی محاذ کھول کر سیاسی بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ایران کی تاریخ ہزاروں برس پر محیط ہے اور اس تاریخ میں ایک بات واضح نظر آتی ہے کہ ایرانی قوم نے کبھی غلامی قبول نہیں کی۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی بیرونی طاقتوں نے ایران کو دبانے کی کوشش کی تو وہاں صرف ایک فرد نہیں بلکہ پورا نظام اور پوری قوم مزاحمت کے لیے کھڑی ہو گئی۔

سید علی خامنہ ای کی قیادت میں ایران نے نہ صرف داخلی طور پر ایک مضبوط سیاسی و مذہبی نظام قائم رکھا بلکہ خطے میں بھی اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کی کوشش کی۔ لبنان میں حزب اللہ، شام میں بشار الاسد حکومت کی حمایت اور یمن میں حوثی تحریک کے ساتھ تعلقات کو اسی پالیسی کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایران کو خطے میں امریکہ اور اسرائیل کے لیے ایک بڑی رکاوٹ تصور کیا جاتا ہے۔

سید علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد بھی حالات جس سمت جا رہے ہیں اس سے “رجیم چینج” کا امکان نظر نہیں آتا۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ایران میں اختیار کسی ایک فرد کے ہاتھ میں نہیں ہوتا کہ اسے ہٹا کر پورا نظام بدل جائے۔ وہاں ایک مکمل سیاسی و مذہبی ڈھانچہ موجود ہے جس میں اہم فیصلے باقاعدہ ادارے اور کونسلیں کرتی ہیں اور یہی ادارے اگلے رہبر کا انتخاب بھی کرتے ہیں۔

اسی لیے ایران کی جنگی حکمت عملی بھی شخصیات کے بجائے نظام کے تحت طے ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کسی ایک شخصیت کی شہادت یا تبدیلی سے پالیسی میں فوری نرمی یا تبدیلی کی توقع کم ہے۔

ایران کے ساتھ جنگ کے اثرات اب صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہے بلکہ اس کے اثرات اسرائیلی معیشت پر بھی پڑنے لگے ہیں۔ چند ماہ پہلے تک اسرائیل یہ دعویٰ کرتا تھا کہ اسے کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور کوئی اس کے خلاف آواز تک نہیں اٹھا سکتا لیکن ایران نے اس تصور کو چیلنج کر دیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی قیادت کو تیزی سے ختم کیا جا رہا ہے اور ایران میں جو بھی نیا لیڈر بننے کی کوشش کرتا ہے اسے مار دیا جاتا ہے۔

ویسے تو ٹرمپ اور اسرائیل پہلے بھی ایران کے خلاف سخت موقف اختیار کرتے رہے ہیں۔ ایران عالمی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ مذاکرات کر رہا تھا لیکن اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ٹرمپ کو ایران کے خلاف سخت کارروائی پر ٹريپ کیا جس کے بعد حالات جنگ کی طرف بڑھ گئے۔

ٹرمپ کا خیال تھا کہ ایک محدود حملے سے ایران کا نظام کمزور ہو جائے گا یا شاید رجیم چینج کی راہ ہموار ہو جائے گی لیکن یہ اندازہ درست ثابت نہیں ہوا۔ ایران کی مزاحمت نے اس تصور کو مات دے دی۔

ان حالات میں مشرقِ وسطیٰ امریکہ اور اسرائیل کی پالیسیوں کے باعث ایک نئی کشیدگی کا شکار ہے۔ تاہم سعودی عرب نے نسبتاً محتاط پالیسی اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ اس کی سرزمین ایران کے خلاف استعمال نہیں ہونے دی جائے گی۔

ديکها جائے تو مشرقِ وسطیٰ کی بیشتر تیل سے مالا مال ریاستیں آسمان کو چھوتی ہوئی بلند عمارتیں تو تعمیر کرتی رہیں مگر اپنے دفاع کے لیے سائنسی ترقی پر وہ توجہ نہ دے سکیں جو وقت کی ضرورت تھی۔ اسی وجہ سے ان کی سلامتی کا بڑا دارومدار امریکہ پر رہا۔ تاہم سعودی عرب نے نسبتاً مختلف راستہ اختیار کرتے ہوئے ایٹمی طاقت پاکستان کے ساتھ دفاعی تعاون کو مضبوط بنایا۔ یہ بھی ايک حقيقت ہے کہ مشکل حالات میں پاکستان سعودی عرب کو تنہا نہیں چھوڑے گا۔ اسی پس منظر میں پاکستان کی جانب سے ایران کو یہ پیغام دیا گیا کہ سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دفاعی معاهدے موجود ہیں لہٰذا خطے میں ایسا کوئی قدم نہ اٹھایا جائے جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دے۔

دوسری طرف روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل خلیجی ریاستوں کو ایران کے خلاف براہِ راست جنگ میں شامل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس حوالے سے مزید حقائق سامنے آ سکتے ہیں۔

روسی وزیر خارجہ کی معلومات سچ پر مبنی ہیں کيونکہ بعض امریکی مذہبی انتہا پسند سیاستدان اس جنگ کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش بھی کر رہے ہیں تاکہ یورپ کو اس میں شامل کیا جا سکے حالانکہ حقیقت میں اس تنازع کے پس منظر میں خطے کے وسائل اور جغرافیائی مفادات زیادہ اہم نظر آتے ہیں۔

ايران نے آبنائے ہرمز کو بند کر کے عالمی معيشت کی صورتحال کو مزید پيچيده بنا ډيا ہے جس کی وجہ سے امريکہ دوسرے عيسائی ممالک کو جنگ کی آگ میں دهکيلنا چاہتا ہے کيونکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے اثرات عالمی منڈیوں اور عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں۔

اور تو اور ايک امریکی صحافی ٹکر کارلسن نے بھی ایک ممکنہ خطرناک سازش کی نشاندہی کی ہے جس کے مطابق مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کسی بڑے واقعے کو بنیاد بنا کر خطے کو مزید بڑے تصادم کی طرف دھکیلا جا سکتا ہے۔

اسرائیلی معاشرے میں جنگی حالات کے باعث بے چینی اتنی بڑھ رہی ہے کہ ایک اسرائیلی فوجی کے الفاظ اس کی مایوسی کی عکاسی کرتے ہیں جس نے کہا:
"جنگ بہت ہو چکی اب نيتن ياہو سے جنگ کرتے ہیں میرے تمام دوست مارے جا چکے ہیں۔”حقیقت یہ ہے کہ جنگیں صرف ہتھیاروں سے نہیں جیتی جاتیں بلکہ سیاست اور عوامی عزم بھی ان کے نتائج طے کرتے ہیں۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ خطے میں مسلسل کشیدگی اور تنازعات کا سب سے زیادہ فائدہ عالمی اسلحہ ساز صنعت کو ہوتا ہے۔ جب کوئی خطہ عدم استحکام کا شکار ہوتا ہے تو اسلحے کی خرید و فروخت میں تیزی آ جاتی ہے اور بڑی طاقتیں اپنے اقتصادی اور اسٹریٹجک مفادات کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔ اسی لیے ایک طاقتور اور جارحانہ ایران کو مستقل خطرے کے طور پر پیش کرنا بھی بعض عالمی طاقتوں کے مفادات سے خالی نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں اسلحہ خریدنے کی ایک دوڑ سی لگی رہتی ہے۔ اگر دیکھا جائے تو ایران کے ممکنہ حملوں کے خدشے نے عرب ممالک میں بے چینی اور خوف کو بڑھا دیا ہے جس کا براہِ راست فائدہ امریکہ کو پہنچتا ہے کیونکہ پھر وہ انہی ممالک کو اپنا اسلحہ پہلے سے بھی زياده مہنگے داموں فروخت کرے گا۔

ان تمام عوامل کے پس منظر میں یہ سوال سب کے سامنے آتا ہے کہ خطے کے ممالک کس طرح ایسے مستقبل کی بنیاد رکھ سکتے ہیں جو نہ صرف ایران بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے لیے استحکام اور ترقی کا ضامن ہو۔ اگر ممالک دانشمندی سے آگے بڑھیں تو ایران کو صرف خطرے کے طور پر نہیں بلکہ ایک ذمہ دار ہمسایہ کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے، جو خطے کے سیاسی توازن، اقتصادی ترقی اور سلامتی میں مثبت کردار ادا کرے۔ یہی واحد راستہ ہے جو نہ صرف خطے کے امن کے لیے بلکہ خود ایران کے مفاد میں بھی سودمند ثابت ہو سکتا ہے۔

ٹرمپ کی پالیسیوں نے جہاں مشرقِ وسطیٰ کو مزید غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے وہیں عالمی سیاست میں نئے بلاکس بننے کے امکانات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ چین اور روس پہلے ہی خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ اگر آنے والے دنوں میں عالمی طاقتیں نئے اتحاد تشکیل دیتی ہیں تو ممکن ہے کہ دنیا ایک نئے عالمی نظام کی طرف بڑھے جہاں طاقت کا توازن بدل جائے۔

تاریخ ہمیں بار بار یہ سبق دیتی ہے کہ طاقت کے نشے میں لیے گئے فیصلے وقتی برتری تو دے سکتے ہیں لیکن قوموں کی مزاحمت، تاریخ اور خودی کے سامنے بڑی بڑی سلطنتیں بھی زیادہ دیر قائم نہیں رہتیں۔ ایسے میں دانشمندی کا تقاضا یہی ہے کہ عالمی طاقتیں تصادم کی بجائے مذاکرات اور سفارت کاری کو ترجیح دیں۔ جنگ کسی مسئلے کا مستقل حل نہیں ہوتی بلکہ اکثر نئے بحرانوں کو جنم دیتی ہے۔ اگر حالات کو سنبھالا نہ گیا تو یہ کشیدگی ایک ایسے تصادم میں تبدیل ہو سکتی ہے جس کے اثرات آنے والی نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے