رمضان المبارک کا مقدس مہینہ اپنی تمام تر برکتوں اور رحمتوں کے ساتھ سایہ فگن ہے، لیکن اس بار پاکستانیوں کے لیے یہ مبارک گھڑیاں ایک کڑی معاشی آزمائش بن کر آئی ہیں۔ حکومتِ وقت نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں 55، 55 روپے فی لٹر کا ایسا ’پٹرول بم‘ گرایا کہ ہر طرف دہائی مچ گئی۔ یہ اضافہ محض ایک معاشی فیصلہ نہیں، بلکہ غریب کی کمر توڑنے والا وہ تازیانہ ہے جس نے سحر و افطار کی خوشیوں کو گرانی کے بوجھ تلے دبا دیا ہے۔ کالم نگاری کے اس سفر میں ہم نے کئی اتار چڑھاؤ دیکھے، مگر رمضان جیسے مقدس مہینے میں عوام کو اس قدر بے یار و مددگار چھوڑ دینے کی مثال کم ہی ملتی ہے۔
حکومتی وزراء پریس کانفرنسوں میں بڑی معصومیت سے فرماتے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ کی کشیدگی، ایران پر حملے اور عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باعث یہ ’کڑوی گولی‘ نگلنا ناگزیر تھا۔ بلاشبہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں 106 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی ہیں، لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان میں پٹرول پر عائد بھاری ٹیکسز کا بوجھ بھی عالمی مارکیٹ کا مرہونِ منت ہے؟ موجودہ پٹرولیم لیوی، جو اب ریکارڈ سطح پر ہے، اس بات کا ثبوت ہے کہ حکومت عوامی ریلیف کے بجائے اپنے مالیاتی خسارے کو غریب کی جیب سے پورا کرنے کی پالیسی پر گامزن ہے۔ جب عوام پہلے ہی بجلی کے بھاری بھرکم بلوں اور اشیائے ضروریہ کی آسمان چھوتی قیمتوں سے پریشان ہیں، تو کیا اس مقدس مہینے میں ٹیکسوں میں تھوڑی کمی کر کے انہیں سانس لینے کا موقع نہیں دیا جا سکتا تھا؟
پٹرول کی قیمت میں اضافے کا مطلب صرف گاڑیوں کا ایندھن مہنگا ہونا نہیں ہے۔ معاشیات کا سادہ سا اصول ہے کہ ڈیزل مہنگا ہوتے ہی ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں فوری اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان میں مال برداری کا زیادہ تر انحصار سڑکوں پر ہے، لہٰذا جب ٹرکوں کے کرائے بڑھتے ہیں تو منڈی میں آنے والی سبزیوں، پھلوں، آٹے اور چینی کی قیمتیں بھی خود بخود اوپر چلی جاتی ہیں۔ ایک عام آدمی، جو سارا دن روزہ رکھ کر شام کو افطاری کے لیے بازار نکلتا ہے، اسے معلوم ہوتا ہے کہ پٹرول کی قیمت کی آڑ میں منڈی کا ہر سودا اس کی پہنچ سے باہر ہو چکا ہے۔ یہ کیسی ستم ظریفی ہے کہ جس مہینے میں دسترخوان وسیع ہونے چاہیے تھے، وہاں سفید پوش طبقہ اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے بازار جانے سے کترانے لگا ہے۔ کیا حکمرانوں کو احساس ہے کہ ایک مزدور جو دن بھر دھوپ میں مزدوری کرتا ہے، وہ شام کو اپنے بچوں کے لیے آدھا کلو کھجوریں خریدنے سے پہلے کتنی بار اپنی خالی جیب ٹٹولتا ہوگا؟
اس فیصلے کی قانونی حیثیت کو بھی لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جا چکا ہے۔ درخواست گزاروں کا یہ نکتہ انتہائی وزن رکھتا ہے کہ جب ملک میں پہلے سے موجود پٹرولیم اسٹاک کم قیمت پر خریدا گیا تھا، تو نئی قیمتوں کا اطلاق یکدم کیوں کیا گیا؟ یہ سراسر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کے زمرے میں آتا ہے، جس کی سرپرستی کا الزام اب ریاست پر لگ رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں بھی شدید ارتعاش پایا جاتا ہے، جہاں اپوزیشن جماعتیں اسے آئی ایم ایف (IMF) کی شرائط کی اندھی تقلید قرار دے رہی ہیں۔ عوام یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ کیا آئی ایم ایف کی ہر شرط صرف غریب کے لیے ہے؟ کیا اشرافیہ کی مراعات، شاہانہ پروٹوکول اور مفت پٹرول کی سہولیات پر کوئی کٹ نہیں لگ سکتا؟
پاکستان اس وقت خطے میں پٹرولیم مصنوعات فروخت کرنے والا مہنگا ترین ملک بن چکا ہے۔ ایک طرف وہ طبقہ ہے جس کے ایئرکنڈیشنڈ کمروں میں مہنگائی کی تپش نہیں پہنچتی، اور دوسری طرف وہ سفید پوش ہے جو موٹر سائیکل میں ایک لٹر پٹرول ڈلوانے کے لیے اپنی خوراک میں کٹوتی کرتا ہے۔ یہ تضاد صرف معاشی نہیں بلکہ اخلاقی بھی ہے۔ رمضان کا مہینہ تو ایثار سکھاتا ہے، مگر ہماری پالیسیاں ’غریب مکاؤ‘ مہم کا منظر پیش کر رہی ہیں۔ جب ریاست اپنی ذمہ داریوں سے منہ موڑ لیتی ہے، تو معاشرے میں جرائم اور مایوسی کی لہر دوڑ جاتی ہے۔ اس وقت ضرورت اس امر کی تھی کہ رمضان پیکج کے ذریعے عوام کو ریلیف دیا جاتا، مگر یہاں تو ریلیف کے بجائے ’تکلیف‘ کا سامان کر دیا گیا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب عوام کی سسکیاں اور آہیں ایوانوں کی دیواروں سے ٹکرا کر واپس آنے لگتی ہیں، تو پھر نظام میں ایسی دراڑیں پڑتی ہیں جنہیں کوئی قرضہ یا مالیاتی فارمولا نہیں بھر سکتا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر پٹرولیم لیوی میں کمی کا اعلان کرے، کم از کم عید تک قیمتوں کو منجمد رکھا جائے اور ٹرانسپورٹرز کو کرائے بڑھانے سے روکا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ، بیوروکریسی اور وزراء کو ملنے والا مفت پٹرول فی الفور بند کیا جائے تاکہ عوام کو یہ احساس تو ہو کہ مشکل وقت میں ان کے حکمران بھی ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ریاست کو اب ‘ماں’ کا کردار ادا کرنا ہوگا، کیونکہ فاقہ زدہ اور پریشان حال عوام سے عبادات کی یکسوئی کی امید رکھنا مشکل ہے۔ اگر اب بھی ہوش کے ناخن نہ لیے گئے، تو مہنگائی کا یہ جن سماجی ڈھانچے کو نگل جائے گا۔