میں ابھی کل ہی چاچا کیدو کے پاس بیٹھا تھا۔چاچا کیدو خالق نگر کا وہ کردار ہے جس کی آنکھوں نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک کے تمام ”انقلابات” دیکھے ہیں۔
وہ حقے کا لمبا کش لگا رہا تھا، لیکن اس بار دھوئیں میں وہ پرانی گھن گرج نہیں تھی۔ میں نے خاموشی توڑنے کے لیے پوچھا، ”چاچا! کیا حال ہے؟” اس نے ایک سرد آہ بھری اور بولا، پتر! حال اب صرف فائل کے اس صفحے پر اچھا لگتا ہے جس پر سرکاری افسر دستخط کرتا ہے، عام آدمی کی جیب میں تو اب صرف ماتم رہ گیا ہے
۔
میں نے اسے بہلانے کے لیے پنجابی کے معروف شاعر عبدالستار عاجزصاحب کی کتاب ”پریتاں“ کا تذکرہ چھیڑ دیا۔میں نے کہا، چاچا! عاجز صاحب نے کیا خوب صورت ”پریتاں“ (محبتیں) نبھانے کی بات کی ہے، ان کی شاعری تو روح کو سکون دیتی ہے،چاچا کیدو نے حقے کی نلکی ایک طرف رکھی، میری طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا پتر! عبدالستار عاجز نے جب ”پریتاں“ لکھی تھی، تب آٹے اور چینی کے دام سن کر دل نہیں ڈوبتا تھا۔اس نے ایک توقف کیا اور پھر ایک ایسی بات کہی جو مجھے اندر تک ہلا گئی۔ بولا، ستارعاجز صاحب نے تو محبت کے گیت گائے تھے، مگر آج کا غریب تو صرف بجلی کے بل کے مرثیے گا رہا ہے۔
آپ ذرا حالات کا موازنہ کیجیے۔ آج آٹا، چینی، دالیں اور پیٹرول غریب کی پہنچ سے اتنے دور ہو چکے ہیں کہ اب ”پریت“ نبھانا ایک عیاشی بن گیا ہے۔ عبدالستار عاجز نے اپنی شاعری میں جس سماجی سچائی اور انسانی درد کا ذکر کیا، آج وہ درد مہنگائی کے تازیانے میں بدل چکا ہے۔ عاجز صاحب کا وہ شعر جو آج ہر ایک کی آواز بن چکا ہے، میرے کانوں میں گونجنے لگا:
سبھ ویلے دیاں گلاں سجناں چنگاں کدی تے مندا
دنیا کسے وی سمجھ نہ آئی ایہہ اک گورکھ دھندا
لوکی تینوں موڈے چاکے ہرتھاں تیرے جھنڈے لاون
عاجزتینوں خبر ہے ساری اندروں توں ویں گندا
چاچا کیدو کہنے لگا، پتر! جب گھر میں بچہ بھوک سے رو رہا ہو، تو عبدالستار عاجز کی ”پریتاں“ یاد نہیں آتی، صرف روٹی کی گولائی نظر آتی ہے۔کیا ہم نے کبھی سوچا کہ ہم کس طرف جا رہے ہیں؟ ہمارے حکمران روزانہ ٹی وی پر آ کر معیشت کی بہتری کے دعوے کرتے ہیں، لیکن کیا ان دعوؤں سے چاچا کیدو کے گھر کا چولہا جل سکتا ہے؟ کیا اعداد و شمار کی یہ جادوگری اس غریب کی جیب میں سو کا نوٹ واپس لا سکتی ہے جس کی قدر اب ردی کے کاغذ سے زیادہ نہیں رہی؟
عبدالستار عاجز نے جس سماجی بے حسی کا رونا رویا تھا، آج وہ عروج پر ہے۔ انہوں نے کیا خوب کہا تھا:
تگڑے دے سبھ قول نے سچے ماڑا تھرتھرکمبے
راتیں جیہڑے چگہے پھولن گزاوہناں دے لمبے
سبھ ویلے دیاں گلاں عاجزویلا کدہتھ آوندا اے
ہن کیوں ایویں ترلے پاویں ہن تے آپ پروہنے ساں
مگر افسوس! آج کی تلخ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے ”پریتاں“ کو بازار میں نیلام کر دیا ہے۔ ہم ایک ایسے معاشرے میں تبدیل ہو چکے ہیں جہاں انسان کی قدر اس کے اخلاق سے نہیں، بلکہ اس کے بجلی کے بل بھرنے کی سکت سے لگائی جاتی ہے۔ سفید پوش طبقہ ایڑیاں رگڑ رہا ہے، متوسط طبقہ ختم ہو چکا ہے اور غریب صرف اس انتظار میں ہے کہ شاید کل کا سورج کوئی سستی روٹی کی خبر لے کر آئے۔میں چاچا کیدو کے پاس سے اٹھ کر واپس آ رہا تھا تو میرے ذہن میں عاجز صاحب کا وہ کلام گونج رہا تھا۔ کاش! ہمارے اربابِ اختیار ایک لمحے کے لیے فائلوں سے باہر نکلیں اور چاچا کیدو جیسے کروڑوں پاکستانیوں کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں۔
انہیں وہاں ”پریتاں“نہیں، صرف مہنگائی کا خوف نظر آئے گا۔ اور جب خوف حد سے بڑھ جائے، تو پھر محبت کی کتابیں لائبریریوں میں دھول چاٹنے لگتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ
کیہ دساں میں دنیا داری کیہ نیں ایس دیاں ریتاں
میں تے وچ پریتاں ایتھے چم نوں لٹ دے ویکھے نیں ۔