اسلام آباد کی مصروف اور قدرے خاموش فضا میں اچانک ایک پیغام نے ذہن میں ہلچل پیدا کر دی۔ شہاب بھائی کا پیغام تھا کہ 8 مارچ کو پشاور میں پلاں ہوٹل میں ایک افطاری پروگرام رکھا گیا ہے اور مجھے بھی اس میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے
اگلے ہی دن آفاق سے بات ہوئی۔ اس نے بے ساختہ پوچھ لیا
یار پشاور سے کوئی انوائٹیشن تو نہیں آئی؟
اس لمحے میرے ذہن میں ایک عجیب سی کشمکش پیدا ہو گئی۔ سوچ رہا تھا کہ شہاب بھائی والی بات بتاؤں یا نہ بتاؤں مگر آفاق نے زیادہ دیر مجھے اس الجھن میں نہیں رکھا اور بات صاف ہو گئی۔ چنانچہ طے ہوا کہ 7 مارچ کو پشاور جانا ہے۔
یوں میں اسلام آباد سے پشاور روانہ ہوا اور آفاق کے ہاں قیام کیا۔ اگلے دن، یعنی 8 مارچ کو ہم دونوں افطاری پروگرام کے لیے روانہ ہوئے۔ راستے میں ہماری علی عمران بھائی سے بھی مسلسل بات چیت جاری تھی، اور پھر اچانک راستے میں شہاب بھائی بھی مل گئے۔ یوں ہم سب ایک ہی قافلے کی صورت میں وینیو تک پہنچ گئے۔
گیٹ پر کچھ دیر انتظار کے بعد ہم اندر داخل ہوئے۔ اندر کا منظر نہایت دلکش تھا درختوں پر لگی روشنیاں سلیقے سے سجی کرسیاں اور خوبصورت سجاوٹ ایک خوشگوار ماحول پیدا کر رہی تھیں
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ آج شاید نئے لوگوں سے ملاقات ہوگی نئی پہچانیں بنیں گی اور اچھی خاصی نیٹ ورکنگ ہو جائے گی۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ وہاں موجود زیادہ تر چہرے اجنبی نہیں بلکہ وہی دوست تھے جو سمر کیمپ میں ساتھ رہے تھے، اور ان میں سے اکثر Pakistan U.S. Alumni Network کے ممبر تھے۔
اس وقت تک مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ یہ پروگرام کس نے منعقد کیا ہے۔ بعد میں پتا چلا کہ یہ دراصل PUAN کی طرف سے تھا جس کا مکمل مخفف بھی مجھے اس وقت تک معلوم نہیں تھا۔
ہم سب دوست کافی عرصے بعد ایک جگہ جمع ہوئے۔ میں علی عمران بھائی کے ساتھ بیٹھ گیا اور حال احوال پوچھنے لگے۔ آفاق کا انداز ہمیشہ کی طرح مصروف تھا وہ کبھی کسی سے مل رہا تھا اور کبھی اپنی ایک خاص ڈیوٹی میں مصروف تھا۔
یہ وہی ڈیوٹی تھی جو اکثر بغیر کسی باضابطہ حکم نامے کے اس کے ذمے آ جاتی ہے
خوبصورت تصاویر لینا ویڈیوز بنانا، پھر رات بھر بیٹھ کر انہیں ایڈٹ کرنا اور اگلے دن سب کو بھیجنا۔
اور سچ تو یہ ہے کہ لوگ بھی اس کے ان شاہکاروں کا بے صبری سے انتظار کرتے ہیں تاکہ فوراً انہیں اپنے اسٹیٹس پر لگا کر رقیبوں کو دکھا سکیں۔
خیر، ہم PLF والے دوست ایک ہی میز کے گرد جمع ہو گئے۔ پہلے افطار کیا پھر کھانے کا انتظام کیا گیا تھا۔ ہر کوئی اپنی اپنی پلیٹ لے کر کھانے میں مصروف ہو گیا۔ مگر آفاق کی ڈیوٹی بدستور جاری تھی
جب میں کھانا کھا چکا تو میں نے آفاق سے کہا
ذرا اپنی ڈیوٹی کچھ لمحوں کے لیے مجھے دے دو، تم بھی کھانا کھا لو۔
اس نے ہلکے سے گلہ کیا
جب تم کھا چکے ہو تب ہی میری یاد آئی ہے؟
میں نے ہنستے ہوئے کچھ تصاویر اور شارٹس بنا لیں اور پھر مغرب کی نماز ادا کرنے چلا گیا۔
نماز کے بعد دوبارہ محفل میں آ بیٹھا اور دوستوں کے ساتھ گپ شپ کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ کافی عرصے بعد عبدالرحمن سر سے ملاقات ہوئی۔ وہ اکثر پشاور میں نہیں ہوتے، اس لیے پہلے ملاقات نہیں ہو سکی تھی۔ مگر اس روز وہ ماشاءاللہ ویسے ہی ہیرو اور پُر سمارٹ لگ رہے تھے جیسے PLF اور سمر کیمپ کے دنوں میں نظر آتے تھے۔
اسی دوران ندا شمس سے بھی ملاقات ہوئی جو AC ہیں۔ سمر کیمپ کے بعد انہیں دیکھ کر واقعی خوشی ہوئی۔ اسی طرح ای کامرس کی ماہر نایاب سے بھی ملاقات نصیب ہوئی۔
یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے سمر کیمپ کے بکھرے ہوئے چہرے ایک بار پھر اسی شام میں اکٹھے ہو گئے ہوں۔
آخر میں سب نے مل کر گروپ فوٹو بنائی۔ اس کے بعد میں، آفاق، شہاب بھائی اور نعمان بھائی مفکورہ چلے گئے جہاں روغانی بابا سے ملاقات ہوئی۔ وہاں سے ہم بلنہ ہٹ گئے اور کچھ دیر وہاں بیٹھ کر باتیں کرتے رہے۔
بعد ازاں میں اور آفاق پشاور یونیورسٹی پہنچے۔ اندر کسی گراؤنڈ میں جشنِ نوروز کی تقریب جاری تھی۔ ماحول خوشگوار اور زندگی سے بھرپور تھا۔
اس کے بعد میرا ارادہ تھا کہ ہریرہ اور مبشر بھائی سے ملاقات ہو جائے۔ ہریرہ سے تو ملاقات نہ ہو سکی، مگر مبشر بھائی سے ملاقات ہو گئی۔
آخرکار جب میں کمرے میں واپس آیا تو حمزہ مشوانی کے ساتھ بیٹھنے کا موقع ملا۔ وہ قانون کے طالب علم ہیں، مگر میں نے ہمیشہ محسوس کیا ہے کہ ان کی گفتگو اور تجربات سے بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے۔
یوں وہ شام صرف ایک افطاری پروگرام نہیں رہی بلکہ یادوں ملاقاتوں اور سیکھنے کے کئی لمحوں سے بھرپور ایک خوبصورت داستان بن گئی۔