خلیجی بحران اور واپس آنے والے پاکستانیوں کے لئے چیلنجز یا مواقع؟

اکیسویں صدی کے آغاز میں متحدہ عرب امارات کو مشرقِ وسطیٰ کی سب سے بڑی معاشی کامیابیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ دبئی اور ابوظہبی کے بلند و بالا ٹاورز، عالمی معیار کے ہوائی اڈے اور اربوں ڈالر کی رئیل اسٹیٹ سرمایہ کاری اس بات کی علامت بن گئے تھے کہ صحرا میں بھی عالمی مالیاتی سلطنت کھڑی کی جا سکتی ہے۔ دنیا بھر کے سرمایہ کاروں، کاروباری شخصیات اور دولت مند طبقات نے اپنی دولت کا ایک بڑا حصہ اس خطے میں منتقل کیا۔ مگر آج مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جنگی کشیدگی نے اس چمکتے ہوئے معاشی ماڈل کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔

ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان جاری کشیدگی نے پورے خلیجی خطے کو غیر یقینی صورتحال میں دھکیل دیا ہے۔ اگرچہ متحدہ عرب امارات اس جنگ کا براہِ راست میدان نہیں بنا، مگر حقیقت یہ ہے کہ خلیج کی معیشتیں ایک دوسرے سے اس قدر جڑی ہوئی ہیں کہ جنگ کی آگ کسی ایک سرحد تک محدود نہیں رہ سکتی۔ ہوائی راستوں میں خطرات، سمندری تجارت میں رکاوٹیں اور سرمایہ کاروں کے اعتماد میں کمی وہ عوامل ہیں جو کسی بھی عالمی تجارتی مرکز کو چند مہینوں میں کمزور کر سکتے ہیں۔

متحدہ عرب امارات کی معیشت کی سب سے بڑی طاقت اس کا عالمی سرمایہ تھا، مگر یہی طاقت اس کی سب سے بڑی کمزوری بھی بن سکتی ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دبئی کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں دنیا بھر سے آنے والی دولت کا سیلاب آیا۔ اس دولت کا ایک بڑا حصہ قانونی سرمایہ کاری کا تھا، لیکن ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ کئی ممالک کے بااثر افراد، سیاست دانوں اور کاروباری شخصیات نے اپنی پوشیدہ دولت کو بھی اسی شہر میں منتقل کیا۔ دبئی کی لگژری عمارتیں اور پرتعیش رہائشی منصوبے دراصل عالمی دولت کے ایسے خزانے بن گئے جہاں اربوں ڈالر محفوظ سمجھے جاتے تھے۔

پاکستان بھی ان ممالک میں شامل ہے جہاں سے بڑی مقدار میں سرمایہ متحدہ عرب امارات منتقل ہوا۔ پاکستانی سرمایہ کاروں، تاجروں اور بعض سیاسی شخصیات نے دبئی میں جائیدادیں خریدیں اور کاروبار قائم کیے۔ پاکستان کے اندر سیاسی عدم استحکام، کرپشن اور معاشی غیر یقینی نے بہت سے لوگوں کو مجبور کیا کہ وہ اپنی دولت کو بیرونِ ملک منتقل کریں۔ دبئی اس مقصد کے لیے سب سے آسان اور قریب ترین منزل تھا۔

لیکن اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر خلیج کا خطہ تیز جنگی کشیدگی کی لپیٹ میں آتا ہے تو اس کا سب سے زیادہ اثر کس پر پڑے گا۔ اس کا سیدھا جواب یہ ہے کہ اس کے اثرات نہ صرف متحدہ عرب امارات بلکہ پاکستان جیسے ممالک پر بھی شدید ہوں گے۔ پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور کمزور زرمبادلہ کے ذخائر کا شکار ہے۔ خلیج میں جونہی جنگ نے طول اختیار کیا تواس کا سب سے پہلا اثر تیل، پٹرول اور تقریباً استعمال کی ہر شے کی قیمتوں میں اضافے کی صورت میں سامنے آچکا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شامل ہے جو بڑی مقدار میں تیل درآمد کرتے ہیں۔ خلیج میں کسی بھی جنگی صورتحال کا مطلب عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کا تیزی سے بڑھنا ہے۔ اس کا براہِ راست اثر پاکستان میں پٹرول، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات پر پڑے گا۔ جب توانائی مہنگی ہوتی ہے تو اس کے اثرات پوری معیشت پر پھیل جاتے ہیں۔ صنعتوں کی پیداوار کم ہو جاتی ہے، اشیائے خورد و نوش کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں اور عام آدمی کی زندگی مزید مشکل ہو جاتی ہے۔

اس کے ساتھ ساتھ ایک اور خطرہ بھی پاکستان کے سامنے کھڑا ہو سکتا ہے۔ خلیجی ممالک میں لاکھوں پاکستانی روزگار کے لیے مقیم ہیں۔ اگر جنگی کشیدگی یا معاشی سست روی کے باعث وہاں کاروبار متاثر ہوتے ہیں تو سب سے پہلے غیر ملکی مزدور متاثر ہوتے ہیں۔ ایسی صورت میں بڑی تعداد میں پاکستانی وطن واپس آ سکتے ہیں۔ اگر پاکستان پہلے ہی بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار ہو تو اتنی بڑی تعداد میں واپس آنے والے افراد کو روزگار فراہم کرنا ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔

لیکن اسی صورتحال میں ایک موقع بھی پوشیدہ ہے۔ اگر پاکستان اپنی معاشی پالیسیوں کو بہتر بنائے تو بیرونِ ملک سے واپس آنے والے پاکستانیوں کے تجربے اور سرمائے کو ملکی ترقی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ زرعی شعبہ پاکستان کی معیشت کی بنیاد ہے مگر بدقسمتی سے ابھی تک جدید ٹیکنالوجی اور سرمایہ کاری کی کمی کا شکار ہے۔ اگر بیرونِ ملک سے آنے والے سرمایہ کار اس شعبے میں سرمایہ لگائیں تو فوڈ پروسیسنگ، ڈیری فارمنگ اور زرعی برآمدات میں بڑی ترقی ممکن ہے۔

اسی طرح انفارمیشن ٹیکنالوجی کا شعبہ پاکستان کے لیے ایک بڑی امید بن کر ابھر رہا ہے۔ فری لانسنگ، سافٹ ویئر ڈویلپمنٹ اور ڈیجیٹل کاروبار ایسے میدان ہیں جہاں کم سرمائے سے بھی بڑی کامیابیاں حاصل کی جا سکتی ہیں۔ بیرونِ ملک کام کرنے والے پاکستانی نوجوان اس شعبے میں مہارت رکھتے ہیں اور اگر انہیں ملک کے اندر مواقع فراہم کیے جائیں تو وہ نہ صرف خود روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ ہزاروں نئی ملازمتیں بھی پیدا کر سکتے ہیں۔

پاکستان کے پاس سیاحت کے میدان میں بھی بے شمار مواقع موجود ہیں۔ شمالی علاقہ جات کی قدرتی خوبصورتی، تاریخی ورثہ اور ثقافتی تنوع دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کر سکتا ہے۔ اگر حکومت اس شعبے میں بنیادی ڈھانچے کو بہتر بنائے تو ہوٹلنگ، ٹریول سروسز اور مقامی کاروبار میں بڑی ترقی ممکن ہے اگر سیکیورٹی اور سرمائے محفوظ ہونے کی حکومتی گارنٹی ہو؟
لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے تیار ہے؟ اگر معاشی پالیسیوں میں سنجیدگی نہ آئی، سرمایہ کاروں کو اعتماد نہ ملا اور کاروباری ماحول بہتر نہ بنایا گیا تو بیرونِ ملک سے واپس آنے والا سرمایہ بھی ضائع ہو سکتا ہے۔

موجودہ عالمی صورتحال ایک سخت حقیقت کی یاد دہانی ہے۔ جنگیں صرف میدانِ جنگ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ معیشتوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہیں۔ اگر خلیج میں کشیدگی مذید بڑھتی ہے تو اس کا اثر نہ صرف دبئی کی چمکتی ہوئی عمارتوں پر پڑے گا بلکہ پاکستان جیسے ممالک کے گھروں کے چولہوں تک محسوس کیا جائے گا۔

یہی وہ لمحہ ہے جب پاکستان کو فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ صرف عالمی بحرانوں کا شکار بنتا رہے گا یا اپنی معاشی حکمتِ عملی کو مضبوط بنا کر انہیں مواقع میں بدلنے کی صلاحیت پیدا کرے گا۔ کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ عالمی سیاست کے طوفان ہمیشہ کمزور معیشتوں کو سب سے پہلے نشانہ بناتے ہیں۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے