اسلام آباد: دھرنوں کی سیاست، کارکنوں کے جذبات کا استحصال اور اذیت میں گھرا عام آدمی

پرسوں رات ساڑھے بارہ بجے دھرنا ختم ہو گیا مگر ایک بار پھر عام آدمی یہی سوچتا رہ گیا کہ اس شور شرابے اور سیاسی کشمکش کا حاصل کیا نکلا؟

ہر بار کی طرح اس مرتبہ بھی نوجوانوں کے جذبات کو بھڑکا کر کارکنوں کو قافلوں کی صورت میں اسلام آباد لایا گیا اور پھر وہی مناظر دہرائے گئے جن سے عوام برسوں سے گزر رہے ہیں۔ یہ لوگ شاید وفاقی دارالحکومت کو پشاور کے باچا خان چوک کی طرح سمجھتے ہیں کہ جب چاہا بند کر دیا اور جب چاہا کھول دیا۔

کل علیمہ خانم اور وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کی پریس کانفرنس اپنی جگہ مگر سوال اب بھی وہی ہے کہ ان دھرنوں اور نعروں نے عوام کو آخر دیا کیا ہے؟ سیاستدان اپنے بیانات دے کر چلے جاتے ہیں جبکہ اذیت صرف عام آدمی برداشت کرتا ہے۔

مجھے آج بھی یاد ہے کہ بچپن میں جماعتِ اسلامی کا “تکبیر” رسالہ پڑھنے کو ملا تھا جس میں مرحوم قاضی حسین احمد کے دھرنے کی تصاویر دیکھی تھیں۔ اُس وقت دھرنے کا مطلب سمجھ نہیں آتا تھا، مگر وقت کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں دھرنا ایک مستقل روایت بنتا چلا گیا۔ پھر 2014 میں ڈی چوک کا طویل دھرنا آیا جہاں دن کو خاموشی اور رات کو میلے کا سماں ہوتا تھا۔ لوگ رات بھر رقص، موسیقی اور سیاسی نعروں میں مصروف رہتے جبکہ ملک سیاسی بے یقینی کا شکار ہوتا گیا۔ شاید اُس وقت کسی نے نہیں سوچا تھا کہ یہی دھرنا آئندہ چل کر ایک مستقل سیاسی ہتھیار بن جائے گا۔

رفتہ رفتہ دھرنا ایک ایسی روایت میں بدل گیا جس میں ہر مسئلے کا حل سڑکیں بند کرنا اور عوام کی زندگی اجیرن بنانا سمجھا جانے لگا۔ راستے بند، کاروبار مفلوج، مزدور بے روزگار، طلبہ پریشان اور مریض ایمبولینسوں میں زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا دکھائی دینے لگے۔ کئی مریض بروقت اسپتال نہ پہنچ سکے اور علاج نہ ملنے کے باعث جان کی بازی ہار گئے۔ سیاستدانوں کے لیے یہ سب محض حکمتِ عملی ہو سکتی ہے، مگر عام آدمی کے لیے یہ روزگار، سکون اور زندگی کا مسئلہ ہے۔ ایک احتجاج پورے شہر کی سانسیں روک دیتا ہے، مگر اس تکلیف کا احساس شاید کسی کو نہیں ہوتا۔

خیبر پختونخوا کے عوام کو کبھی علی امین گنڈاپور کے نعروں پر اسلام آباد لایا جاتا ہے اور کبھی بشریٰ بی بی کی اپیل پر قافلے نکل پڑتے ہیں۔ نتیجتاً اسلام آباد بند، داخلی راستوں پر کنٹینروں کی قطاریں اور امن و امان کے لیے اضافی نفری طلب کی جاتی ہے۔ ایک طرف حکومت اپنی رِٹ قائم رکھنے کی کوشش کرتی ہے اور دوسری طرف کارکن اسے سیاسی انتقام قرار دیتے ہیں، مگر اس پوری کشمکش کا سب سے زیادہ نقصان اُس عام شہری کو ہوتا ہے جس کا سیاست سے براہِ راست کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لوگ گھنٹوں راستوں میں پھنسے رہتے ہیں اور پورا شہر بے یقینی میں ڈوب جاتا ہے۔

کارکنوں اور پولیس کے درمیان تلخ کلامی، ہاتھا پائی، شیلنگ اور پتھراؤ ایسے مناظر پیدا کرتے ہیں جیسے کوئی میدانِ جنگ سجا ہو۔ میڈیا لمحہ بہ لمحہ “بریکنگ نیوز” چلاتا ہے اور ٹی وی چینلز اس منظر کو سنسنی خیز تماشے میں بدل دیتے ہیں۔ کہیں آنسو گیس کی شیلنگ ہو رہی ہوتی ہے اور کہیں نوجوان جذباتی نعروں میں اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال رہے ہوتے ہیں۔ سیاستدان بیانات دیتے ہیں، مگر جو نوجوان زخمی یا جاں بحق ہوتے ہیں، اُن کے گھروں میں بچھنے والی صفِ ماتم کا درد پسِ منظر میں چلا جاتا ہے۔

کبھی ہوائی فائرنگ، کبھی مشتعل کارکن اور کبھی کوئی خوفزدہ اہلکار اپنی جان بچانے کی خاطر فائرنگ کر دیتا ہے جس کے نتیجے میں قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں۔ کسی کا بیٹا، کسی کا بھائی اور کسی کا باپ ہمیشہ کے لیے جدا ہو جاتا ہے، جبکہ سیاسی قیادت اسے “قربانی” اور “جدوجہد” کا نام دیتی رہتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ آخر کب تک نوجوانوں کی زندگیاں سیاسی جنگوں کی نذر ہوتی رہیں گی؟ سیاستدان محفوظ رہتے ہیں مگر نقصان ہمیشہ کارکن اور اُس کے خاندان کا ہوتا ہے۔

خیبر پختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی ایک بار پھر کارکنوں کو قافلوں کی صورت میں اسلام آباد لے آئے، جس کے نتیجے میں موٹروے اور جی ٹی روڈ کئی مقامات پر بند رہے۔ سری نگر ہائی وے کی حالت میں نے اپنی آنکھوں سے دیکھی جہاں سینکڑوں گاڑیاں لمبی قطاروں میں پھنسی ہوئی تھیں۔ ایمبولینسوں کے سائرن مسلسل بج رہے تھے، بیمار تڑپ رہے تھے، مگر راستے بند تھے اور دوسری جانب سیاسی قیادت کارکنوں کے درمیان کھڑی تھی۔ ایک طرف نعرے تھے اور دوسری طرف زندگی اور موت سے لڑتے مریض یہی وہ منظر تھا جس نے اس احتجاجی سیاست پر کئی سوالات کھڑے کر دیے۔

کل خوش قسمتی سے میں اپنی گاڑی گھر چھوڑ کر دوست کی موٹر سائیکل پر اسلام آباد گیا تھا، ورنہ شاید گھنٹوں انہی قطاروں میں پھنسا رہتا۔ بڑی مشکل سے اسلام آباد چوک سے جی 13 کی گلیوں کے راستے پشاور روڈ تک پہنچا۔ ہر طرف بے بسی، پریشانی اور غصے کی کیفیت دکھائی دے رہی تھی۔ بچے گاڑیوں میں رو رہے تھے، بزرگ تھکن سے نڈھال تھے اور مریض بے بسی کی تصویر بنے ہوئے تھے۔ اُس وقت محسوس ہوا کہ سیاسی فیصلے کرنے والوں اور سڑکوں پر اذیت سہنے والوں کے درمیان کتنا بڑا فرق ہے۔

رات گئے ویڈیوز موصول ہوئیں کہ کئی کارکن زخمی ہو گئے۔ پھر خبریں آئیں کہ بیرسٹر گوہر سہیل آفریدی کے پاس کسی حکومتی پیشکش کے ساتھ آئے مگر اُسے مسترد کر دیا گیا۔ بعد ازاں اعلان کیا گیا کہ اگلے دن پریس کانفرنس میں آئندہ کا لائحہ عمل دیا جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ اگر انجام کار پریس کانفرنس ہی کرنا تھی تو پھر اتنا ہنگامہ اور کشیدگی کیوں پیدا کی گئی؟ عوام اب نعروں سے زیادہ عملی ذمہ داری دیکھنا چاہتے ہیں۔

ستم ظریفی یہ ہے کہ لیڈر اڈیالہ جیل میں ہوتے ہیں اور کارکن سڑکوں پر لاوارث کھڑے رہ جاتے ہیں۔ وزراء اور سیاسی چہرے اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کے لیے کارکنوں کے جذبات استعمال کرتے ہیں اور پھر منظر سے غائب ہو جاتے ہیں۔ آخر میں سڑکوں پر صرف ٹوٹی گاڑیاں، زخمی کارکن اور مایوسی میں ڈوبے نوجوان باقی رہ جاتے ہیں۔ یہی کارکن گرفتار ہوتے ہیں، مقدمات بھگتتے ہیں اور اپنی زندگیاں داؤ پر لگا دیتے ہیں جبکہ قیادت محفوظ مقامات پر بیٹھی اگلی حکمتِ عملی ترتیب دے رہی ہوتی ہے۔

اس سے بھی زیادہ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ عوام کے ٹیکس کے پیسوں سے سرکاری و نجی مشینری کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے، جو نہ صرف اخلاقی سوال اٹھاتا ہے بلکہ آئینی بحث کو بھی جنم دیتا ہے۔ عوام ٹیکس اس لیے دیتے ہیں کہ اُنہیں تعلیم، صحت، روزگار اور تحفظ فراہم کیا جائے، نہ کہ سیاسی طاقت کے مظاہرے کیے جائیں۔ مگر بدقسمتی سے عوامی وسائل اکثر سیاسی جنگوں میں جھونک دیے جاتے ہیں، جس سے بے چینی میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

اگر حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جائے تو ان دھرنوں، جلوسوں اور احتجاجی سیاست سے کبھی کوئی دیرپا تبدیلی نہیں آئی۔ مقدمات عدالتوں میں چل رہے ہیں اور قانونی راستہ موجود ہے۔ اگر مضبوط دلائل اور آئینی طریقے سے جنگ لڑی جائے تو انصاف حاصل کیا جا سکتا ہے، مگر ہمارے ہاں ہر مسئلے کا حل سڑکوں پر تلاش کیا جاتا ہے جس کا بوجھ صرف عوام اٹھاتے ہیں۔ احتجاج وقتی دباؤ تو پیدا کرتا ہے مگر مستقل حل فراہم نہیں کرتا۔

آخر کیوں معصوم نوجوانوں کے جذبات بھڑکا کر عوام کو ذہنی اذیت، خوف اور بے یقینی میں مبتلا کیا جاتا ہے؟ کیوں ایک مزدور کی دیہاڑی، ایک مریض کی جان، ایک طالب علم کا مستقبل اور ایک عام شہری کا سکون سیاست کی نذر کر دیا جاتا ہے؟ اگر سیاست واقعی عوامی خدمت کا نام ہے تو پھر عوام ہی سب سے زیادہ پریشان کیوں ہیں؟ لوگ اب صرف نعروں سے نہیں بلکہ عملی نتائج سے مطمئن ہونا چاہتے ہیں۔

سیاست اگر شعور، خدمت اور تدبر کا نام ہے تو پھر اس شور، تصادم اور انتشار میں عوامی بھلائی کہاں دکھائی دیتی ہے؟ اگر ہر چند ماہ بعد سڑکیں بند ہوں گی، شہر مفلوج ہوں گے اور نوجوان زخمی ہوتے رہیں گے تو اس ملک میں استحکام کیسے آئے گا؟ پاکستان پہلے ہی معاشی مشکلات، بے روزگاری اور سیاسی عدم استحکام کا شکار ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ سیاسی جماعتیں سڑکوں کے بجائے پارلیمان، عدالتوں اور مذاکرات کی سیاست کو فروغ دیں تاکہ اس ملک کا عام آدمی بھی سکون کا سانس لے سکے۔

Facebook
Twitter
LinkedIn
Print
Email
WhatsApp

Never miss any important news. Subscribe to our newsletter.

مزید تحاریر

آئی بی سی فیس بک پرفالو کریں

تجزیے و تبصرے